کراچی میں ایک طرف فوارے چل رہے ہیں تو دوسری طرف لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں مختلف علاقوں میں پانی اور بجلی کا بحران ہے اور یہ فوارے ان کا منہ چڑا رہے ہیں





کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو مستقل سی ای او کی تلاش
کراچی: کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KW&SC)، جو پہلے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے نام سے جانا جاتا تھا، کو 2023 میں خودمختار ادارہ بنا دیا گیا تھا۔ تاہم، سندھ حکومت کو اس ادارے کو چلانے کے لیے قابل افسران کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔
افتاب چنہ کی رپورٹ کے مطابق، ادارے کے سابق سی ای او صلاح الدین احمد پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کے دور میں کراچی کے عوام کو پانی کی شدید قلت کا سامنا رہا۔ اب حکومت نے ادارے کے لیے مستقل چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) کی تقرری کا فیصلہ کیا ہے۔
حالیہ اقدامات کے تحت، سندھ حکومت نے احمد علی صدیقی کو عارضی طور پر سی ای او مقرر کیا تھا، لیکن ان کی مدتِ خدمت 30 ستمبر تک محدود ہے اور انہیں کوئی بڑے انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اب حکومت کی جانب سے اگلے 10 سے 20 دنوں میں اخبارات میں سی ای او اور سی او او کی تقرری کے لیے اشتہار شائع کیا جائے گا۔
تاہم، سابقہ تجربات کے مطابق، 2023 میں بھی ایسے ہی اشتہار دیے گئے تھے، جس کے بعد 93 درخواستیں موصول ہوئیں، لیکن صرف 13 امیدواروں کو انٹرویو کے لیے منتخب کیا گیا۔ الزامات ہیں کہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے نااہل افراد کو ترجیح دی گئی، جس کے نتیجے میں ادارے کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
افتاب چنہ کے مطابق، کراچی میں واٹر ٹینکر مافیا کا دبدبہ اب بھی قائم ہے، جبکہ سابق میئر مصطفیٰ کمال کے دور میں 7500 غیرقانونی ایم کی ایم کارکنوں کو ادارے میں بھرتی کیا گیا تھا، جو آج بھی ادارے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا سندھ حکومت اس ادارے کو درست طریقے سے چلانے کے لیے قابل اور ایماندار افسران تلاش کر پائے گی، یا پھر یہ ادارہ بھی دیگر محکموں کی طرح بدانتظامی کا شکار ہو جائے گا؟
جاری ہے…
(رپورٹ: افتاب چنہ | YouTube لنک: یوٹیوب پر مکمل رپورٹ دیکھیں)























