کینیڈا کی نئی امیگریشن پالیسی: خوش آمدید کے بعد احتیاط کا دور”

سچ تو یہ ہے،

کینیڈا کی نئی امیگریشن پالیسی: خوش آمدید کے بعد احتیاط کا دور”

بشیر سدوزئی(ٹورانٹو)

کینیڈا، جسے دنیا بھر میں ایک لبرل، انسان دوست اور گزشتہ کئی عشروں سے تارکین وطن اور مہاجرین کو خوش آمدید کہنے والی ریاست سمجھا جاتا تھا۔ لگتا ہے اب یہ بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے اور اس میں کافی حد تک احتیاط کا دور شروع ہوا ہے۔ اسی باعث سرکاری سطح پر امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب بھی نہ لیا جائے کہ کینیڈا نے تیسری دنیا کے ذہن اور ہنر مند نوجوانوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دیئے ہیں یا میزبانی کی اپنی سابق روایات سے یک سر منہ پھیر لیا ہے۔ بلکہ امیگریشن میں بنیادی تبدیلیاں اور کچھ پابندیاں لگا کر پہرے بیٹھانے کا اعلان کیا ہے تاکہ کینیڈا میں داخل ہونے والوں کی تعداد کو محدود، اور رفتار کو کم اور کنٹرول کیا جا سکے۔ یہ اقدام کثیر تعداد میں تارکین وطن کی آمد اور یہاں کینیڈا میں پیدا ہونے والے شہری مسائل کے پیش نظر کیا گیا جن سے کینیڈا کا عام شہری متاثر ہو رہا ہے۔ اب کینیڈا آنے والوں کو ذرا سخت مراحل و مسائل سے گزرنا پڑے گا اور کچھ سخت سوالات کے جوابات بھی۔ بظاہر تو یہی بتایا جاتا ہے کہ یہ پابندیاں وقتی ہیں جب تک آنے والوں کے لیے رہائش، میڈیکل اور دیگر بنیادی سہولیات میسر نہیں آتی، لیکن اس کی وضاحت نہیں کی جارہی کہ ان سہولتوں کی فراہمی کا امکان کب تک ہو سکے گا۔ لبرل پارٹی کے نئے سربراہ اور نومنتخب وزیرِاعظم مارک کارنی، جنہوں نے ہنگامی بنیادوں پر مارچ 2025ء میں حکومت اور پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تھی، قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ان مسائل پر جلد ہی قابو پا لیا جائے گا، جو کووڈ 19 کے بعد جسٹن ٹروڈو کی امیگریشن پالیسی سے پیدا ہوئے۔ جناب کارنی 28 فروری کو انتخابات جیت کر نئے بیانیے کے معمار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ جسے کینیڈین کی آواز سمجھا جانا چاہئے۔ یہاں کئی کینیڈین شہریوں سے اس موضوع پر بات چیت ہوئی جن کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں امیگریشن پر پابندی اہم نہیں اصل بات یہ ہے کہ حکومت غیر فطری اور غیر معمولی آبادی میں اضافہ کے ساتھ نئے آنے والوں کے لیے ضروریات زندگی کا انتظام بھی کرتی ہے کہ نہیں۔ کینیڈین عوام کو لبرل پارٹی کے سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی پالیسی پر یہی اعتراض رہا کہ شہری سہولتوں کی فراہمی کے بغیر ہی لاکھوں لوگوں کو کینیڈا بلا لیا گیا جس سے ملک بھر میں رہائش، روزگار اور دیگر سمیت مسائل پیدا ہوئے اور بروقت لاکھوں مکانات کی کمی کے باعث رہائش اتنی مہنگی ہو گئی کہ ہر فرد پریشان ہو گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قائم کی جانے والی ” امیگریشن کی نئی حدیں اسی وقت تک قائم رہیں گی جب تک ہم رہائش کا نظام وسیع نہ کر لیں اور اس امیگریشن کی سطح کو سمجھ نہ لیں جو وبا کے دوران ہمارے ملک میں پیدا ہوئی۔” یہاں کینیڈا میں عام آدمی کے زیر غور صرف یہی بات ہے کہ نئے آنے والوں سے کینیڈا کو کیسے محفوظ رکھا جائے، یہ سوج تو فرسٹ جنریشن یا ان کینیڈا ہی کی نہیں جو اس ملک کے اصل پاشندے ہیں بلکہ تارکین وطن اور ان کی اولادیں بھی ایسا ہی سوچتی ہیں کہ ہمارے پاس اب یہی رہ گیا ہے کہ بیت الخلا بند کر کے وہاں چارپائی لگا دی جائے اور حاجت روائی کے لیے ٹورانٹو کے پارکوں اور گرین بیلٹ میں گھڑے کھودئے جائیں۔ ایسے حالات میں کامیابی کے فوری بعد نومنتخب وزیراعظم کا یہ بیان صرف سیاسی اعلان نہیں بلکہ ایک نیا فکری موڑ ہے جو کینیڈا کی آنے والی زندگی کا تعین کرے گا۔ سال 2025ء کی امیگریشن پالیسی اور 2025ء 2027ءلیول پلان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت اب امیگریشن کو صرف انسانی ہمدردی یا اقتصادی ترقی کی عینک سے نہیں بلکہ ریاستی بقا اور سماجی توازن کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کی قیادت میں 2024ء تک امیگریشن کی سالانہ حد 500,000 تک جا پہنچی تھی۔ یہ فیصلہ کووِڈ-19 کے بعد لیبر مارکیٹ کی ضروریات، کم ہوتی آبادی کی شرح اور بین الاقوامی اخلاقی دباؤ کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ جسٹن ٹروڈو کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ وہ سیاست دان سے زیادہ انسان دوست شخصیت ہیں لیکن لگتا ہے اب کینیڈا یہ سوچتا ہے کہ اس کو انسان دوست قائد کی نہیں بلکہ ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو کینیڈا کو امریکی سحر تخیل سے نکالے اور بے روزگاری و مہنگائی پر قابو پائے۔ کینیڈین یہ بھی چاتے ہیں کہ ہمیں اب صنعت و حرفت اور ایگریکلچر کی طرف بھی آنا چاہیے جو پہلے واجبی سا ہے۔ تاہم، نئی حکومت نے ٹروڈو کی امیگریشن پالیسی جو سالانہ 5 لاکھ تک پہنچ گئی تھی کو غیر پائیدار قرار دیتے ہوئے نئے اہداف مقرر کیے ہیں جس کے مطابق سال 2025ء کے دوران ایک لاکھ پانچ ہزار کی کمی کر کے 395,000 کی حد مقرر کی ہے۔ اسی طر 2026ء کے دوران 380,000 اور سال2027ء کے 365,000 افراد قانونی طور پر کینیڈین شہری بن سکیں گے۔ اس وقت کینیڈا کی آبادی چار کروڑ سے تجاوز کر چکی لہذا یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت ہر سال دی جانے والی مستقل رہائش کی منظوریوں کو کینیڈا کی مجموعی آبادی کے 1% سے نیچے رکھنا چاہتی ہے جس کے لیے شہری سہولتوں کی فراہمی حکومت کے لیے آسان رہیں گی۔ جنوری 2025 تک، کینیڈا میں تقریباً 3.02 ملین عارضی رہائشی موجود تھے — جو کہ ملک کی آبادی کا 7.25 فیصد بنتے ہیں۔ یہ تعداد نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ رہائش، صحت اور روزگار جیسے شعبوں پر شدید دباؤ کا سبب بنی اور یہاں ہی سے کینیڈا کے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا۔ اب حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ 2027ء تک یہ تناسب 5 فیصد سے نیچے لانا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے چند عملی اقدامات تجویز کیے ہیں۔، جن میں اسٹڈی پرمٹ کی تعداد محدود کرنا، پوسٹ گریجویشن ورک پرمٹ کے معیار میں سختی، اوپن اسپاؤس ورک پرمٹ (SOWP) پر پابندی، بعض کیسز میں عارضی رہائشیوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت، مستقل رہائش کے لیے نئے مواقع تخلیق کرنا وغیرہ وغیرہ۔۔ اس اسکیم سے بھی کینیڈا میں بڑتی ہوئی غیر فطری آبادی کے اضافہ میں کافی حد تک کنٹرول ہو سکے گا۔ یہ اقدامات اگرچہ فوری طور پر کینیڈا آنے کے خواہش مندوں کو متاثر کریں گے، لیکن کینیڈا کی طویل المدتی پالیسی کا حصہ ہیں جو معاشی اور سماجی توازن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
انتخابات جتنے کے فوری بعد 3 مئی کو وزیرِاعظم کارنی نے اعلان کیا کہ کیوبیک کے علاوہ دیگر صوبوں میں فرانسیسی بولنے والے افراد کی امیگریشن کو فروغ دیا جائے گا۔ 2025ء میں یہ شرح 8.5%، 2026ء میں 9.5% اور 2027ء میں 10% تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف فرانکوفون ثقافت کے فروغ کے لیے ہے بلکہ لیبر مارکیٹ کی علاقائی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش بھی ہے۔ گویا کینیڈا آنے والے نوجوانوں کو اب انگریزی کے ساتھ ساتھ فرانسسی بھی سیکھنا ہو گی۔ کارنی حکومت کا یہ اعلان کینیڈا آنے والوں کے لیے امید کی کرن ہے کہ “Global Skills Strategy” کو ازسرنو فعال کرے گی تاکہ دنیا بھر سے اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کو دو ہفتوں کی تیز رفتار ویزا پراسیسنگ کے ذریعے کینیڈا بلایا جا سکے۔ یہ پالیسی خاص طور پر امریکی ٹیکنالوجی انڈسٹری کے تناظر میں اہم ہے، جہاں کئی ہنر مند افراد سخت امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے متبادل مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ کینیڈا اس خلا کو پُر کرنے کے لیے میدان میں اُتر آیا ہے۔تاکہ امریکہ سے نکالے جانے والے ہنر مند نوجوانوں کو کینیڈا میں بسایا جائے۔ مارک کارنی نے ایک غیر معمولی بات یہ کہی: “جیسا کہ میں مہینوں سے خبردار کر رہا ہوں، امریکہ ہماری زمین اور وسائل پر نظریں جمائے ہوئے ہے… یہ کوئی عام دھمکی نہیں، بلکہ ٹرمپ یہ کوشش کر رہا ہے تاکہ امریکہ ہمیں حاصل کر سکے، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔” یہ بیان بظاہر سیاسی ہو سکتا ہے، لیکن اس میں ایک بنیادی پیغام پوشیدہ ہے — کینیڈا اب خود کو عالمی سیاست کے ایک نازک مقام پر محسوس کر رہا ہے، جہاں داخلی توازن اور خارجی دباؤ دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ لہذا کینیڈا کی امیگریشن پالیسی میں یہ نئی تبدیلیاں صرف قانونی اور انتظامی نہیں، بلکہ نظریاتی اور معاشرتی بھی ہیں۔ اسی باعث وزیرِاعظم مارک کارنی نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جو نہ صرف معاشی ضرورتوں کو تسلیم کرتا ہے بلکہ شہریوں کے تحفظات اور ریاستی ساخت کو بھی سامنے رکھتا ہے۔ اس پالیسی کا اصل فیصلہ وقت کرے گا کیا یہ اعتدال کی طرف قدم ہے یا بندش کی طرف واپسی؟ کیا یہ معاشرتی ہم آہنگی کی ضمانت بنے گا یا عوامی خدمات پر مزید سوالات کھڑے کرے گا؟ فی الحال، کینیڈا ایک ایسے مرحلے پر ہے جہاں خوش آمدید کے دروازے کھلے ضرور ہیں، مگر ان دروازوں پر اب احتیاط کی چوکیدار بھی تعینات ہے۔