
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام دو روزہ ”پاکستان لٹریچر فیسٹیول سکھر چیپٹر II“ علم و ادب کے موتی بکھیرتے ہوئے اختتام پذیر ، فیسٹیول میں لاکھوں افراد کی شرکت
ملکی ترقی کے لیے انتہا پسندی کی روک تھام اور آج کے طلباءکو معیاری اور جدید تعلیم سے روشناس کرانا بہت ضروری ہے، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ
سکھر () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میں دو روزہ ”پاکستان لٹریچر فیسٹیول سکھر چیپٹر II“ علم و ادب کے موتی بکھیرتے ہوئے اختتام پذیر ہوگیا، فیسٹیول میں معروف ادیب ، شاعر ،گلوکار ،یونیورسٹیز طلبہ و طالبات سمیت سکھر کی عوام نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی، ادبی نشستوں ، مباحثوں، ادبی و سیاسی شخصیات سے گفتگو سمیت مشاعرہ، میوزیکل پروگرام، کتابوں، کپڑوں اور سندھی ثقافت کی عکاسی کرتے رنگ برنگی دستکاریوں کے اسٹالز شرکاءکی توجہ کا مرکز بنے رہے، اختتامی تقریب میں صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ کے ہمراہ وائس چانسلر سکھر آئی بی اے یونیورسٹی آصف احمد شیخ موجود تھے، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ ایک بار پھر فیسٹیول میں نوجوانوں کا جوش و خروش دیکھ کر خوشی ہورہی ہے، یہ بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں ، انہوں نے کہاکہ سندھ کے کلچر کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کونے کونے میں پھیلائیں گے، سکھر کی عوام نے بہت زبردست استقبال کیا، انہوں نے کہاکہ ملکی ترقی کے لیے انتہا پسندی کی روک تھام ضروری ہے، ہمارا بچہ تعلیم یافتہ ہونا چاہیے جس کے لیے تعلیم کا بجٹ بڑھانے کی اشد ضرورت ہے، سندھ میں ایک کروڑ سے زیادہ بچے اسکول نہیں جاتے مگر جو اسکول جارہے ہیں تو معیاری اور جدید تعلیم سے روشناس نہیں ہورہے، فیسٹیول کا اختتام زبردست میوزیکل کنسرٹ پر کیا گیا جس میں معروف گلوکار علی عظمت، حاوی، اختر چنال زہری، خودغرض بینڈ، ارمان رحیم، مصطفی بلوچ اور گزری کی شاندار میوزیکل پرفارمنس پر لاکھوں شرکاءجھومتے رہے۔دو روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں تعلیم، تاریخی ورثہ، مصنوعی ذہانت، گلوبل وارمنگ،اکیسویں صدی میں پاکستانی ادب، آرٹ میں معاشرے کا کردار، جدید دور میں روایتی میڈیا کا کردار ، ڈیجیٹل دور میں مستقبل کے رہنما، اکیسویں صدی میں سندھی ادب، سندھ کے نوجوانوں کے لئے کام کا مستقبل: چیلنجز اور مواقع ،آکاش انصاری کو ٹربیوٹ، پاکستان اور عالمی منظرنامے میں تبدیلی، فن اور مزاح سے بھرپور سیشن گل ملاح اور سہراب سومرو کے ساتھ ،تعلیم معیار کا کتنا بلند ہے؟ ڈیجیٹل دور میں فلم اور ٹی وی انڈسٹری ،خواتین کے خلاف جاری تشدد: اسباب اور علاج،کیا معیشت نے بحال ہوگئی؟، YBQ سے گفتگو، سلطانہ صدیقی کے ساتھ گفتگو، سہیل وڑائچ سے بات چیت پر سیشن منعقد ہوئے جبکہ میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ اور چیئرمین ضلع کونسل سکھر کمیل حیدر شاہ سے خصوصی گفتگو بھی کی گئی، پی ایل ایف سکھر میں مشہور شاعر تہذیب حافی، علی زریون، عمیر نجمی اور عمران عامی کے ساتھ ون ٹو ون سیشن منعقد کیے گئے جسے نوجوانوں نے بہت پسند کیا۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام دو روزہ ”پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2025 سکھر چیپٹر II“ کے آخری روز اوپن مائیک سیشن میں سکھر کے ابھرتے ہوئے فنکاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
سکھر ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام دو روزہ ”پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2025 سکھر چیپٹر II“ کے آخری روز اوپن مائیک سیشن میں سکھر کے ابھرتے ہوئے فنکاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔سیشن میں نظامت کے فرائض نعمان خان نے انجام دیے، سیشن میں نوجوانوں نے گلوکاری،فن خطابت، پپٹ ٹاک اور شاعری میں اپنی صلاحیتوں کے بھرپور جوہر دکھائے، آخر میں معروف گلوکار وہاب بگٹی نے اپنا معروف گانا کنایاری گاکر شرکاءسے بھرپور داد سمیٹی جبکہ وہاب بگٹی کے لوک گیتوں پر نوجوان رقص کرتے رہے، اوپن مائیک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور خوب لطف اندوز ہوئے۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیراہتمام ”پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2025 سکھر چیپٹر II “ دوسرے روز ”سندھ میں اسکول کی تعلیم“ پر سیشن کا انعقاد
پاکستان میں 26.2 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں،حسن علی شاہ
سکھر () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیراہتمام ”پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2025، سکھر چیپٹرII“ کے دوسرے روز پہلے سیشن ”سندھ میں اسکول کی تعلیم“ کا انعقاد سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں کیا گیا جس میں صادقہ صلاح الدین، حفیظہ بانو، نور حسین اور حسن علی شاہ نے اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض فاطمہ دایو نے انجام دیے، صادقہ صلاح الدین نے کہاکہ سیلاب کی وجہ سے کئی اسکول تباہ ہوگئے اور ہم انتظار کرتے رہے کہ حکومت یا کوئی اور ہماری مالی مدد کو آئے۔ تعلیم کے لیے اچھا انفرا اسٹرکچر بہت ضروری ہے مگر ہمارے ہاں عالمی امداد کا رواج پروان چڑھ رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کئی علاقوں میں لڑکیوں کو اسکول بھیجنا محفوظ نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہاں خواتین اساتذہ نہیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان تعلیمی فرق ختم کرنے کے لیے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اساتذہ کا ہونا بہت ضروری ہے، نئے ادارے بنانا غلط نہیں لیکن پہلے سے موجود اداروں کو مستحکم کرنا زیادہ ضروری ہے۔ بجٹ کی کمی تعلیمی مسائل کی بڑی وجہ ہے۔حفیظہ بانو نے کہا کہ تعلیم کے چیلنجز ہمیشہ سے تھے مگر ان مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات خوش آئند بات ہے، ہمارے اساتذہ تربیت یافتہ نہیں ۔ بچوں کو صرف کتابیں پڑھانے کے بجائے ان کے تصورات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ نور حسین نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں باہم تعاون چاہیے، جس گھر کے فیصلے گھر سے باہر ہوتے ہیں، وہ آگے نہیں بڑھتا، تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے عملی طور پر کام کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو یہ صلاحیت پیدا کرنی ہوگی کہ وہ اپنا نصاب خود بنا سکیں، اسکولوں کو آزاد اور خودمختار بنانے کی ضرورت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مختلف برادریوں کے سربراہ اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل کرائیں جنہیں وہ خود بنا رہے ہیں تو تعلیمی نظام میں بہتری آسکتی ہے۔حسن علی شاہ نے کہا کہ تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم چیزوں کو نیچے کی بجائے اوپر سے دیکھتے ہیں، پاکستان میں 26.2 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، اگر کسی اسکول میں 80 بچے داخلہ لے رہے ہیں بمشکل 30ہی آتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا اسکول سسٹم ایک ”ٹرانزٹ کیمپ“ بن چکا ہے جہاں لوگ صرف یہ سوچ کر آتے ہیں کہ کچھ وقت گزارنے کے بعد وہ کہیں اور چلے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی بہت ضروری ہے، اگر ہم تعلیم میں ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کریں تو تعلیمی نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
==================

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام دو روزہ ”پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2025 سکھر چیپٹر II“ کے آخری روز : ”اکیسویں صدی میں پاکستانی ادب: ایک عالمی تناظر“ کے عنوان پر سیشن کا انعقاد
ادب کے فروغ کے لیے احمد شاہ کی خدمات قابل تعریف ہیں، مقررین
سکھر () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام دو روزہ ”پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2025 سکھر چیپٹر II“ کے آخری روز : ”اکیسویں صدی میں پاکستانی ادب: ایک عالمی تناظر“ کے عنوان سے سیشن کا انعقاد آڈیٹوریم سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میں کیا گیا جس میں غازی صلاح الدین، ڈاکٹر فاطمہ حسن، ضیاءالحسن موضوع سے متعلق تفصیلی گفتگو کی جبکہ نظامت کے فرائض کاشف رضا نے انجام دیے۔ اس موقع پر مقررین نے اپنی گفتگو میں کہاکہ انٹرنیشنل لٹریسی پرائز دراصل تراجم کے لیے دیا جاتا ہے اور یہ اس بار آئس لینڈ کے ایک مصنف کو ملا ہے۔ آئس لینڈ کی آبادی کراچی کے ایک محلے سے بھی کم ہے لیکن اس ایوارڈ کی وجہ سے وہاں ہلچل مچ گئی اور لوگوں نے پڑھنا شروع کر دیا۔ ہمارے ملک میں بھی جو کتابیں اور لائبریریاں موجود ہیں ان میں ایسی ہی ہلچل مچانے کی ضرورت ہے، جو انگریزی مصنفین ہیں اگر وہ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انہیں اردو یا اپنی دیگر مقامی زبانوں کو بھی موقع دینا چاہیے لیکن وہ زیادہ تر انگریزی میں ہی لکھتے ہیں۔ کراچی سے شروع ہونے والی عالمی کانفرنس اب پوری دنیا میں اپنا نمایاں نام بنا چکی ہے، پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا دوسرا سال ہے ہم اس پر پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ فن و ثقافت کے فروغ کے لیے بھرپور کام کررہے ہیں، آصف فرخی کی ادب کے لیے خدمات قابل تعریف ہیں، پاکستان لٹریچر فیسٹیولز میں مختلف زبانوں کے ادیبوں سے گفتگو کا بہت فائدہ ہوا ، ہم نے ان کا ادب سیکھا انہوں نے ہمارا۔مو¿منہ شمسی نے انگریزی میں عمدہ ادب شامل کیا ہے اس میں کئی حیران کن دریافتیں ہیں، 1997 میں معروف پاکستانی ادیب انگریزی میں لکھنے والے مصنفین کی تعداد 40 بڑھ کر 86 ہوچکی ہے۔ یہ واضح تبدیلی اور انگریزی میں لکھنے والوں کی نئی لہر کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ وہ انگریزی میں لکھتے ہیں اس لیے انہیں بلکہ ایک بین الاقوامی پہچان بھی مل جاتی ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ ہمارا ادب کتنا عظیم ہے اور ہمارے ادیب کتنے قابلِ قدر ہیں۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2025 سکھر چیپٹرII“ کے دوسرے دن کا تیسرا سیشن ”معاشرے میں آرٹ کا کردار“ کے موضوع پر سیشن کا انعقاد
سکھر ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2025 سکھر چیپٹرII“ کے آخری روز ”معاشرے میں آرٹ کا کردار“ کے موضوع پر سیشن کا انعقاد فٹبال گراو¿نڈ ، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میں کیا گیا جس میں حبیب رحمان، خالد سومرو، اقصیٰ احد اور محمد اویس نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ فضل الٰہی نے نظامت کے فرائض انجام دیے، اس موقع پر خالد سومرو نے آرٹس کے طلباءکو معاشرے میں بہت سی دشواریوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں بنیادی مسئلہ معاشی طور پر کمزور ہونا ہے مگر ایک اچھا آرٹسٹ اپنی خداداد صلاحیتوں سے ان مسائل سے باہر نکل سکتا ہے، ایک آرٹسٹ چاہے وہ پینٹر ہو ، ڈیزائنر ہو، گلوکار ہو یا فن کار اسے خودپر بھروسہ ہونا چاہیے، آرٹسٹ کو اپنے فن کے اظہار کی آزادی ہونا چاہیے۔ اقصیٰ احد نے کہاکہ آرٹ کی کوئی حد نہیں ہوتی اب یہ آرٹسٹ پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح اپنے آرٹ کو پیش کرتا ہے، ایک اچھا آرٹسٹ ہی اپنے فن کے ذریعے اپنی ثقافت اور تاریخی مقامات کو اپنے آرٹ کے ذریعے محفوظ کرسکتا ہے، حبیب رحمان نے کہا کہ آرٹ سے متعلق آگاہی نہایت ضروری ہے، آرٹ ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے سیاسی اور سماجی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔محمد اویس نے کہاکہ آج کے اس جدید دور میں آرٹ کو دوسروں تک پہنچانا بہت آسان ہو گیا ہے، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہم اپنا آرٹ معاشرے میں عام کرسکتے ہیں، میں حکومت سندھ اور آرٹ اینڈ کلچر کے اداروں سے بھی یہی کہوں گا کہ آرٹسٹ کو سپورٹ کریں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا کھل کر مظاہرہ کرسکیں،

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2025، سکھر چیپٹر II کے دوسرے روز ”عالمی درجہ حرارت میں اضافہ: دروازے پر آتی ہوئی آفت“ کے عنوان سے سیشن کا انعقاد
سکھر() آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام پاکستان لٹریچر فیسٹیول چیپٹر II کے دوسرے روز ”عالمی درجہ حرارت میں اضافہ: دروازے پر آتی ہوئی آفت“ کے عنوان سے سیشن سکھر آئی بی اے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ سیشن میں محمود نواز شاہ نے موسمیاتی تبدیلیوں کی مختلف وجوہات پر روشنی ڈالی جس میں انہوں نے واضح کیا کہ درجہ حرارت میں اضافہ اور فضائی آلودگی کے باعث سانس کی بیماریوں پھیل رہی ہیں جبکہ آبی آلودگی ڈینگی، کولرا اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریوں میں اضافہ کررہا ہے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 60 سالوں میں دو بڑی بیماریاں ایچ آئی وی اور کووڈ-19 جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئیں جوکہ موسمیاتی اور ماحولیاتی عوامل سے جڑی ہوئی ہیں۔ ارشاد میمن نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی موسمیاتی تبدیلی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے اور اس کے اثرات واضح طور پر دیکھے بھی جا سکتے ہیں۔ گرمیوں میں شدید درجہ حرارت اور زیادہ نمی کے باعث گھٹن بھرا ماحول پیدا ہو رہا ہے جبکہ سردیوں کی شدت کے باعث تعلیمی ادارے بند کرنے پڑتے ہیں جوبراہ راست معیشت پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ محمود نواز شاہ نے حل بتاتے ہوئے کہا کہ مینگروو جنگلات کے فروغ سے معیشت میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ صحت کے حوالے سے مؤثر پالیسی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب صرف صحت کا مطالبہ کرنے کے بجائے ”ون ہیلتھ اپروچ“ کو اپنانا ہوگا۔ سیشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ گلوبل وارمنگ صرف ماحول پر ہی نہیں بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی، صحت، معیشت پر بھی براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔























