معذور بچوں کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ذھنی معذور بچوں کی بحالی صرف طبی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ روٹریئن عابد لاشاری

پریس ریلیز
معذور بچوں کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ذھنی معذور بچوں کی بحالی صرف طبی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ روٹریئن عابد لاشاری
کراچی: معذور افراد کے حقوق کے سرگرم علمبردار اور روٹری کلب نوابشاہ کے متحرک رکن، روٹریئن عابد لاشاری نے پاکستان میں معذور بچوں کے لیے جامع بحالی خدمات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ وہ روٹری ڈسٹرکٹ 3271 کی سالانہ کانفرنس “ڈسکون 2025” کے دوران خطاب کر رہے تھے، جو کراچی میں منعقد ہوئی۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ذہنی معذوری کے شکار بچوں کی بہتری و بحالی کے لیے مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔ عابد لاشاری نے بتایا کہ نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈوالپمنٹ فورم (NDF)، جو محکمہ بحالی معذور افراد (DEPD)، حکومت سندھ اور روٹری کلب نوابشاہ کا شراکت دار ادارہ ہے، اس وقت نوابشاہ، لاڑکانہ، گلستانِ جوہر اور گلشنِ حدید کراچی میں چار بحالی مراکز چلا رہا ہے۔ ان مراکز میں آٹزم، ڈاؤن سنڈروم، دماغی فالج (سی پی)، اے ڈی ایچ ڈی اور دیگر ذہنی معذوریوں میں مبتلا 400 بچوں کو مفت بحالی کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
عابد لاشاری نے ان تمام روٹری کلبوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنے کمیونٹی پروجیکٹس میں معذور افراد کو شامل کیا۔ انہوں نے روٹری ڈسٹرکٹ 3271، روٹری انٹرنیشنل، اور حکومتی اداروں سے اپیل کی کہ وہ خاص طور پر دیہی علاقوں میں ذھنی معذور بچوں کی بحالی کی خدمات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔
عابد لاشاری نے کہا، ’’ذہنی معذور بچوں کی بحالی صرف ایک طبی ضرورت نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر بچے کو اپنی مکمل صلاحیتوں کو حاصل کرنے کا موقع ملے۔‘‘