
سندھ حکومت اور صنعتکاروں نے توانائی پر مجوزہ ٹیکس مسترد کردیا
وفاقی وزراء اور صنعتکاروں کے مابین وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت اہم اجلاس
کیپٹیو پاور پلانٹس سے ڈسکوز کی جانب منتقلی پر غور و خوض، صنعتکاروں نے غیرمستحکم بجلی پر تشویش کا اظہار کیا
حتمی فیصلہ وزیراعظم کی صدارت میں ہوگا، اجلاس میں باہمی اتفاق رائے
صنعتوں کے گرڈ سے منسلک ہونے کے بعد کیپٹیو پاور پلانٹس کی گیس سندھ میں ہی استعمال ہوگی: مراد علی شاہ
کامیاب مشاورت کے بعد اگلے اقدامات کا تعین کرنے پر زور
کراچی (18 مئی 2025): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت وفاقی وزراء اور صنعتکاروں کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کیپٹیو پاور پلانٹس سے ڈسکوز (KE) کی جانب منتقلی کے حوالے سے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں صنعتکاروں نے واضح کیا کہ وہ ڈسکوز کی غیرمستحکم بجلی پر مکمل انحصار نہیں کرسکتے، جبکہ توانائی پر مجوزہ ٹیکس کو بھی مسترد کردیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ صنعتکاروں کے تحفظات اور تجاویز کو وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کیا جائے گا، جن کی منظوری کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے زور دے کر کہا کہ “جب صنعتی یونٹس نیشنل گرڈ سے منسلک ہوجائیں، تو کیپٹیو پاور پلانٹس سے دستیاب ہونے والی گیس کو سندھ میں ہی استعمال کیا جانا چاہیے، کسی دوسرے صوبے کو منتقل نہیں کیا جائے۔”
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ “وزیراعظم کی ہدایت پر ہم صنعتکاروں کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔” جبکہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ “بجلی کے شعبے میں اصلاحات جاری ہیں اور 7,000 میگاواٹ اضافی بجلی کی فراہمی کا منصوبہ زیرغور ہے۔”
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ:
✔ صنعتکاروں کی تجاویز کو وزیراعظم تک پہنچایا جائے گا۔
✔ کیپٹیو پاور پلانٹس سے گرڈ کی جانب منتقلی کے دوران ٹیکسز کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
✔ سندھ کی صنعتوں کو گرڈ سے منسلک کرنے کے بعد دستیاب ہونے والی گیس صوبے ہی میں استعمال کی جائے گی۔
شرکاء میں وفاقی وزراء، صنعتکاروں کے نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔























