
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی فائن آرٹ کمیٹی کی جانب سے معروف مصور “غالب باقر (تمغہ امتیاز)” کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تقریب کا انعقاد
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی فائن آرٹ کمیٹی کی جانب سے معروف مصور “غالب باقر (تمغہ امتیاز)” کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تقریب کا انعقاد احمد پرویز آرٹ گیلری میں کیا گیا ،تقریب میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے خصوصی شرکت کی ،اس موقع پر چیئرمین فائن کمیٹی فرخ شہاب ، مہر افروز ، معین فاروقی، ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر، عامرہ علی، خالد خان۔ کے اور اشتیاق احمد نے اظہارِ خیال کیا اور کلیم خان ،نگہت یامین ،سرفراز مصور، سیدہ حبیب ویڈیو میسج کے ذریعے تقریب میں شامل ہونے جبکہ غالب باقر کی زندگی پر بنائی گئی شوریل پیش کی گئی، تقریب میں چیئرمین فائن کمیٹی فرخ شہاب نے تمام آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا ، تقریب میں مہر افروز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں غالب باقر کو پچاس سال کے عرصے سے جانتی ہوں غالب باقر کے کام کو ہمیشہ پذیرائی ملی غالب باقر اپنے کام میں خاصی مہارت رکھتے ہیں ،عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ غالب باقر اپنے کام میں پانی کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ہاں نیلا رنگ پس منظر نہیں بلکہ ایک بنیادی کردار ہے جو شام میں تنہائی اور اداسی میں تڑپ نظر آتا ہے جو دیکھنے والے کو ایسے حالات میں لے جاتا ہے جہاں الفاظ مدھم پڑجاتے ہیں اور تصویر خود بولتی ہیں۔ معین فاروقی نے کہا کہ غالب باقر کے کام میں ایک بچپنا نظر آتا ہے غالب باقر میں ابھی تک وہ جوش ہے جو ان کی جوانی میں ہوتا تھا اور ان کے کام میں نظر بھی آتا ہے میں نے دیکھا کہ غالب نے کیسے قدرتی مناظر کو اپنے رنگوں میں بنایا غالب باقر کا کام بہت مختلف ہے ۔عامرہ علی نے کہا کہ غالب باقر کا فن آرٹ اور ادب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے فن پاروں میں واٹر کلر کے ساتھ ساتھ اردو زبان کا حسن بھی جھلکتا ہے۔ غالب باقر نہ صرف مصور ہیں بلکہ ان کی مصوری میں شاعری کی لطافت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔خالد نے کہا کہ غالب باقر ان اساتذہ میں سے تھے کہ جب ایک طالب علم غلطی کرے تو ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کو سمجھاتے تھے، وہ اپنے طالب علموں کے ساتھ دوستوں کی طرح رہتے ہیں واٹر کلر نہایت مشکل میڈیم ہے جس میں غالب باقر مہارت رکھتے ہیں ہم نے غالب باقر سے بہت کچھ سیکھا ہے۔تقریب میں غالب باقر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں آج کا دن کبھی نہیں بھولوں گا۔ میں نے 1972 کے بعد سفید رنگ کا استعمال ترک کر دیا تھا، لیکن 2019 میں ایک پرانا فن پارہ ملا جس میں سفید رنگ کا استعمال کیا تھا۔ یہ بات درست ہے کہ خوبصورتی فن کی روح ہے لیکن سفید رنگ ہمیشہ ضروری نہیں ہوتا۔ میں آرٹس کونسل، فائن آرٹ کمیٹی، اور تمام معزز شرکاءکا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔ تقریب کی نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دئیے ۔
===================


Rs 300
Contact
03323970966























