پی آئی اے پر برطانیہ کی پابندی کے خلاف قومی اسمبلی میں آواز اٹھائی گئی

پی آئی اے پر یوکے کے پابندی کے خلاف قومی اسمبلی میں آواز اٹھائی گئی

کراچی: پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی محترمہ شرمیلہ صاحبہ فاروقی نے پی آئی اے پر برطانیہ کے جاری پابندی کے حوالے سے قومی اسمبلی میں سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “آج میں نے قومی اسمبلی میں پی آئی اے پر یوکے کی ناجائز پابندی کے بارے میں بات کی، جو کہ سابق وزیرِ اویئیشن کے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کی وجہ سے لگی تھی، جس میں انہوں نے اسمبلی کے فلور پر جعلی پائلٹ لائسنسز کا الزام لگایا تھا۔ اس ایک بیان نے پی آئی اے کو 40 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “جنوری میں یوکے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور ہوائی سلامتی کے پروٹوکولز کا جائزہ لیا تھا، لیکن آڈٹ کے بعد کوئی نتائج جاری نہیں کیے گئے اور پابندی اب بھی برقرار ہے۔ دوسری طرف، سنگین حفاظتی خلاف ورزیاں جاری ہیں—ملتان کی ایک پرواز کو لاہور میں غلط رن وے پر اتارا گیا، جبکہ دوسری پرواز کا ایک پہیہ کراچی میں ہی رہ گیا تھا۔ ہمیں شفافیت، جوابدہی اور حل چاہیے۔”

شرمیلہ فاروقی کا یہ بیان پی آئی اے کی بحالی اور شہریوں کی فلاح کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ امید ہے کہ حکومت اس معاملے پر فوری کارروائی کرے گی اور پاکستانی ایوی ایشن کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی۔

#PIA #UKBan #AviationSafety #Accountability #NationalAssembly
====================

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے آئندہ سماعت پر ائیر پورٹ قریب چینی کانوائے پرخود کش حملے کے مقدمے کی تفتیش سے متعلق پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔ کراچی میں انسداد دہشتگردی کی خصعصی عدالت کے روبرو ائیر پورٹ قریب چینی کانوائے پرخود کش حملے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ملزمہ گل نساء اور جاوید عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی فوٹیج اور ریکارڈنگ کیوں پیش نہیں کی گئی۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ مہلت دی جائے آئندہ سماعت پر تفتیش پیش کردی جائے گی۔عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔ پولیس کے مطابق اکتوبر 2024 میں کراچی ائیر پورٹ کے قریب چینی باشندوں پر خود کش حملہ کیا گیا تھا۔ کیس میں ملزمہ گل نساء اور جاوید گرفتار ہیں۔ ملزمان پر خود کش حملے میں سہولت کاری کا الزام ہے۔
=======================

سندھ ہائیکورٹ نے سٹی کورٹ میں سہولیات کا فقدان اور مسائل کے حل کے لیے درخواستوں پر سندھ حکومت، ہائیکورٹ بار، سندھ بار، کراچی بار ایسوسی ایشن، فوکل پرسن آئی جی سندھ اور دیگر سے تجاویز طلب کرلیں۔ ہائیکورٹ میں سٹی کورٹ میں سہولیات کا فقدان اور مسائل کے حل کے لیے درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ کراچی بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائیکورٹ بار، فوکل پرسن آئی جی سندھ، کے ایم سی، سندھ حکومت اور دیگر نے اجلاس کے بعد مسائل کے منٹس عدالت کے سامنے رکھ دیئے۔ منٹس میں کہا گیا کہ سٹی کورٹس میں ہزاروں کیسز سندھ ہائیکورٹ سے منتقل کردیئے گئے ہیں۔ سٹی کورٹس میں ججز اور عدالتی اسٹاف کی کمی کا سامنا ہے۔ جو ججز عدالتوں میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں انکو چھوٹے چھوٹے چیمبرز میں بیٹھایا گیا ہے۔ جج کے پاس کمپیوٹر،پرنٹر اور اسٹینوگرافر تک نہیں ہے۔ منٹس میں سرفراز میتلو اور عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ سرفراز سٹی کورٹ اور اطراف میں تجاوزات کی بھرمار ہے، تجاوزات کے خاتمے کا حکم دیا جائے۔ سٹی کورٹس کے اندر اور اطراف میں سیوریج کا پانی جمع ہے،متعلقہ حکام کو نظام درست کرنے کا حکم دہا جائے۔ سٹی کورٹ میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کے برابر ہے۔ عدالت نے ریمارلس دیئے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک بار پھر بیٹھ کر حتمی تجاویز پیش کریں تاکہ حکومت کو بجٹ سے پہلے سیکیورٹی سمیت مسائل کے حل کے لیے ہدایت جاری کریں۔ عدالت میں مقررہ اسامیوں کو پر کرنے کا حکم بھی دیں گے۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سٹی کورٹس میں بنیادی مسائل کے حل کا اصل فائدہ جوڈیشری یا وکلا کو سائلین کو ہوگا۔ سندھ حکومت بھی ہم سے الگ نہیں ہے وہ بھی ریاست کا حصہ ہیں۔ ایک میکنزم بنا کر سندھ حکومت کو دینا ہے تاکہ وہ مسائل کے حل کے لیے اقدامات کریں۔ سٹی کورٹس کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور دیر پا حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اجلاس کریں۔ مسائل کے حل کے لیے فوری اور دیر پا حل کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے بتایا جائے۔ عدالت نے سندھ حکومت، ہائیکورٹ اور کراچی بار ایسوسی ایشنز، فوکل پرسن آئی جی سندھ و دیگر سے حتمی تجاویز 29 مئی کو طلب کرلیں۔
====================

سندھ ہائیکورٹ نے جبری لاپتا ہونے والے افراد کے کیسز مسنگ پرسنز کے کمیشن میں بھیج دیئے۔ ہائیکورٹ میں 23 سالہ لڑکی سمیت دیگر لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ مسنگ پرسنز کے کیسز میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔ عدالت نے جبری لاپتا ہونے والے افراد کے کیسز مسنگ پرسنز کے کمیشن میں بھیج دیئے۔عدالت نے 2022 سے تھانہ سرجانی ٹاؤن اور 2014 سے لاپتا نوید اقبال، 2016 سے تھانہ سائٹ بی کی حدود سے لاپتا نور زمان کی درخواستئں مسنگ پرسن کے کمیشن میں بھیج دیا۔ عدالت نے نارتھ ناظم آباد سے 23 سالہ انشارہ بتول کی گمشدگی کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیس مسنگ پرسنز کی فہرست میں نہیں آتا۔ وہ کیس مسنگ پرسنز کی کیٹگری میں آتے ہیں جنہیں ایجنسیز نے مبینہ طور پر لاپتا کیا ہو۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ لڑکی کی گمشدگی کا مقدمہ درج ہوگیا ہے۔ لیکن تفتیشی افسر کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ اس سے قبل ریگولر بینچ نے کیس آئینی بینچ کے پاس بھیج دیا تھا۔ آئینی بینچ نے کیس دوبارہ ریگلولر بینچ میں بھیج دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اگر آپ کو انوسٹی گیشن پر اعتراض ہے تو متعلقہ مجسٹریٹ سے رجوع کریں۔ تفتیشی افسران نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تھانہ سعود آباد کی حدود سے لاپتا محمد نوید خان اور تھانہ عوامی کالونی کی حدود سے لاپتا احمد شمیم بھی باحفاظت گھر واپس آگئے ہیں۔ عدالت نے لاپتا شہریوں کی واپسی پر درخواستیں نمٹادی۔