
تحریر: ماریا اسماعیل
سندھو دریاہ سے جڑی دھرتی، جہاں دریاؤں کے گیت گاتا اس کی پہچان ہے، آج وہ دھرتی پیاس کی دہائی دے رہی ہے، آج سندھ تپتی زمین اور سوکھی نہروں کی تصویریں بناتاجارہاہے۔ گذشتہ دو سالوں سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے اب یہاں کے مکینوں کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
محکمہ موسمیات نے اس سال کو بھی خشک سالی کاسال بتایاہے۔ 2022 میں سیلاب نے ہمارے گاؤں گوٹھ کوتباہ کردیاہے ۔ہمارے لوگ خوشحال تھے ۔کھیتی باڑی کرتے ۔ماہی گیری کرتے اورمویشی پالتے مگریہ ساراکام پانی سے ہوتاہے ۔جب پانی ہی نہیں تو لوگ کیاکریں گے۔ ایک لمبی سانس لیتے ہوتے شیخ کیریوبھنڈاری گاؤں کے معزز شخص علی بچایو نے یہ دکھڑا بتایا۔

زیریں سندھ کا ضلع بدین جس کی آبادی تقربیا15لاکھ، مربع 21ہزارکلومیٹرپرپھیلا ہواہے ۔مرداورخواتین کی تعدادبرابر، جبکہ بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔یہاں سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے ۔بدین کے بہت سے گاؤں جہاں پانی نہ ہونے کے برابرہے۔اس خطے کو لاڑ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جہاں دریائے سندھ سمندرسے ملتاہے ۔انگریزوں کے آب پاشی نظام سے قبل جب دریائے سندھ سمیت چھوٹی بڑی ندیاں پورا سال سندھ کی مٹی کو سیراب کردیتی تھیں۔ تومقامی لوگ پانی اترنے کے بعد بیج چھوڑا کرتے تھے اور بمپرکراپ حاصل کرتے تھے۔
دریائے سندھ اوردیگرندیوں کاپانی سندھ کے میدانوں کو بھی زیر آب کرنےکے بعد ڈیلٹاسے سمندر کی جانب سفر کرتا جاتاتھا۔جس سے یہ علاقہ سرسبزوشاداب علاقہ سمجھا جاتاتھا۔گذشتہ کئی سالوں سے اس خطہ میں زمینین بنجراورغیرآبادہوچکی ہیں۔کیونکہ یہاں پانی دسیتباب نہیں ہے ۔جوپانی ہے وہ اتنہائی زہریلااورکڑواہے۔ جسے کسی بھی صورت استعمال میں نہیں لایاجاسکتاہے ۔
یہاں لال چاول ۔گندم اورکپاس جیسی اجناس پیداہوتی تھیں ۔کئی اقسام کے پھل اورسبزیاں اگائی جاتی تھی ۔لوگ ماہی گیری کرکے مچھلیاں پکڑتے تھے مگرپانی نہ ہونے کے سبب اب یہاں ہرطرف ریت اڑرہی ہیں ۔
بات کرتے ہیں ضلع بدین کے گاؤں شیخ کیریوبھنڈاری کی جو سمندر سے قبل آخری گاؤں ہے جس بعد کوئی آبادی نہیں، یہ علاقہ پاک بھارت بارڈر سے متصل ہے۔اس علاقہ کی آبادی تقربیا800 اور۔50گھرانے آباد ہیں۔ جب سندھو کی روانی تھی، لوگ خوشحال تھے، تو پہلے علاقہ بھی آباد اور ہریالی و آبادی تھی 2022 میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعدپانی نہ ہونے کی صورت میں یہاں سے کافی لوگ چلے گئے ۔شیخ کیریوبھنڈاری بدین شہرسے تقربیا 40کلومیٹرجنوب میں بحیرہ عرب کے کنارے واقع ہے۔شیخ کیریوکااہم شحض علی بچایواپنے ماضی کویادکرکے کہتاہے کہ ہماراعلاقہ اتناخوشحال تھاکہ ہمارے گاؤں کے قریب ایک صوفی بزرگ شیخ کیویوبھنڈاری کامزارواقع ہے جہاں پرہرماہ میلہ لگتاتھااس میں دودھ لے کرجاتے تھے، جانوروں کے لیے اس کے بدلے گھاس دیاجاتاتھا۔ان کا کہناہے ہم کھیتی باڑی کرتے تھے مگردریااورسمندر نے ملکرہماری زراعت کوختم کردیاہے ۔علی بچایونے بتایااب ہم سمندرکے کنارے ہی مچھلیاں پکڑتے ہیں وہ کھانے کے قابل نہیں مگردوسرے کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ان کاکہناتھایہاں موجودہ نہروں میں سال میں ایک یا دو بار پانی آتاہے جسے لوگ بڑے بڑے گڑھوں میں تالاب کی شکل میں جمع کرکے سالوں تک اس پانی کوچھان کر کھانے اورپینے کے لیے استعمال کرتے ہیں یہی پانی جانورب ھی پیتے ہیں ۔
شیخ کیریوبھنڈاری گاؤں کی خواتین کافی محنتی اورجفاکش ہیں ۔نسیمہ زوجہ گلزارنے کہاکہ اس نے پانچویں کلاس تک تعلیم حاصل کی ہے بعد میں اس کے قربیی رشتہ دارکے ساتھ اس شادی ہوگئی ان کے چاربچے ہیں ۔زندگی مشکل ہونے کہ باوجود بڑی خوش اخلاق سے انہوں نے بتایاکہ میراشوہرکیکڑے پکڑکرمارکیٹ میں فروخت کرتاہے پراس کا بھی ایک سیزن ہوتا ہےجب سیزن نہیں ہوتاتو گھرمیں سلائی اورکڑھائی کرکے اپنے خاندان کاپیٹ پالتی ہوں ۔انہوں بتایاہمارے گاؤں میں اسکول ہے نہ اسپتال اورنہ ہی واش روم ہے۔اس کے لیے جنگلوں میں جاناپڑتاہے۔نسیمہ گلزارنے بتایاصحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ایک خاتون رضیہ بچے کی پیدائش کے دوران چل بسی ۔کیونکہ بدین بہت دورہے ۔اسپتال جاتے ہوئے حاملہ خواتین کابراحال ہوجاتاہے ۔ہمارے گاؤں میں کوئی دائی نہیں ہے جوکہ مشکل وقت میں کام آسکے۔
علی بچایواورنسیمہ سمیت دیگرلوگوں کاکہناہے ہمارے گاؤں میں کسی بھی قسم کی سہولیات موجود نہیں ہیں
شیخ کیریوگاؤں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لاڑ ہیومینیٹرین اینڈڈیوپلیمنٹ پروگرام (ایل ایچ ڈی پی) کے ایگزیکیٹوڈائریکٹرز اقبال حیدر اور ڈائیریکٹر آپریشن عبدالله سے پوچھا توانہوں نے بتایاکہ ہمارامحکمہ سندھ کے 1800 گاؤں میں کام کررہاہے۔جن میں شیخ کیریو۔حاجی حجام۔علی محمد ملا ۔الله بچایو۔روپاماڑی۔صدیق میندوھرو سمیت دیگر شامل ہیں ۔ہم وسائل کے مطابق سہولیات پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ ایل ایچ ڈی پی اورانڈس کنسورشیم دونوں ساتھ ملکرکام کررہی ہیں ۔جب سیلاب آتاہے توہم ایمرجنسی کی بنیاد پرکام کرتے ہیں ہم وائرایڈاورواٹرسینیٹیشن پرکام کرتے ہیں ۔انہوں بتایاکہ ایل ایچ ڈی پی ایریاکے لحاظ سےعلاقوں میں مختلف کام ہوتے ہیں گاؤں شیخ کیریواوراس کے آس پاس کے علاقوں میں 35ایکڑبنجرزمین کی بحالی کے لیے سمندرکے نیچے کی زمین مہیاکی ہے ۔دوپانی کے تالاب بنائے گئے جہاں یہ لوگ برسات میں پانی کواسٹورکرتے ہیں اورکیکڑوں کی فارمنگ سمیت دیگرکام کیاہے۔
انہوں بتایاکہ ماتلی اورٹنڈوبھاگوسے گیس نکلتی ہے لیکن شیخ کیریوگاؤں گیس سے محروم ہے یہاں اس کاتصورنہیں کیاجاتاہے۔یہاں لوگ دوردرازعلاقوں سے لکڑیاں لے کرآتے ہیں ۔
انڈس کنسورشیم کے سی ای اوحسین جروارکے مطابق یہ کمیونٹیز دراصل ارباب اختیار حکمرانوں کی جانب سے عوام کی رضامندی یا غور و فکر کے بغیر کیے جانے والے فیصلوں کی قمیت اداکررہے ہیں ان کے پانی کے حقوق کا تحفظ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے یہ انصاف، بقاء حیات اور مساوات کامعاملہ ہے۔
شیخ کیریوسمیت بدین کے لوگ صاف پانی کو ترس رہے ہیں کیونکہ پانی انسانی بقاکے کیے اتنہائی اہم ہے























