“کیا اقرا یونیورسٹی میں تعلیم کا معیار بہتر ہو رہا ہے یا گر رہا ہے؟ نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل ہب اور نئے چیلنجز”

اقرا یونیورسٹی کراچی اور اسلام آباد میں تعلیم کے معیار پر بحث جاری ہے۔ ماہرین اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ جب کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہو جائے تو اساتذہ کے لیے ہر طالب علم پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے تعلیم اور سیکھنے کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں اقرار یونیورسٹی کے کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد دگنی بلکہ بعض جگہوں پر اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، جو اساتذہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کیا اس صورت حال میں یونیورسٹی زیادہ سے زیادہ کامیاب طلبہ تیار کر پائے گی؟ اساتذہ کے مطابق، یہ ایک اہم سوال ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم بحث یہ بھی ہے کہ کیا اقرار یونیورسٹی میں وہ طلبہ داخلہ لے رہے ہیں جو اعلیٰ تعلیمی معیار کی تلاش میں ہیں، یا پھر وہ نوجوان جو یونیورسٹی کے ماحول اور لائف اسٹائل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں؟ اقرار یونیورسٹی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ قوالی نائٹس، میوزک شوز، پکنک، فیشن شوز، کیٹ واک، ماڈلنگ، ٹی وی ڈراموں کی شوٹنگ اور مشہور شخصیات کا طلبہ سے ملنا ہے۔ کیا یہ غیر تعلیمی سرگرمیاں ہی اقرار یونیورسٹی کو نوجوانوں میں مقبول بنا رہی ہیں؟ یہ ایک اہم تنقید ہے جو یونیورسٹی کے سامنے ہے۔

لیکن ان تمام چیلنجز کے باوجود، اقرار یونیورسٹی نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا عزم دکھایا ہے۔ حال ہی میں یونیورسٹی نے “ڈیجیٹل یوتھ ہب” کے عنوان سے ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا، جس میں تعلیمی اداروں، حکومت اور فکری رہنماؤں کو اکٹھا کیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین پی ایم وائی پی، رانا مشہود احمد خان نے ایک پرجوش خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ہونے والی اہم قومی سطح کی ترقیات کو اجاگر کیا۔ سندھ کے کوآرڈینیٹر، جناب فہد شفیق بھی موجود تھے۔ تقریب کا اختتام پی ایم وائی پی کے اثرات پر ایک ویڈیو شوکیس کے ساتھ ہوا، جس کے بعد معزز مہمانوں کو تعریفی تحائف پیش کیے گئے۔

یاد رہے کہ اقرار یونیورسٹی مرحوم بانی ہنید lakhani کا خواب تھی، اور ان کی وفات کے بعد ان کی بہن ارم lakhani اور انتظامی ٹیم نے یونیورسٹی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ تاہم، انہیں کئی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اب ہنید lakhani کے چھوٹے بھائی نوید اور دیگر انتظامی ارکان یونیورسٹی کے معیار اور شہرت کو برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ انتظامیہ میں اہم تبدیلیاں اور نئے فیصلے ہوئے ہیں، جن کے نتائج وقت ہی بتائے گا کہ کتنے کامیاب ہیں۔

1. تعلیمی معیار اور وسائل کا تناسب:
اقرا یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناسب نے ایک اہم سوال کھڑا کیا ہے: کیا یونیورسٹی کے پاس وسائل اور اساتذہ کی تعداد اتنی ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی طلبہ کی ضروریات کو پورا کر سکیں؟ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ کلاس رومز میں طلبہ کی زیادہ تعداد کے باوجود، اقرار یونیورسٹی نے جدید لیبز، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز، اور کوچنگ سیشنز جیسے اقدامات سے معیار کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن کیا یہ کافی ہے؟

2. کامیاب گریجویٹس اور انڈسٹری کا اعتماد:
گذشتہ دو دہائیوں میں اقرار یونیورسٹی نے بے شمار کامیاب گریجویٹس پیدا کیے ہیں جو آج پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہ یونیورسٹی انڈسٹری کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتی ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کو انٹرنشپس اور جاب پلیسمنٹ میں آسانی ہوتی ہے۔ کیا یہ اقرار یونیورسٹی کی سب سے بڑی کامیابی ہے؟ یا پھر یہ صرف چند نمایاں طلبہ تک محدود ہے؟

3. مشکلات اور بحرانوں کا مقابلہ:
اقرا یونیورسٹی کو اپنے سفر میں کئی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں بانی ہنید lakhani کی اچانک وفات، انتظامی تبدیلیاں، اور COVID-19 جیسی عالمی وبا شامل ہیں۔ لیکن یونیورسٹی نے ہر مشکل وقت میں نئے پروگرامز متعارف کروائے، جیسے کہ ہائبرڈ لرننگ ماڈل اور مالی امداد کے اسکیمز۔ کیا یہ لچکدار رویہ اقرار یونیورسٹی کی سب سے بڑی طاقت ہے؟

4. کیا غیر تعلیمی سرگرمیاں تعلیم کو متاثر کر رہی ہیں؟
اقرا یونیورسٹی کی ثقافتی اور تفریحی سرگرمیاں نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں، لیکن کیا یہ طلبہ کی تعلیمی توجہ کو کمزور کر رہی ہیں؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سرگرمیاں طلبہ کی شخصیت کو نکھارنے اور انہیں عملی زندگی کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتی ہیں، جبکہ دوسروں کا ماننا ہے کہ یہ صرف “ٹرینڈی” یونیورسٹی کا امیج بنانے کا حصہ ہیں۔

5. مستقبل کے چیلنجز اور امکانات:
آج اقرار یونیورسٹی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنائے جبکہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بھی سنبھالے۔ کیا نئی انتظامیہ اس توازن کو برقرار رکھ پائے گی؟ کیا وہ جدید تحقیق، فیکلٹی ڈویلپمنٹ، اور عالمی معیار کے کورسز متعارف کروا پائیں گے؟ آنے والے سالوں میں اقرار یونیورسٹی کی کامیابی کا انحصار انہی فیصلوں پر ہوگا۔

(اختتامی نوٹ):
اقرا یونیورسٹی نے مشکل حالات میں بھی اپنا سفر جاری رکھا ہے، لیکن اب اسے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ کیا یہ ادارہ ایک “ٹرینڈ سیٹر” یونیورسٹی بن کر رہ جائے گا، یا پھر وہ اپنے تعلیمی معیار کو عالمی سطح پر منوائے گا؟ وقت ہی اس سوال کا جواب دے گا۔

#IqraUniversity #EducationForAll #FutureOfPakistan #HigherEducation #StudentSuccess

#IqraUniversity #PMYP #PrimeMinisterYouthProgram #DigitalYouthHub #YouthEmpowerment

(یہ خبر اقرار یونیورسٹی کے موجودہ چیلنجز اور کامیابیوں دونوں کو اجاگر کرتی ہے، جس میں تعلیمی معیار پر سوالات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا گیا ہے۔)