گزشتہ برس ماں اوربیٹی کوقتل کرکےان کی لاشوں کےٹکڑےکرکےنہرمیں بہانےکا اعتراف

کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی بڑی کاروائی جدید ٹریسنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ماں اور بیٹی کو قتل کر کے انکی لاشوں کی بےحرمتی کرنیوالے3 ملزمان گرفتارکرلیے گئے۔

سی سی ڈی نےکاروائی کرتےھوئےگزشتہ برس قتل ہونےوالی دو خواتین کے اندھےقتل کا قلیل مدت میں سراغ لگالیا،ملزمان نے گزشتہ برس ماں اوربیٹی کوقتل کرکےان کی لاشوں کےٹکڑےکرکےنہرمیں بہانےکا اعتراف کر لیا۔

مدعیّہ اقرا بی بی نےگزشتہ برس اپنی والدہ اوربہن کی گمشدگی کےمقدموں کا اندراج تھانہ ہیئر لاہور اور ضلع فیصل آباد میں کروایا تھا۔

سی سی ڈی نےجدید ٹریسنگ ٹیکنالوجی کی بنیادوں پردونوں خواتین کی گمشدگی کےکیس کی تفتیش کی لاہوراورضلع فیصل آباد سےتینوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے،ملزمان محمد یوسف،ناصر اورمحمد منصب کوگرفتارکرکے آلہ قتل برآمد کر لیاگیا تفتیش جاری ہے۔

murder case
crime
punjab

بلوچستان: مسلح افراد نے نوشکی خاران روڈ منصوبے پر کام کرنیوالے 4 مزدور اغوا کرلیے
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے البات میں نامعلوم مسلح افراد نے نوشکی- خاران روڈ پروجیکٹ پر کام کرنے والے 4 مزدوروں کو اغوا کرلیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق لیویز حکام نے بتایا کہ ایک نجی تعمیراتی کمپنی کی جانب سے نوشکی-خاران روڈ کی تعمیر کا کام جاری تھا، کمپنی نے البات کے علاقے میں کیمپ قائم کر رکھا تھا، مسلح افراد کا ایک گروپ جائے وقوع پر پہنچا اور تعمیراتی مشینری پر فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا۔

حملہ آوروں نے اسلحے کے زور پر 4 مزدوروں کو یرغمال بنا لیا اور علاقے سے فرار ہوگئے، اطلاع ملنے پر سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر مغوی کارکنوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

قیدیوں کو لے جانے والے مغوی پولیس اہلکار تاحال لاپتا

ایک اور واقعے میں ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں مسلح افراد کی جانب سے 10 زیر سماعت اور سزا یافتہ قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی کی حفاظت کے دوران اغوا کیے گئے 5 پولیس اہلکاروں کے حوالے سے بھی کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔

قیدیوں کو ضلع حب کی گڈانی جیل سے کوئٹہ اور مچھ جیل میں منتقل کیا جا رہا تھا، حکام نے بتایا کہ مسلح عسکریت پسندوں نے منگوچر میں کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ کو بند کر رکھا تھا، انہوں نے قیدیوں کی وین کو روکا۔

حملہ آوروں نے گاڑی چھین لی، 10 قیدیوں کو رہا کیا اور بندوق کی نوک پر 5 پولیس اہلکاروں کو سرکاری اسلحے سمیت قریبی پہاڑی علاقوں میں لے گئے، تاہم انہوں نے ڈرائیور اور گاڑی کو چھوڑ دیا تھا۔

سیکیورٹی فورسز نے مغوی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک افسر سمیت 5 پولیس اہلکاروں کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے، گروپ نے مغوی افسران کی تصاویر بھی جاری کیں۔
https://www.dawnnews.tv/news/1258628/