آج صبح سکردو اور گلگت کے درمیان گنجی پڑی کے قریب دریائے سندھ کے کنارے گاڑی ملی، بڑی مشکل سے چاروں مرحومین کی میتوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔
گجرات سے تعلق رکھنے والے 4 دوست سیاحت کے دوران گلگت سے سکردو جاتے ہوئے گاڑی سمیت 16 مئی کو لاپتہ ہوئے، آج صبح سکردو اور گلگت کے درمیان گنجی پڑی کے قریب دریائے سندھ کے کنارے گاڑی ملی، بڑی مشکل سے چاروں مرحومین کی میتوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔
یہ سانحہ نہ صرف لواحقین بلکہ ہر فرد کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے، اللہ مرحومین کی کامل مغفرت اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
گلگت بلتستان کے سفر کے دوران مقامی گاڑی، سفر کو محفوظ بنانے کے تمام ضروری اقدام اور راستے میں جگہ قائم چوکیوں میں حکام کو آگاہ رکھنا ضروری ہے۔
======================

TO THE NORTH
Syed Skhawat ·
سیاح حضرت کے لیے ایک اہم پیغام
اگر آپ اپنی گاڑی میں گلگت بلتستان کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ایک بات ضرور ذہن نشین کر لیں: یہ خطہ جتنا خوبصورت ہے، اس کے راستے اتنے ہی پیچیدہ اور خطرناک بھی ہیں۔ یہاں کی سڑکیں صرف وہی شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے جو ان راستوں کو اپنی ہتھیلی کی لکیروں کی طرح جانتا ہو۔

اکثر سیاح تھوڑے سے پیسے بچانے کے لیے خود ڈرائیو کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ ایسے فیصلوں نے قیمتی جانیں چھین لیں۔ حالیہ دنوں میں گجرات سے تعلق رکھنے والے چار نوجوانوں کا حادثہ اس کی ایک دردناک مثال ہے، جن کی گاڑی حادثے کے بعد کئی دنوں تک نہیں مل سکی۔
یاد رکھیں: جان ہے تو جہان ہے۔ گلگت بلتستان کے پہاڑی راستے آپ کی سوچ سے زیادہ خطرناک ہیں۔ یہاں کی بل کھاتی سڑکیں، اچانک آنے والے لینڈ سلائیڈز اور گہری کھائیاں معمول کا حصہ ہیں۔ اس لیے اپنی ڈرائیونگ پر حد سے زیادہ اعتماد کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
ہم آپ کو بھرپور مشورہ دیتے ہیں کہ کسی مقامی اور تجربہ کار ڈرائیور کی خدمات حاصل کریں۔ ہمارے لوگ مہمان نواز اور ایماندار ہیں، یہاں سیاحوں کو لوٹنے کا کوئی رواج نہیں۔ آپ کا تحفظ اور آسانی ہی ہماری اولین ترجیح ہے۔
خدارا! ہوشیاری اور احتیاط کو اپنا شعار بنائیں۔
یہ سفر آپ کے لیے یادگار بنے، حادثاتی نہیں۔
شہزاد مہدی
@highlight