مختصر جنگ بہت کچھ عیاں۔ مودی سمجھ گیا مسلہ کشمیر زندہ ہے۔۔

سچ تو یہ ہے،


بشیر سدوزئی،
============

ایک روز پہلے تک جب بھارت پاکستان پر میزائل، اسرائیلی ڈرونز کی بارش اور بھارتی میڈیا کراچی سمیت سارے پاکستان کو فتح کر چکا تھا تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاک بھارت جنگ کو رکوانے میں کوئی رول ادا نہیں کرے گی۔ اچانک ایسا کیا ہوا کہ گھنٹوں میں پالیسی بدل گئی، ٹرمپ سمیت سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو متحرک ہو گئے، ساری دنیا بھیچ میں آ گئی۔ آناً فاناً سیز فائر کا اعلان بھی ہو گیا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ جے ڈی وینس کی غیرجانبداری کا بیان بھارت کی طرف داری تھا۔ اس حوالے سے میں تو پرانی رائے پر قائم ہوں کہ یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ مودی ملاقات میں بھی اس طرح کی حکمت عملی پر غور ہوا ہو کہ پاکستان کو کیسے دبا کر اپنی بات منوائی جائے کہ بھارت کو چین کے مدمقابل کھڑے کرنے میں پاکستان کا بھی تعاون حاصل کیا جائے۔ لیکن امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری کو پاکستان کی عسکری طاقت کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ امریکہ سمجھ رہا تھا کہ پاکستان کو مار پڑھ رہی ہے دو چار دن میں بھاگا ہوا ہمارے پاس آئے گا تو اپنی شرائط پر ثالثی کراوں گا، لیکن یہاں تو گیم ہی پلٹ گئی۔ وہ بلا وجہ بھارت کو علاقہ کا تھانیدار بنانے پر تلا ہوا تھا، جس ملک میں 40 کروڑ انسان بنیادی سہولیات سے محروم ہوں، جس ملک کی قیادت فصطائی سوچ کی حامل ہو جہاں انسانی حقوق کا احترام اور انصاف نہ ہو وہ ملک کیوں کر قیادت کا حق دار ہو سکتا ہے، یا وہاں امن کیسے ممکن ہے۔ بھارت نے یہی تاثر قائم کیا ہوا تھا کہ خطہ میں کوئی ایسا ملک نہیں جو اس کی طاقت کو چیلنج کرے۔ پاکستان کی دو دن کی دفاعی حکمت عملی کو بھی امریکہ پاکستان کی کمزوری سمجھ بیٹھا ہو گا، لیکن پلٹ کر جو تگڑا جواب ملا تو بھارت کو دن میں تارے نظر آنے لگے اور فورا سفید جھنڈا بلند کر دیا۔ ترجمان پریس کانفرنس میں سیز فائر کی باتیں کرنے لگی، یہ ممکن نہیں کہ بھارت کی درخواست کے بغیر امریکہ خود کھود کیا ہو یا سعودی شہزادے ہمارے ہمدردی میں آ گیا ہو، پاکستان کے جواب نے بہت کچھ عیاں کر لیا اور مودی جی کے ہوش ٹھکانے آنے کے ساتھ دنیا کو بھی خبر ہو گئی کہ معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا مودی ان کو بتاتا رہا ہے۔ اسرائیل بھی ایک مرتبہ ہل گیا ہو گا جس کے بارے میں خبریں تھیں کہ اس کی فوجیں کشمیر میں موجود ہیں، تب ہی سیز فائر کی آواز پہلے بھارت کی جانب سے سامنے آئی لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت اتنی چلاک و مکار ہےکہ ان کی بات اور وعدے کو حتمی سمجھ کر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ گو کہ بہت ہی مختصر جنگ ہوئی لیکن خوب ہوئی، اس مختصر وقت میں فیصلہ ہو گیا کہ بھارت تنا علاقے کا چوہدری نہیں۔ بھارت دعویدار ہے کہ اس نے پاکستان کا بہت نقصان کیا، اور پاکستان نے جو کیا وہ دنیا نے دیکھا۔ کشمیری کہہ رہے ہیں کہ اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان ان کا ہوا خواہ وہ مالی ہوا ہو یا جانی۔ کسی حد تک یہ سچ بھی ہے کہ جموں و کشمیر کا علاقہ حویلی ہو یا بھارتی مقبوضہ کشمیر کا علاقہ پونچھ، یا راجوری، کشتواڑ، پہلگام ہو یا ہجیرہ اور نیلم جہلم، کشمیریوں کے ہی گھر اجڑے اور گاوں ویران ہو گئے لیکن اس جنگ میں کشمیریوں کو جو فائدہ ہوا وہ اس نقصان سے بڑا ہے۔ کشمیریوں کو سب سے بڑا یہ فائدہ ہوا کہ ان کہ حوصلے بلند ہوئے کہ بھارت نے ابھی کشمیر پر قبضہ نہیں کیا، پاکستان کے ٹینکوں میں ڈیزل موجود ہے، ماضی بولنے والے اب موجود نہیں ہیں یہ نئی دنیا اور نیا پاکستان ہے جہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو ماضی بھی یاد ہے اور حال کے بارے میں خبردار بھی ہیں اور چاتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی سے پہلے مسئلہ کشمیر حل ہو۔ یہ لوگ ایک لاکھ نوجوانوں کے خون کو ابھی بھولے نہیں جن کو بھارتی فورسز نے بے گناہ قتل کیا۔ اس جنگ میں یہ بھی عیاں ہوا کہ 5 اگست 2019ء کو مسئلہ کشمیر ختم نہیں ہوا تھا بھارت نے غیر قانونی اور ناجائز قبضہ کیا تھا۔ اس جنگ نے مودی کے اس دعوی کو بھی غلط اور حقیقت کو عیاں کر دیا کہ 370 اور 13 ڈی کے خاتمے سے جموں و کشمیر میں امن قائم ہو گیا اور کشمیری مطمئن ہو گئے 22 اپریل 2025ء پہلگام واقعہ سے اب تک سری نگر کا لال چوک گواہ ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام پاکستانی موقف کے ساتھ کھڑے ہیں اور مودی کے بیانیہ کو اعلانیہ مسترد کر چکے، 22 اپریل کے بعد فاشسٹ حکومت نے 50 سے زیادہ گھروں کو بموں سے اڑایا اور چار ہزار سے زائد گرفتار 20 سے زائد ہلاک کر لیے، لیکن کشمیری مودی کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے تیار نہیں نہ اس کے بیانیے کو تسلیم کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں امن ہو گیا۔ اس جنگ سے کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند ہوں گے اور زیادہ شدت سے قابض بھارتی فورسز حملہ آور ہوں گے۔ مسئلہ کشمیر پر اب دنیا توجہ دے گی کہ اس نوعیت کی جبگ دوبارہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس مختصر جنگ نے بھارت کا عالمی فوجی طاقت بننے کا خواب خاک میں ملادیا۔ اور امریکہ پر عیاں کر دیا کہ عددی برتری اور رقبہ کی وسعت کی بنیاد پر بھارت اکیلا خطہ کا چوہدری نہیں بلکہ دو ایٹمی طاقتیں فوجی قوت اور عسکری ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہم پلہ ہیں کسی ایک کے ترازو میں وزن ڈالنے سے نہ صرف خطہ میں طاقت کا توازن بگڑے کا بلکہ خوف ناک تصادم تیار کھڑا ہے جیسا کہ صرف تین دن میں ہی دنیا نے دیکھ لیا۔ دنیا کو یہ بھی عیاں ہو گیا اگر بھارت عالمی طاقت بننے کی صلاحیت رکھتا ہوتا تو صرف چار یوم کے اندر ہی امن اور سیز فائر کی پیش کش کیوں کرتا۔ پنڈ کا چوہدری تو چوتے پر ناک سے لیکریں نکلواتے ہیں یہاں چوہدری کا ناک خود چوتے پر آ گرا۔ اس مختصر جنگ نے مودی کو بتا دیا کہ مسلہ کشمیر ابھی زندہ ہے اور اب مسئلہ پنجاب بھی کھڑا ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فوج میں سکھوں کی کئی پلاٹونوں نے پاکستانی فوج کے سامنے لڑنے سے انکار کر دیا۔ اس جنگ نے مودی پر یہ بھی عیاں کر دیا کہ ہندو فسطائیت کی بنیاد پر اب بھارت کو زیادہ دیر یکجا نہیں رکھا جا سکتا اور نہ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی فسطائیت بھارت میں زیادہ عرصہ بحال رہ سکے گی۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد مودی کی سربراہی میں اعلیٰ حکومتی اور فوجی قیادت کا اجلاس ہوا۔۔ جہاں مودی کو صورت حال سے آگاہ کیا گیا کہ جنگ جاری رکھنا بھارت کی معاشی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا۔ اگر صنعتوں پر میزائل گرنے لگے تو سرمایہ کار بھاگ جائیں گے۔ تب ہی مودی سرکار نے امریکہ بہادر سے رابطہ کیا اور اس مشکل سے نکالنے کی درخواست کی۔ معصوم کشمیریوں کے قاتل اور دہشت کی علامت جموں کے کمیشنر راج کمار تھاپا پاکستانی شیلنگ میں ہلاک ہوا جو کشمیریوں کے لیے اطمینان کا باعث ہے۔ اس جنگ میں بھارتی میڈیا بھی عیاں ہوا کہ بین الاقوامی سطح پر اب ان کی خبروں پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اب تازہ اطلاع ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے لیے سعودی عرب کا شہر ریاض منتخب کیا جا رہا ہے۔ جہاں آئندہ ہفتے باقی امور پر بات چیت ہوئی گی۔ ہمیں یہ خدشہ ہے کہ میدان میں جیتی ہوئی جنگ ٹیبل نہ پر ہار دی جائے، ماضی کی طرح دونوں ملک باہمی بات جیت سے مسائل حل کریں گے، پر بات ختم نہیں ہونا چاہئے بلکہ پہلی ترجیح کے طور پر مودی کشمیر میں 4 اگست 2019ء کی پوزیشن میں واپس جائے گرفتار حریت پسندوں اور سیاسی کارکنوں، خرم پرویز سمیت انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافی کو فوری رہا کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق جو معطل ہیں فوری بحال کئے جائیں کالے قوانین ختم اور سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے لیے فضاء ساز گار بنائی جائے۔ آرمی چیف جنرل آصف منیر صاحب سے درخواست ہے کہ ان مذاکرات کی بھی خود نگرانی کریں جیسے مسئلہ کشمیر کو زندہ کیا۔ کشمیری پاکستان کے آرمی چیف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر دنیا کے سامنے ٹیبل پر پہنچایا اور مودی کے بیانیہ کو میدان میں شکست دی۔