
واٹر کارپوریشن واٹر ٹینکرز کے ذریعے واٹر ہائیڈرنٹس سے کتنا کماتی ہے؟
!
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) نے پانی کی ترسیل کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لا کر نہ صرف شفافیت کو یقینی بنایا ہے بلکہ اپنی آمدنی میں بھی قابلِ ذکر اضافہ کیا ہے۔ کچھ سال پہلے تک کے ڈبلیو ایس سی کے ہائیڈرنٹس سے پانی بھرنے والے ٹینکرز کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہیں ہوتا تھا، نہ ہی ان کی رجسٹریشن اور نمبرنگ کا کوئی نظام تھا۔ پانی کی فروخت اور آمدنی کا شفاف حساب نہ ہونے کی وجہ سے بے ضابطگیاں عام تھیں۔
تاہم، گزشتہ چند سالوں میں کے ڈبلیو ایس سی نے ایک جدید ہائیڈرنٹ مینجمنٹ سینٹر قائم کیا، جس کے بعد پانی کی ترسیل کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو گیا۔ اب ہر ٹینکر رجسٹرڈ اور نمبرڈ ہے، اور ہر بار پانی بھرنے پر ڈیجیٹل ٹوکن جاری کیا جاتا ہے، جس میں پانی کی مقدار، قیمت اور خریدار کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، سندھ رینجرز کے تعاون سے غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور کنکشنز کے خلاف کارروائی نے بھی آمدنی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آمدنی میں تاریخی اضافہ
کے ڈبلیو ایس سی کی ویب سائٹ اور دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق، جولائی 2022 سے مئی 2023 تک کے ڈبلیو ایس سی کے ساتھ سرکاری ہائیڈرنٹس سے کل آمدنی 997.7 ملین روپے تھی، جو جولائی 2023 سے مئی 2024 تک بڑھ کر 1.66 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ انہی اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے، کے ڈبلیو ایس سی کے سابق ایم ڈی سی ای او رضا نے بتایا کہ ہائیڈرنٹ فروخت سے آمدنی مالی سال 2022-23 میں 977 ملین روپے سے بڑھ کر 2023-24 میں 1.234 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو ایک ریکارڈ ہے۔
68 فیصد اضافے کی وجوہات
13 جون 2024 کو جاری ہونے والے ایک بیان میں، کے ڈبلیو ایس سی کے ہائیڈرنٹ سیل انچارج نے بتایا کہ ہائیڈرنٹ مینجمنٹ سینٹر کے قیام کے بعد آمدنی میں 68 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، جولائی 2022 سے جون 2023 تک کے ڈبلیو ایس سی کے ہائیڈرنٹس سے 256,527 ٹینکر آرڈرز پر 302 ملین گیلن پانی فراہم کیا گیا، جبکہ جولائی 2023 سے جون 2024 تک یہ تعداد بڑھ کر 376,520 ٹینکر آرڈرز اور 486 ملین گیلن پانی تک پہنچ گئی۔ اس طرح ٹینکر آرڈرز میں 68 فیصد اور پانی کی فراہمی میں 62 فیصد اضافہ ہوا۔
ڈیجیٹل اقدامات کی تعریف
کے ڈبلیو ایس سی کے جدید نظام نے نہ صرف شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا ہے بلکہ اسے بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ انہوں نے شہریوں کو صاف، کلورینیٹڈ اور آسانی سے دستیاب پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا، جو ہائیڈرنٹ مینجمنٹ سینٹر کا بنیادی مقصد تھا۔
نتیجہ: شفافیت اور بہتری
اب کے ڈبلیو ایس سی کے تمام ہائیڈرنٹس کا ڈیجیٹل نظام سے مکمل طور پر جڑ جانے کے بعد نہ صرف آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ مفت یا رعایتی ٹینکرز کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اب تمام شہریوں اور خریداروں کے لیے ایک ہی قیمت لاگو کی جاتی ہے، جس سے ایک شفاف اور منصفانہ نظام قائم ہوا ہے۔ یہ اصلاحات کے ڈبلیو ایس سی کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔























