جیکب آباد پولیس کا ماورائے عدالت 3 نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں ہاف فرائی کرنے کا انکشاف، مقابلے سے قبل گرفتار نوجوانوں کی تصویر اور ویڈیو منظر عام پر آگئی۔


جعلی پولیس مقابلوں میں ہاف فرائی ہونے والے ملزمان مقابلے سے قبل پولیس کی حراست میں ہیں مذکورہ فوٹو میں واضح نظر آرہا ہے دو کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئیں جبکہ ایک کے بازو پیچھے کپڑے باندھے ہوئے ہیں
============

جیکب آباد: رپورٹ ایم ڈی عمرانی
جیکب آباد پولیس کا ماورائے عدالت 3 نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں ہاف فرائی کرنے کا انکشاف، مقابلے سے قبل گرفتار نوجوانوں کی تصویر اور ویڈیو منظر عام پر آگئی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں پولیس کی جانب سے جعلی پولیس مقابلوں کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، جیکب آباد پولیس کی جانب سے دو روز کے دوران تین مختلف پولیس مقابلوں میں تین ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا لیکن یہاں انکشاف ہوا ہے کہ پولیس نے ماورائے عدالت تینوں نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں ہاف فرائی کیا ہے، پولیس کے مبینہ جعلی مقابلوں میں زخمی حالت میں گرفتار نوجوانوں فائق عرف اسرار لاشاری، فدا لاشاری اور پرویز لاشاری کی تصویر منظر عام پر آگئی ہے جس تینوں نوجوان پولیس کی حراست میں موجود ہیں اور دو ملزمان کو ہتھکڑی اور ایک کے ہاتھ کپڑے سے بندھے ہوئے نظر آرہے ہیں، تین روز قبل گرفتار دو نوجوانوں فائق عرف اسرار اور فدا لاشاری کی دو مبینہ جعلی مقابلوں میں گرفتاری ظاہر کرنے کے بعد ایک نوجوان پرویز لاشاری کی والدہ نے مسمات کامل لاشاری نے عدالت میں پٹیشن بھی دائر کی تھی جس میں اس نے پولیس پر الزام عائد کیا تھا کہ بیٹے کی آزادی کے لیے پولیس دو لاکھ روپے رشوت طلب کررہی ہے رشوت نہ دینے کی صورت میں بیٹے کو ہاف فرائی کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ایسی پٹیشن کے بعد پولیس نے نوجوان کو ٹھل تھانہ کی حدود دین پور میں مبینہ مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا، واضح رہے کہ مذکورہ نوجوانوں کو 15 فروری کو سٹی تھانہ کی حدود قائد اعظم روڈ پر سٹی تھانہ کے ایس ایچ او محمد حسن ملک سے گرفتار کیا تھا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے،جبکہ ان کو گرفتار کرنے کے بعد سٹی تھانہ پر لاکپ کیا گیا تھا جہاں کی تصویر بھی منظر عام پرآگئی ہے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن جیکب آباد ضلع کے فوکل پرسن جان اوڈھانو نے ماورائے عدالت جعلی پولیس مقابلوں پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو قانون پر کون عمل کرے گا، ماورائے عدالت پولیس مقابلے افسوسناک عمل ہے، انہوں نے کہا کہ کوئی کتنا بھی بڑا مجرم کیوں نہ ہو لیکن انہیں اس طرح جعلی مقابلوں میں زخمی یا قتل کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا ملک میں قانون موجود ہے عدالتیں موجود ہیں ملزمان کو گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ جعلی پولیس مقابلوں میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔


ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
============

جیکب آباد ضلع میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاریاں، ڈی آئی جی لاڑکانہ نے آپریشن کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد ضلع میں پولیس کی جانب سے ڈاکوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر گرینڈ آپریشن کی تیاریاں کی جارہی ہیں، ڈاکوؤں کیخلاف آپریشن کے سلسلے میں ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب کی صدارت میں ٹھل تھانہ پر اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ایس ایس پی جیکب آباد صدام حسین خاصخیلی اور ایس ایس پی کشمور ایٹ کندھکوٹ زبیر نظیر شیخ سمیت ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز نے شرکت کی، اجلاس میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، پولیس ذرائع کے مطابق اجلاس میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے، آپریشن میں جدید ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ کا استعمال کیا جائے گا، اجلاس کے بعد ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف منظم انداز میں جلد آپریشن شروع کیا جائے گا، جرائم پیشہ افراد اگر خود کو قانون کے حوالے کرتے ہیں تو ان کے ساتھ نرمی سے پیش آیا جائے گا بصورت دیگر ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

جیکب آباد جے یو آئی کا دریائے سندھ پر کینالوں کی تعمیر اور سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں جے یو آئی کی جانب سے دریائے سندھ پر کینالوں کی تعمیر اور سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف ایک احتجاجی جلوس مدرسہ قاسم العلوم سے ضلعی امیر ڈاکٹر اے جی انصاری، مولانا سلیم اللہ بروہی، مولانا نصراللہ گھنیو، سراج احمد ڈول، ڈاکٹر خلیل احمد کھوسو، حافظ محمد رمضان سومرو کی قیادت میں نکالا گیا، جلوس میں جے یو آئی کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی، مظاہرین نے شہر کے مختلف راستوں پر مارچ کرنے کے بعد پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا جس کے باعث روڈ بلاک اور ٹریفک معطل ہوگئی، اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو بنجر بنانے کے لیے کینال بنائے جارہے ہیں سندھ کا عوام دریائے سندھ پر کسی بھی کینال کی اجازت نہیں دے گی، انہوں نے کہا کہ پنجاب کی چند ہزار ایکڑزمین کو آباد کرنے کے لیے سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمین کو تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ کینالوں کی تعمیر سے سندھ کی زراعت اور معیشت مکمل تباہ ہوجائے گی وفاق صوبوں کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے پانی پر کسی صورت ڈاکہ ڈالنے نہیں دیا جائے گا یہ سندھ کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ہم موت تو قبول کرسکتے ہیں لیکن کینالوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے فلفور کینالوں کی تعمیرکا منصوبہ ختم کیا جائے، رہنماؤں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ سنگین بنتا جارہا ہے، کچے کے ڈاکوؤں نے عوام کا جینا محال کردیا ہے، سندھ کی شاہراہیں بدامنی کی وجہ سے غیر محفوظ ہوچکی ہیں، انہوں نے کہا کہ بدامنی کی وجہ سے صوبے کا کاروبار مکمل ٹھپ ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے معیشت پر اثرات پڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بدامنی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے اور پولیس سے سیاسی مداخلت کو ختم کرکے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کرکے امن و امان کو بحال کیا جائے۔

یہ ہے وہ بد نصیب عمارت جہاں دورانیے مرمتی محنت کش موت کا شکار ہوگیا
======

جیکب آباد میں تعمیراتی کام کے دوران لینٹر گرنے سے محنت کش جاں بحق۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے سٹی تھانہ کی حدود آدم خان پہنور روڈ پر تعمیراتی کام کے دوران لینٹر گرنے سے محنت کش نوجوان اکبر لاشاری شدید زخمی ہوگیا جسے نازک حالت میں سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا، نوجوان کی لاش ضروری کاروائی کے بعد ورثہ کے حوالے کی گئی۔