
سچ تو یہ ہے،
برٹش کولمبیا، جموں و کشمیر جیسا خوب صورت خطہ ہے۔
بشیر سدوزئی، (برٹشکولمبیا)

قارئین: کینیڈا آئے 20 یوم ہو چکے، اور یہ دن تو ٹورانٹو، مسی ساگا، نیاگرا فال سمیت اونٹاریو کے مختلف علاقوں کی سیاحت اور دوستوں سے ملاقاتوں میں ہی گزر گئے۔ پاک بھارت جنگ اور اس سے قبل خطہ میں کشیدہ صورت حال کی وجہ سے سفری روئیداد لکھنا بند کر دی تھی اس لیے اونٹاریو کی بھی رپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہوئی، انشاءاللہ پھر کسی موقع پر بقیہ مواد شائع کریں گے یا، پھر آپ کتاب میں میں پڑھ سکیں گے۔ شعیب ناصر صاحب نے ایک شام کو دعوت پر بلایا جہاں کمانڈر روشن خیال، معروف صحافی سردار خان اور مرزا یاسین بیگ کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ کچھ کشمیری نوجوانوں سے ملاقات ہوئی اس کا حال و حوال لکھنے کا وقت بھی نہیں ملا۔ ایک دن ٹورانٹو کے فٹ پاتھ پر بڑی دل چسپ تحریر ہے جہاں پولیس ایک شخص کو عورتوں اور بچوں کے احترام میں جسم کا اوپر کا حصہ ننگا کرنے پر منع کر رہی ہے لیکن مردوں کی موجودگی میں خواتین کو کچھ نہیں کہا جا رہا کہ آپ اوپر نیچے سے آدھی ننگی کیوں ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ کینیڈا میں اب اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ انسان سات سمندر پار دیار غیر میں پہنچا ہوا ہے یا اپنے ہی وطن میں موجود ہے۔ کینیڈا کے کسی بھی ریجن میں جائیں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی کسی گلی محلے میں گھوم رہے ہیں۔ بے شمار پاکستانی ہوٹل کھل چکے۔ کینیڈا میں ہمارے لوگ ماشاءاللہ ٹھیک پوزیشن میں ہیں۔ ریج وے پلازہ کا تذکرہ بھی پچھلے کسی کالم میں ہوا۔ شعیب ناصر صاحب نے ویلیج ٹیچ ریسٹورنٹ میں مدعو کیا اس ہوٹل کا ماحول مکمل پاکستان ہے، پاکستانی کھانے ہی نہیں ہر دروازے پر پاکستان کے دریاوں کے نام درج ہیں سندھ، جہلم، چناب، ستلج، راوی وغیرہ، بس یہی نہیں کلچر کو نمایاں کرنے کے لیے ہماری روایتی چیزوں کو سجھا کر رکھا گیا ہے جیسے چرخہ، چکی، ہل وغیرہ اور اس نوح کی دیگر چیزیں۔ شعیب ناصر کی دعوت کا اہتمام بھی خوب رہا پرانے دوست مل بیٹھے اور خوب گپ شپ رہی۔ واٹر لو اونٹاریو کا ایک ریجن ہے۔ بڑا شہر نہیں بلکہ چھوٹا بھی نہیں لیکن انٹر نیشنل ائیرپورٹ ہونے کے باعث اونٹاریو میں خاصا مشہور ہے۔ ہمیں ونکوور جانے کے لیے اسی ائیرپورٹ سے فلائیٹ لینا تھی سو نیاگرا سے پونے دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ائیرپورٹ پہنچے۔ ناشتہ بھی ائیرپورٹ پر ہی کیا۔ 30 ڈالر میں تین افراد کا ناشتہ ایک بن اور ایک گلاس کافی رہا، ائیرپورٹ بہت ہی معمولی سا ہے لیکن انٹر نیشنل ہے۔ البتہ رنوے خاصا بڑا ہے ٹرمینل میں کیا رکھا ہے چھوٹا ہو یا بڑا صبح 9 بجے کی ایک پرائیویٹ فلائی کمپنی flair کی فلائیٹ سے روانہ ہوئے ہمارے فون کی گھڑی 12 پر پہنچی تو واپس 10 پر آگئیں۔یہ ہمیں عجب سا لگا، برابر میں بیٹھی اجنبی خاتون سے بھی پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ خاتون تھی تو دیسی لیکن وضع قطع وہی بنا رکھی تھی جیسے بڑے انگریز کی بچی ہو۔ یہاں کینیڈا میں بعض سردارنیاں تو انگریزی سے بھی آگئیں کی چیز بن چکی ہیں۔ ہماری پڑوسن بھی اپنی بچی سے آدھی انگریزی آدھی پنجابی بول رہی تھی اب اس کا اندازہ نہیں ہوا کہ لیندے پنجاب دی سی یا چڑدے پنجاب کی مرد ہوتا تو پہچان ہو جاتی لیکن یہاں الٹا ہو رہا ہے۔ سردار شناخت ظاہر کرتا ہے سردارنی ظاہر نہیں ہوتی۔ پانچ گھنٹے ساتھ گزارے لکین کوئی الیک سلیک نہیں ہوئی نہ اس نے پہل کی نہ ہم نے۔ وہ اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ کھیلتی رہی اور ہم کھڑکی سے باہر جھانکتے رہے۔ حالاں کہ وہ بچی کو برابر والی سیٹ پر منتقل کر کے خود درمیان میں آ گئی۔ اس کی اس حرکت پر ہم اور اترائے کہ قربت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کا بھی کچھ اثر نہ ہوا۔ سب کچھ ہوا لیکن بات چیت نہیں ہوئی۔ بات ہوتی بھی کیسے نہ اس نے کچھ کہا نہ ہم نے، بس یوں ہی نگاہوں نگاہوں میں پڑوسیوں کے حقوق ادا کرتے پانچ گھنٹے گزر گئے۔ موبائل پر وقت کو پیچھے آتے دیکھ کر تعجب ہوا۔ محاورے میں تو وقت کو پیچھے دھکیلنے کا سن رکھا تھا یا شاید کئی پڑھا ہو لیکن اس کا خود تجربہ ہونا میرے لیے نئی بات تھی۔ معلوم ہوا برٹش کولمبیا اونٹاریو سے دو گھنٹے پیچھے ہے ہمیں کراچی سے استنبول پہبچنے میں اتنی وقت لگا تھا یا اس سے آدھا گھنٹہ ادھر، ادھر ہوا ہو گا لیکن کینیڈا کے ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں جانے کے لیے گھنٹوں ہوائی سفر کرنا پڑتا ہے اور دقت میں بھی گھنٹوں کا فرق ہے۔ گویا جب اونٹاریو میں سوج نکل چکا ہوتا ہے اہل برٹش کولمبیا نیند کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔
اب اس ملک کی وسعت پر کیا لکھیں۔ آج موسم خوش گوار ہے۔ وہ اسمبلی حوالے سے کہہ رہا ہوں کہ آج دھوپ خوب ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ سردی میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم موسم ابرآلود نہ ہونے سے کینیڈا کا اندرونی علاقے دیکھنے کا خاصا موقع ملا ۔۔ حقیقت تو یہی ہے کہ زمین دیکھنے کا مزا زمین پر چلنے سے ہی لیکن، واٹر لو سے ونکوور تک کا فضائی سفر بھی کوئی اتنا برا نہیں رہا۔ جہاز بہت زیادہ بلند پر نہیں تھا بس اتنا ہی بلند تھا کہ ہم زمین پر انسانی کوشش کو سمجھ سکیں۔ جب پہاڑوں سے گزرے تو زمین زیادہ قریب آ جائے جب پہاڑ اوجل ہوں تو میدانوں میں کھیت و کھلیان نمایاں نظر آئیں کہ یہاں کاشت کاری ہو رہی ہے۔ کینیڈا کے گاوں دیہاتوں میں کاشت کاری پر خاسی توجہ دی جاتی ہے سمندر جتنی کئی جھیلوں کے اوپر سے گزرتے اندازہ ہوتا ہے کہ پانی کے اطراف خاصی تعداد میں کھیت آباد کئے گئے ہیں۔ ساری دنیا کا چوتھائی پانی کینیڈا کے پاس ہے اس کے باوجود دیہاتوں میں نہری نظام کو بہت مضبوط کیا گیا ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے بل کھاتی نہرے چمکتی نظر آتی ہیں۔ سورج کی شعاعوں سے اور زیادہ چمک دار ہو جاتی ہے، جب کہ وقفے وقفے پر تالابوں کا بھی مضبوط نظام ہے، چوں کہ کینیڈا میں برف باری اور بارشیں بہت ہوتی ہیں۔ مجھے ان تالابوں یا ڈیموں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ پارش کے پانی کو روکنے اور اسٹور کرنے کا خاص انتظام کیا گیا ہے۔ جن محلوں میں نہری نظر نہیں آئیں وہاں وقفے وقفے پر تالابوں کی کثیر تعداد دیکھنے میں آئی۔ ان دیہاتوں میں غلہ بانی کے ساتھ ساتھ گلہ بانی کے انتظامات دیکھنے میں آئے۔ صرف چار کروڑوں انسانوں کے لیے ہی خوراک کے اتنے بڑے انتظامات کرنا وسائل کا ضیاع ہے۔ ہر صورت میں یہ سب تجارتی مقاصد کے لیے ہو گا اب یہ معلومات حاصل نہیں کی کہ کن کن ممالک کو یہاں سے غلہ اور گلہ سپلائی ہوتا ہے۔
پانچ گھنٹے کالی فلائیٹ میں کوئی ایک جگہ بھی بنجر اور ویران نظر نہیں آئی اور نہ ہی زمین آنکھوں سے اوٹل ہوئی اس طویل رقبے پر اتنے بڑے پیمانے پر کاشت کاری مقصد یہ ہے کہ کینیڈا کئی دیگر ملکوں کو بھی اشیاء خورد نوش سپلائی کرتا ہو گا۔۔حد نگاہ کھیت ہی کھیت صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ تازہ تازہ ہل چلا اور زمین کو ہموار کیا جا رہاہے کچھ جگہوں پر ہریالی اور سبزہ بھی ہے۔ لیکن اس کی پہچان نہیں ہو سکتی۔ اس موسم میں تو سارا کینیڈا ہی سبز ہو چکا۔ بس اسی جگہ پر سنزا نہیں جہاں تارکول یا سمنٹ ہے، اس علاقے میں ہائی وے یا ایکسپریس وے کا نٹ ورک بھی کئی نظر نہیں آیا اور نہ ہی شہر یا گھنی آبادی۔ ٹورانٹو اور ونکوور میں دو گھنٹے کا فرق ہے ونکوور دو گھنٹے پہچھے ہے۔
ہمیں افسوس ہوا کہ برٹش کولمبیا کے کچھ علاقوں کو بلندی سے نہیں دیکھ سکے جب ہمارا جہاز برٹش کولمبیا کی حدود میں پہنچا تو سورج تو خوب چمک رہا تھا لیکن نیچے بادل کے پہاڑ تھے سیاہ اور گھنیں بادلوں نے زمین اور جہاز کے بیچ میں چادر تان لی۔اس وجہ سے ونکوور شہر کی صورت حال کا ٹھیک سے فضائی جائزہ نہیں لے سکے۔۔۔ جہاں جہاں بادل کم ہوئے، وہاں پہاڑوں پر برف کے پہاڑ نظر آئے۔ جس پر ہم خوف زدہ ہو گئے کہ خدانخواستہ برٹش کولمبیا کے پہاڑوں پر جہاں ہم جائیں گے تو اس طرح کی برف ہوئی تو ہمارے پاس انتظامات پورے نہیں۔ برٹش کولمبیا کا پہاڑی سلسلہ بہت خطرے ناک ہے۔ ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ہم ونکوور میں نہیں بلکہ واٹر لو کی طرح کے کسی گاوں میں اتارے جائیں گے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ صاحبزادے احمر بشیر خان کی حکمت عملی یہ تھی کہ اگر ہم ٹورانٹو سے ونکوور کی فلائیٹ لیتے تو صرف ٹکٹ کی مد میں ڈبل آدئیگی کرنا پڑتی، کینیڈا کی حکومت نے سیاح کے لیے یہ سہولت کی ہے کہ گاوں دیہاتوں کو دیکھنے کے لیے گاوں دیہاتوں کے چھوٹے ہوائی اڈے استعمال کریں تو آدھے سے بھی کم کرایہ میں سارا کینیڈا گھومیں بڑے ہوائی اڈے استعمال کرنے پر جی بھر کر ڈال جمع کرائیں۔ ان گاوں کے چھوٹے ہوئی اڈوں پر بھی وہ تمام سہولیات موجود ہیں جو ایک ہوائی اڈے کے لیے ضروری ہوتی ہیں بس چکا چوندھ اور ششکے نہیں ویسے بھی سیاح کو کیا کرنا ہے۔ ہم یہاں کے وقت کے مطابق دن 12 بجے ابٹ فورٹ ائیرپورٹ پر اترے جو ونکوور سے 70 80 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے بلکہ یہ امریکہ کے واشنگٹن ڈی سی کے سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔یہ چند کلومیٹر 10، 15 سے بہت کم ہیں۔ ابٹ فورٹ ڈاؤن ٹاون کے ایک سڑک پر لگے بورڈ پر لکھا تھا امریکہ کی سرحد کا فاصلہ 500 میٹر پر ہے۔ اونٹاریو نیویارک کی سرحد پر واقع ہے اور برٹش کولمبیا واشنگٹن ڈی سی کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ یہ آدھا دن ہم نے ابٹ فورٹ کے قصبہ میں گزار جہاں ترقیاتی کام عروج پر ہیں۔ یہاں بھی متنوع تہذیبیں ملتی ہیں لیکن پنجابی بھی کثیر بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے، گویا ہر کونے، ہر چورائے اور ہر کاروباری جگہ پر کسی سردار یا سردارنی سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ائیرپورٹ سے ہم ہلال فوڈ کی تلاش میں نکلے کیوں کہ جہاز میں پانچ گھنٹے کے سفر کے دوران کھانے پینے کو کچھ نہیں دیا گیا۔ پانی کی ایک بوتل پانچ ڈالر میں فروخت ہو رہی تھی جب کہ مارکیٹ میں 60 سینٹ یعنی 60 پیسے میں 12 بوتلیں مل جاتی ہیں۔ ہم نے جہاز میں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیا۔ تاہم ابٹ فورٹ میں ہلال فوڈ کا کوئی مسئلہ ہی نہیں پاکستانی بہن بھائیوں نے کیچن کھول رکھے ہیں سپلائی بھی دیتے ہیں اور گاڑی میں بیٹھ کر کھا بھی سکتے ہیں، کراچی لاہور، کوئٹہ پشاور سب ذائقے ان کھانے میں موجود ہیں۔۔ ہم نے ائیرپورٹ سے ہی گاڑی حاصل کی جو 18 مئی کو کلگری ائیرپورٹ پر جمع کرانی ہے اور ابٹ فورٹ کی پختہ اور ہموار سڑکوں پر نکل پڑھے، کیا خوبصورتی اور کیا ترقی ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اوٹاوا میں بیٹھے وزیراعظم کے لیے ممکن ہے کہ ابٹ فورٹ کی سڑکوں کی مرمت یا صفائی کو دیکھ سکے۔ وزیر اعلی یا گورنر کے لیے بھی ممکن نہیں یہ یقینا مقامی قیادت کا ہی کمال ہے۔ ہمارے بلدیاتی اداروں سے کام لیا جائے تو وہاں بھی یہ ترقی ہو سکتی ہے وہاں بھی صفائی ہو سکتی ہے۔ کل ونکوور کے بارے میں لکھوں گا تب تک کے لیے اجازت۔























