لاوارث ایس بی سی اے: اسحاق کھوڑو امریکہ میں، کرپشن مافیا کا کھیل جاری، چیف سیکرٹری بے بس!”

لاوارث ایس بی سی اے: اسحاق کھوڑو امریکہ میں، کرپشن مافیا کا کھیل جاری، چیف سیکرٹری بے بس!”

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کا محکمہ گزشتہ 20 دن سے لاوارس ادارے کی طرح پڑا ہوا ہے، جبکہ اس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) اسحاق کھوڑو امریکہ میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انتظامیہ کی بے حسی اور کرپشن مافیا کے گٹھ جوڑ نے اس اہم محکمے کو مفلوج کر دیا ہے، لیکن چیف سیکرٹری سندھ سمیت کسی بھی اعلیٰ افسر کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ کراچی جیسے شہر کا یہ اہم ادارہ بے کار پڑا ہے۔

ڈی جی کا غیر قانونی غیر حاضری اور نیب کی انکوائری
رپورٹس کے مطابق، ڈی جی اسحاق کھوڑو 21 یا 22 مارچ کو چھٹی لے کر امریکہ چلے گئے تھے اور انہیں 4 اپریل کو واپس آنا تھا، لیکن وہ اب تک لوٹے نہیں۔ درمیان میں ان کے خلاف نیب کی 301 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ بھی سامنے آئی، جس کے بعد افواہیں گردش کرنے لگیں کہ ڈی جی “بھاگ گئے” ہیں۔ واضح رہے کہ اسحاق کھوڑو کو سندھ کی بیوروکریسی میں سب سے زیادہ کرپٹ اور امیر ترین افسر مانا جاتا ہے، جس کے سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں جائیدادیں ہیں۔ اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ میں پراپرٹی خریدنے گئے ہیں۔

ہیراٹیج بلڈنگ کی غیرقانونی ڈیمولیشن اور ڈرامہ بازی
حال ہی میں، ایس بی سی اے نے خراس ہاؤس (ہائی لینڈ کا ایک تاریخی ہیریٹیج مقام) کو غیرقانونی طور پر ڈھا دیا، جس پر سندھ حکومت نے بظاہر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈی جی کے خلاف انکوائری کمیشن بنایا۔ تاہم، چیف سیکرٹری نے صرف ایک ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو معطل کر کے “ڈرامہ بازی” کی، جبکہ اصل مجرم ڈی جی کو تحفظ دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ڈی جی ہی نے منظوری دی تھی تو اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟

چیف سیکرٹری کا دوہرا معیار
7 اپریل کو چیف سیکرٹری نے ڈی جی کو شو کاز نوٹس جاری کیا، جس میں لکھا تھا: “There is sufficient evidence to take action against DG.” لیکن چونکہ اسحاق کھوڑو وزیر اعلیٰٰ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، اس لیے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ڈی جی نے صرف واٹس ایپ پر میڈیکل لیو کا بہانہ بنا کر اپنی غیر حاضری کو جواز دیا، جبکہ ان کی چھٹی کی درخواست پہلے ہی مسترد ہو چکی تھی۔

محکمہ مفلوج، کام کاج معطل
ڈی جی کی غیر موجودگی میں پورا محکمہ بے کار پڑا ہے۔ کراچی، سکھر، میرپور خاص سمیت تمام شہروں میں بلڈنگ کنٹرول کے معاملات رکے ہوئے ہیں۔ عام طور پر کسی بھی بیس گریڈ افسر کی غیر حاضری پر کسی سینئر کو قائم مقام مقرر کر دیا جاتا ہے، لیکن ایس بی سی اے میں یہ “عرصوں والی سیٹ” ہے جہاں ڈی جی کے فرنٹ مین (مسٹر درانی اور گنیش) رشوت لے کر کام چلا رہے ہیں۔

سوال: کب تک چلے گا یہ کرپشن کا کھیل؟
سندھ حکومت اور بیوروکریسی کی خاموشی بتا رہی ہے کہ کرپشن مافیا کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ کیا چیف سیکرٹری واقعی بے بس ہیں، یا پھر وہ بھی سیاسی دباؤ میں کام کر رہے ہیں؟ عوام کا سوال ہے: “کیا کراچی میں کوئی قانون نافذ کرنے والا باقی نہیں بچا؟”

مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے:
یوٹیوب لنک

رپورٹ: @افتاب_چننا