سندھ کی ٹاپ مینجمنٹ مختلف صوبائی محکموں کی انتہائی خراب اور ناقص کارکردگی اور مالی بد انتظامی پر سخت پریشان اور فکر مند

سندھ حکومت کے مالی انتظامات پر تشویش، اعلیٰ سطحی اجلاس میں شدید تنقید

کم و بیش تمام سرکاری محکموں کے ناقص کارکردگی اور مالی بے قاعدگیوں پر سندھ کے اعلیٰ افسران سخت پریشان نظر آئے۔

بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبے کے مالی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں لی گئی دو تصاویر نے صوبائی انتظامیہ کی گہری تشویش کو عیاں کر دیا۔ اجلاس میں موجود سندھ کے اعلیٰ ترین افسران کے چہرے انتہائی سنجیدہ اور فکرمند دکھائی دیے، جبکہ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کے بیشتر محکموں کی ناقص کارکردگی اور مالی بدانتظامی پر اعلیٰ افسران نے سخت تنقید کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ کی انتظامیہ کو اچھے افسران کے معاملے میں بدقسمتی کا سامنا ہے، کیونکہ صوبے میں موجود افسران کی کارکردگی وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکرٹری، منصوبہ بندی و ترقی اور مالیات کے شعبوں کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی۔ اعلیٰ حکام نے محسوس کیا کہ موجودہ افسران صوبے کے معاملات کو مؤثر طریقے سے چلانے کے قابل نہیں ہیں، جس کی وجہ سے مالی انتظامات میں شدید خامیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، لیکن محکموں کی نااہلی اور بدعنوانی کے باعث عوامی فلاح کے کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو فوری طور پر اہل اور ایماندار افسران کی تعیناتی اور مالیاتی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ صوبے کی ترقی کی راہیں مزید مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی ٹیم اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات اٹھاتی ہے، یا پھر صوبے کے عوام کو مالی بدانتظامی کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

سندھ کا بجٹ تو بہت بڑا ہے، لیکن اس کا صحیح استعمال ایک مشکل کام ثابت ہو رہا ہے۔ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں زیادہ تر بجٹ ایسی تنظیموں کے ذریعے استعمال کر رہی ہے جن کی ساکھ اچھی ہے۔ سندھ حکومت کا صحت کا نظام انتہائی خراب ہے، اسی لیے بڑی رقم SIUT، NICVD، انڈس ہسپتال اور دیگر اداروں کو دی جا رہی ہے۔ اسی طرح، وزیراعلیٰ اب تعلیمی شعبے میں بھی سندھ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے بجائے براہ راست اسکولوں اور کالجوں کو فنڈز دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جو محکمہ تعلیم کی نااہلی کو واضح کرتا ہے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، لیکن محکموں کی نااہلی اور بدعنوانی کے باعث عوامی فلاح کے کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو فوری طور پر اہل اور ایماندار افسران کی تعیناتی اور مالیاتی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ صوبے کی ترقی کی راہیں مزید مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی ٹیم اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات اٹھاتی ہے، یا پھر صوبے کے عوام کو مالی بدانتظامی کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

========================

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ خزانہ کا اجلاس

چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، اسپیشل سیکریٹری خزانہ اصغر میمن اور دیگر متعلقہ افسران اجلاس میں شریک

اجلاس کا مقصد نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے رہنمائی دینی ہے، وزیراعلیٰ سندھ

نئے مالی سال میں غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

نئے مالی سال میں ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کرنا ہے، وزیراعلیٰ سندھ

سندھ حکومت نے رواں سال اپنے مالی وسائل بہتر کرنے کی کوشش کی ہے، مراد علی شاہ

نئے مالی سال میں نئی اسکیمز شروع کی جائیں گی جس سے اے ڈی پی کی سائیز بڑھ جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

انشاء اللہ، صوبے کے ٹیکس کلیکشن ادارے اپنا ہدف پورا کرینگے، وزیراعلیٰ سندھ

نئے مالی سال میں کے فور پر کام تیز کیا جائے گا جس میں مزید فنڈز دیئے جائینگے، وزیراعلیٰ سندھ

نئے سال میں شاہراہ بھٹو بھی مکمل ہوجائے گی جس سے عوام کو سہولت ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

شاہراہ بھٹو کو ہم پورٹ سے منسلک کرنے کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

نئے مالی سال میں کراچی میں جاری ٹرانسپورٹ کی اسکیمز بھی مکمل ہونگی، وزیراعلیٰ سندھ

سندھ حکومت شاہراہ بھٹو توسیع پروجیکٹ، کے فور اور ٹرانسپورٹ منصوبوں کے لیئے رقم مختص کرے گی، مراد علی شاہ

میں چاہتا ہوں کہ نئے بجٹ میں کچھ کفایت شعاری کے اقدامات کئے جائیں، وزیراعلیٰ سندھ

ہم جو بھی رقم بچا سکتے ہیں وہ ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

عبدالرشید چنا
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ
#SindhCMHouse