کم عمر ترین مصنفہ عنایہ عمیر کی کتاب Reel to Reveal کی شاندار تقریب رونمائی، وزیر تعلیم سندھ اور غیر ملکی نمائندگان کی شرکت*

کراچی
مور خہ 2 مئی 2025

کراچی (2 مئی 2025) کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں پاکستان کی کم عمر ترین مصنفہ عنایہ عمیر کی انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب Reel to Reveal کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبہ سندھ کے وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ تھے، جنہوں نے نوجوان لکھاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُن کے ادبی سفر کو سراہا۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرمیتھی، ملائیشیا کے قونصل جنرل حرمن ہارڈیناتا بن احمد، سلطنت عمان کے قونصلیٹ کے نمائندے، معروف ادیب ذوالفقار ہالیپوٹو، اور کتابوں سے محبت رکھنے والے دیگر ممتاز افراد بھی موجود تھے۔ عنایہ عمیر نے یہ کتاب صرف 14 برس کی عمر میں تحریر کی ہے، جس میں “سرپرستی” یعنی مینٹورشپ کے موضوع پر اپنے خیالات اور تجربات کو قلمبند کیا ہے۔ کتاب میں وہ اپنی دادی کو اپنا پہلا سرپرست قرار دیتی ہیں، اور اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ وہ افراد جو ہمیں راستہ دکھاتے ہیں، وہ ہمارے دلوں کے سب سے قریب ہوتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ “گرل رائٹر بننا خود ایک مینٹور بننے کے مترادف ہے۔ عنایہ عمیر نے مثبت راہ دکھانے والوں کے جذبات کو محسوس کیا اور انہیں اپنی تحریر کا حصہ بنایا۔” انہوں نے مزید کہا کہ سرپرستی کوئی محض رہنمائی نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی تجربے کی دولت ہے، “دوسروں کو دیکھ کر سیکھنا بھی خود کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔” سید سردار علی شاہ نے عنایہ عمیر کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے ادبی سفر کی شروعات ہے، جو آگے چل کر ایک بڑی ذمہ داری کی صورت اختیار کرے گا، جہاں عنایہ جیسے بچے ہماری رہنمائی بھی کریں گے۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرمیتھی نے کہا کہ “اپنی ثقافت سے جُڑے رہنا سب سے اہم کام ہے، اور والدین اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔” ملائیشیا کے قونصل جنرل حرمن ہارڈیناتا بن احمد نے کہا کہ “زندگی تجربات اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا عمل ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی اگلی نسل کو بہترین اقدار منتقل کریں۔اس موقع پر عنایہ عمیر نے تقریب کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ “سرپرستی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔ میں ان سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے میری زندگی میں روشنی کی۔ یہ دل سے جُڑا ہوا رشتہ ہوتا ہے، اور میری کوشش ہے کہ اس تجربے کو کتاب کے ذریعے دوسروں تک پہنچاؤں۔” تقریب میں دیگر شرکاء نے اپنے خیالات میں کہا کہ یہ تقریب نہ صرف ایک نوجوان لکھاری کی تخلیقی کاوش کا اعتراف تھی بلکہ ایک مثبت پیغام بھی، جو نسلوں کے درمیان علم اور تجربے کی منتقلی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ہینڈ آؤٹ نمبر 497۔۔۔اے وی