
اعتصام الحق
فاشزم اور نازی ازم کے خلاف جنگ کے فاتحین نے فاشزم کے خلاف جنگ میں روسی کامیابی کی اسیویں سالگرہ پر دنیا کو اپنے تعلقات کی بدولت آگے بڑھانے کا پیغام دے کر یہ واضح کیا ہے کہ دنیا کا مستقبل طاقت اور جارحیت نہیں بلکہ تعاون اور مشترکہ مستقبل ہے ۔
چین کے صدر شی جن پھنگ نے 7 سے 10مئی تک روس کا سرکاری دورہ کیا اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات کی۔چین کے صدر کا یہ دورہ روس کے صدر کی دعوت پر تھا جنہوں نے فاشزم کے خلاف سوویت یونین کی حب الوطنی کی تاریخی جنگ کی فتح کی اسیویں سالگرہ پر منعقدہ تقریب میں شمولیت کے لئے چینی صدر کو مدعو کیا تھا ۔چینی صدر کے دورے کے اختتام پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے اس دورے کے حوالے سے کہا کہ یہ صدر شی جن پھنگ کا روس کا گیارہواں کامیاب دورہ ہے اور اس دورے میں چینی صدر نے تقریباً 20 دو طرفہ اور کثیر الجہتی سرگرمیوں میں شرکت کی، جس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ چین-روس تعلقات مضبوط ہیں، دوسری جنگ عظیم کی فتح کی کامیابیوں کو چیلنج نہیں کیا سکتا اور دنیا کو انصاف کے نظام کی ضرورت ہے۔وانگ ای کا کہنا تھا کہ اس دورے کی سب سے اہم سیاسی کامیابی دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان جدید دور میں چین روس جامع اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لئے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط ہیں ، جس نے اگلے مرحلے میں چین روس تعلقات کی ترقی کے لیے نئی اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کی ہے ۔وانگ ای کے مطابق جب تک دونوں ممالک قریبی تعاون جاری رکھیں گے، بین الاقوامی نظم و نسق اور عالمی انصاف کا نظام تباہ نہیں ہوگا اور طاقت کی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔وانگ ای نے یہ بھی کہا دنیا کے امن پسند لوگوں کو دوسری جنگ عظیم کی تاریخ کو یاد رکھنا ہوگا جو لوگوں کے خون اور کئی زندگیوں سے لکھی گئی ہے اور دوسری جنگ عظیم کی فتح کے ثمرات کا دفاع کرتے ہوئے حقیقی کثیرالجہتی کو برقرار رکھنا ہوگا۔
چینی وزیر خارجہ کے ان الفاظ کی روح کو سمجھا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے کہ اس اہم خطے کے ان دو اہم ممالک کا ترقی کا نظریہ کیا ہے اور یہ بھی کہ یہ دنیا کی ترقی کے لئے عالمی انصاف کو کس انداز میں دیکھتے ہیں۔چین اور روس موجودہ دنیا کی دو اہم طاقتیں ہیں جو اپنے دیرینہ تعلقات اور مشرکہ مقاصد کی حامل پالیسیوں کی بدولت عالمی نظام میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔یہ دو مالک اس لئے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ انہوں نے اپنے اپنےمعاشرے کی خاصیتوں اور اپنی اقدار پر مشتمل ایک سیاسی نظام کو اپنے ہاں رائج کیا ہے اور اس میں کامیابی حاصل کی ہے۔لیکن دنیا کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ ان ممالک کا رویہ دنیا کے لئے جارحانہ نہیں بلکہ تعاون پر مبنی ہے۔اس سلسلے میں چین کا کردار تو دنیا تسلیم کرتی ہے کہ چین اپنے مسائل کے حل کے لئے اور اپنے قومی مفادات کے لئے کسی جارحیت کا قائل نہیں بلکہ مذاکرات اور تعاون کا راستہ اپنا تا ہے لیکن روس کی یوکرین سے حالیہ کشیدگی میں یہ ایک رائے ہو سکتی ہے کہ روس بھی مغربی ممالک کی طرح طاقت سے مفادات کے حصول پر یقین رکھتا ہے لیکن یہاں یہ سمجھنا اہم ہو گا کہ یوکرین کا مسئلہ ایک اہم تاریخ اور پس منظر رکھتا ہے اور اسےالجھانے والوں نے اس انداز میں الجھا دیا ہے کہ یہ خود یوکرین کا نہیں بلکہ اس سے جڑے مفاداتی گروہ کا مسئلہ زیادہ ہو گیا ہے ۔لیکن ان حالات میں بھی امید ہے کہ یہ مسئلہ دو طرفہ مذاکرات سے جلد حل ہو جائے گا۔
یہ دورہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ عین ان تاریخوں میں خطے کے ایک اور بڑے ملک بھارت نے جس بھونڈے انداز میں پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی اس سے اندازہ ہوا کہ طاقت کا نشہ اگر کسی کے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو چھین سکتا ہے تو ایسی صورتحال کیسی ہو گی ۔چین نے اس صورتحال میں بھی اپنے ذمہ دارانہ کردار کو ہمیشہ کی طرح نبھایا اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو ہی واحل حل قرار دیتے ہوئے خطے میں امن قائم کرنے میں اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
آج کی موجودہ دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ماضی سے نہ سیکھنا اور غلطیوں کو بار بار دہرانے سمیت طاقت کے بل پر سب کچھ حاصل کرنے کا جنون دنیا کو کتنا نقصان دے سکتا ہے۔ایسے میں چین اور روس جیسی عالمی طاقتوں کا دنیا کے مشترکہ مستقبل کے لئے ساتھ مل کر چلنا ایک اچھی علامت اور اشارہ ہے ۔
Load/Hide Comments























