
“پاکستانی خاتون سے شادی پر انڈین اہلکار کی برطرفی… الزامات اور حقیقت”
انڈیا کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے اپنے ایک اہلکار کو پاکستانی شہری سے شادی کرنے اور اسے محکمے سے چھپانے کے الزام میں فوری طور پر برطرف کر دیا ہے۔ تاہم، ملزم اہلکار نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے شادی سے پہلے ہی تمام قانونی دستاویزات جمع کرا دی تھیں۔
کیا واقعی شادی چھپائی گئی؟
سی آر پی ایف کے مطابق، 41 ویں بٹالین کے اہلکار منیر احمد نے اپنی پاکستانی اہلیہ منال خان سے شادی کرتے وقت محکمے کو مکمل آگاہ نہیں کیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے، جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ملازمت سے ہٹا دیا گیا۔

دوسری جانب، منیر احمد کا مؤقف ہے کہ انہوں نے دسمبر 2022 میں ہی شادی کی درخواست جمع کرا دی تھی، جس کے بعد 30 اپریل 2024 کو انہیں باقاعدہ اجازت بھی مل گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ نہیں چھپایا، بلکہ تمام تر قانونی کارروائی مکمل کی تھی۔
منال خان کو کیوں ڈی پورٹ کیا گیا؟
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب منال خان کو جموں سے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ انڈیا کی حکومت نے حال ہی میں کشمیر میں دہشت گردی کے ایک واقعے کے بعد پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد متعدد پاکستانی خواتین کو بھی ڈی پورٹیشن کا سامنا کرنا پڑا ہے، چاہے وہ شادی شدہ ہی کیوں نہ ہوں۔
کیا یہ سیاسی انتقام ہے؟
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہے، کیونکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے موجودہ دور میں ایسے واقعات کو “قومی سلامتی” کے عنوان پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف، سی آر پی ایف کا اصرار ہے کہ یہ صرف اصولوں کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
منیر احمد نے اپنی برطرفی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب، منال خان کے واپس آنے کے امکانات بھی کم ہیں، جس سے ایک بین الاقوامی شادی شدہ جوڑے کی زندگی اجڑ گئی ہے۔
اختتامیہ:
یہ واقعہ نہ صرف ایک اہلکار کی ذاتی زندگی کو متاثر کرتا ہے، بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا سرحد پار کے رشتوں کو ہمیشہ ہی “قومی سلامتی کا خطرہ” سمجھا جائے گا؟ کیا محبت اور قانون کے درمیان توازن ممکن نہیں؟























