سکندر کٹپر۔۔۔زندگی کا سفر تمام ہوا


تحریر: سہیل دانش
اُن کی زندگی رنگ برنگ تجربات سے بھری پڑی تھی۔ لیکن پھر اِس زندگی میں جہاں گالوں کو بھگودینے والے آنسو بھی ہوتےہیں اور مسرتوں اور خوشیوں سے لبریز قہقہوں کا اظہار بھی، لیکن بالآخر ایک دِن یہ سفر تھم جاتا ہے۔ اِس مسافت میں “دی اینڈ کی منزل آہی جاتی ہے، سکندر کٹپر جو دوستوں کے دوست تھے۔ امریکہ جیسے ملک کی چکاچوند میں اپنے ماہ و سال گزارنے کے باوجود وہ مشرقی اقدار سے عشق کرتے تھے۔ اُنہوں نے اپنی زندگی میں کامیابیوں سے زیادہ شاید یہ اعتماد اور یقین کمایا کہ زندگی اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اِس میں انسان جو چاہے کرسکتا ہے، اپنی خواہشات کی پتنگ آسمان تک اُڑاسکتا ہے 70 سے زیادہ بہاریں دیکھنے والے سکندر کٹپر کا بچپن ذہانت اور شرارتوں سے پُر تھا۔ اُنہوں نے والدین کے لاڈ پیار سے محبتیں بانٹنا اور محبتیں سمیٹنا سیکھی تھیں۔ سونے کا چمچ لے کر آنکھ کھولی تھی ایک نامور سیاسی خاندان کا حوالہ اُن کا پہلا تعارف تھا۔ اپنے نامور والد عبدالوحید کٹپر سے اُنہوں نے زندگی میں نفاست، منکسرالمزاجی اور اخلاقی اقدار کی پاسداری کا ایسا سبق پڑھ لیا تھا، جو زندگی کے آخری دنوں تک اُن کی شخصیت سے منعکس ہوتا رہا۔ عبدالوحید کٹپر پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے دیرینہ اور قابلِ اعتماد ساتھیوں میں سے تھے یہ 70 کی دہائی تھی۔ جب بھٹو صاحب برسراقتدار آئے تو عبدالوحید کٹپر نے سندھ حکومت میں وزارتِ سحت کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ کٹپر صاحب بڑے مرنجان مرنج انسان تھے۔ ایک کامیاب سیاستکار کے طور پر کچھ کرگزرنے کا جنون اُن پر ہمیشہ سوار رہتا۔ سندھ میڈیکل کالج، پیپلز میڈیکل کالج فارویمن نوابشاہ اور عباسی شہید ہسپتال ناظم آباد جیسے منصوبوں کی تکمیل میں عبدالوحید کٹپر کا ویژن اور انتھک محنت اہم محرک تھے، سکندر کٹپر اپنے والدین کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے چھ بھائیوں اور دو بہنوں پر مشتمل عبدالوحید کٹپر صاحب کا یہ باغ و بہار خاندان ہمیشہ اُن کی زندگی اور اُس کے بعد بھی اُن کی نیکنامی، وقار کا سبب بنا تمام بہن بھائیوں نے جہاں تعلیمی میدان میں ذہانت و فطانت کے جھنڈے گاڑے۔ وہاں اپنے اپنے شعبوں میں جو کچھ کیا بہت خوب کیا۔ ہمیشہ کے لئے آنکھیں موندلینے والے سکندر کٹپر ایک پروجیہہ اور ڈیشنگ شخصیت کے مالک تھے۔ سکندر کٹپر کا نوجوانی اور جوانی کا سفر بھی بڑا ہنگامہ خیز رہا۔ اُس وقت اُنہوں نے امریکہ کو اپنا مسکن بنایا۔ جہاں اُنہوں نے کمرشل پائلٹ کے طور پر اپنے پروفیشن کا انتخاب کیا۔ سیاست نے اُنہیں کبھی انساپئر نہیں کیا۔ لہیکن اُن کا حلقہ احباب کسی سیاستدان سے کم نہ تھا سکندر کٹپر ایک ڈٹ جانے والے پروفیشنل انسان تھے۔ اُن کے تعلقات کی بنیاد نظریاتی جغرافیائی لسانی دائرے نہیں تھے۔ البتہ ذاتی دوستی کے معاملے میں وہ بے حد محتاط اور کسی حد تک پسند اور ناپسند کے قائل تھےوہ جو بھی کام کرتے پورے جوش و جذبے سے کرتے ایک پروفیشنل پائلٹ کی اُڑان کی طرح وہ بڑے خواب دیکھنے کے عادی تھے۔ اُنہوں نے زندگی کا ہر لمحہ بھرپور انداز میں بسر کیا۔ اُنہیں کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ سیاحت اُن کا عشق تھا۔ وہ کہتے تھے کہ انسان اُسی طرح زندگی گزارتا ہے جس طرح وہ اُس کا مفہوم اور معنی سمجھ پاتا ہے جب کوئی اُن سے پوچھتا کہ آپ اتنا سب کچھ کیسے کرلیتے ہیں اُنہیں ہر کام کا اسلوب آتا ہے اور ہر رشتے کو نبھانے کا سلیقہ بھی وہ بلا جھجک کہتے یہ سب اللہ کی دین ہے وہ کہتے تھے کہ خاندانی پس منظر اور شہرت آپکے لئے کامیابی بھی بنتی ہے اور رُکاوٹ بھی۔ لیکن اللہ کا شکر ہے۔ ہر کوئی میرے والد کا نام بڑی عزت و احترام سے لیتا ہے وہ کہتے تھے میں پورے یقین سے تو نہیں کہہ سکتا کہ میں نے زندگی میں کہاں تک کامیابی حاصل کی میں نے غلطیاں بھی کی ہیں اور تقدیر کے مضبوط ہاتھوں سے اپنے لئے زیدادہ سے زیادہ مسرتیں چھیننے کی کوشش بھی کی ہے ہمیں زندگی کے سفر کا رُخ اور انجام ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے اور اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری زندگی کا ہر دن اپنی جگہ مکمل ہو اپنے آخری دنوں میں وہ اپنے ایک دوست سے کہہ رہے تھے کہ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا اور اُس وقت میرے پاس اپنا سفر مکمل کرنے کے لئے بہت سا وقت تھا، اب سفر ختم ہونے کے قریب ہے


اور سورج غروب ہورہا ہےآغازِ سفر کے وقت یہ راستہ کتنا طویل دکھائی دیتا اور اب یہ کتنا مختصر معلوم ہوتا ہے اور شاید اُن کی چھٹی حس ٹِک ٹِک کرکے خبردار کررہی تھی۔ یوں زندگی کے تمام نشیب و فراز سے نبرد آزما رہنے اور خود کو منوانے کی جستجو کرنے والے سکندر کٹپریوں اچانک ہی زندگی کی بازی ہارگئے کراچی میں اپنے بے شمار دوستوں سے ملاقات یوں ہوئی کہ وہ کفن کی سفید چادر اوڑھے اُس طویل سفر پر روزانہ ہورہے تھے۔ جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا اُن کے خاندان کے لئے یہ سانحہ عظیم ہے وہ اپنے خاندان کےلیے لازم و ملزوم تھے ساتھ ساتھ وہ اپنے حلقہ احباب اور دوستوں کو بھی افسردہ اور ویران کرگئے جوبرسوں اُنہیں تلاش کرتے رہیں گے۔ اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ وہ ہر ایک سے محبت کرنے والے سکندر کٹپر کی آخری منزلیں آسانی فرمائے۔ آمین