اسلام آباد کے گیسٹ ہاؤس سے نیب کے افسر کی لاش برآمد، تحقیقات جاری

اسلام آباد کے گیسٹ ہاؤس سے نیب کے افسر کی لاش برآمد، تحقیقات جاری

23 فروری 2025 کو اسلام آباد کے ایک گیسٹ ہاؤس سے نیب (نیشنل ایکاؤنٹیبلٹی بیورو) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر وقاص احمد خان کی لاش برآمد ہوئی۔ یہ واقعہ پولیس اور میڈیا کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے، کیونکہ وقاص احمد خان کئی ہائی پروفائل کیسز میں ملوث رہ چکے تھے۔ ان کی موت کے حالات ابھی تک واضح نہیں ہیں، اور پولیس نے اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

واقعے کی تفصیلات

تھانہ آبپارہ کے ڈیوٹی افسر اے ایس آئی عمران کے مطابق، پولیس کو اتوار کی دوپہر کو گیسٹ ہاؤس سے ایک لاش برآمد ہونے کی اطلاع ملی۔ پولیس نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو ہسپتال منتقل کیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، وقاص احمد خان کا کمرہ اندر سے لاک تھا، اور ان کے جسم پر کوئی واضح زخم یا تشدد کے نشانات نہیں تھے۔

پوسٹ مارٹم کے لیے لاش کو پولی کلینک ہسپتال بھیجا گیا ہے، جہاں ماہرین موت کی وجہ اور دیگر تفصیلات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

وقاص احمد خان کون تھے؟

وقاص احمد خان نیب کے گریڈ 19 کے افسر تھے اور لاہور کے رہائشی تھے۔ وہ کئی ہائی پروفائل کیسز میں ملوث رہے تھے، جن میں اوگرا سکینڈل، سٹیل مل سکینڈل، اور توقیر صادق کی گرفتاری جیسے معاملات شامل ہیں۔ وہ نیب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کے طور پر ہیڈ آفس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

ان کی موت سے پہلے وہ کس قسم کے دباؤ یا خطرات کا شکار تھے، اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ تاہم، ان کے ساتھیوں اور خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک محنتی اور ایماندار افسر تھے، جنہوں نے ہمیشہ اپنے فرائض کو بہترین طریقے سے انجام دیا۔

نیب کا قیام اور متنازعہ تاریخ

نیب کا قیام جنرل پرویز مشرف کے دور میں 1999 میں ہوا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد ملک میں بدعنوانی کے خلاف جنگ لڑنا تھا۔ ابتدائی سالوں میں نیب نے کئی بڑے بدعنوان سیاستدانوں، بیوروکریٹس، اور کاروباری افراد کے خلاف کارروائی کی، جس کی وجہ سے اسے عوامی حمایت حاصل ہوئی۔

تاہم، نیب کو ہمیشہ سے ہی متنازعہ ادارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ کئی بار اس پر یہ الزام لگایا گیا کہ یہ ادارہ حکومتی دباؤ میں کام کرتا ہے اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بناتا ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں نیب نے کئی بڑے ناموں کے خلاف کارروائی کی، لیکن بعد میں یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ یہ کارروائیاں سیاسی مقاصد کے تحت کی گئی تھیں۔

نیب کی کامیابیاں اور تنازعات

نیب نے اپنے قیام کے بعد سے کئی بڑے کیسز میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اوگرا سکینڈل، سٹیل مل سکینڈل، اور دیگر بڑے مالی اسکینڈلز میں نیب کی کارروائیوں نے عوام کو یقین دلایا کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ تاہم، کئی بار نیب کے خلاف یہ بھی الزامات لگے کہ یہ ادارہ صرف چھوٹے کھلاڑیوں کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ بڑے ناموں کو بچا لیا جاتا ہے۔

نیب کے خلاف یہ بھی الزامات ہیں کہ یہ ادارہ کبھی کبھار غیر ضروری طور پر لوگوں کو ہراساں کرتا ہے اور ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات قائم کرتا ہے۔ کئی معاملات میں نیب کے افسران پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ رشوت لے کر لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

وقاص احمد خان کی موت کے ممکنہ اثرات

وقاص احمد خان کی موت نے نیب کے اندرونی معاملات پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ موت کسی سازش کا نتیجہ ہو سکتی ہے، کیونکہ وقاص احمد خان کئی حساس معاملات میں ملوث تھے۔ دوسری طرف، کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ محض ایک المناک واقعہ ہو سکتا ہے۔

اختتامیہ

وقاص احمد خان کی موت کے حالات ابھی تک واضح نہیں ہیں، لیکن یہ واقعہ نیب کے اندرونی معاملات اور اس کے افسران کی حفاظت کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پولیس کی تفتیش کے بعد ہی اس معاملے کی حقیقت سامنے آئے گی۔ تاہم، اس واقعے نے یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ لڑنے والے افسران کو کس قسم کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

نیب کو اپنے اندرونی معاملات کو بہتر بنانے اور اپنے افسران کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ بے خوف ہو کر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ وقاص احمد خان کی موت ایک المناک واقعہ ہے، جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی بدعنوانی کے خلاف جنگ جیت پائیں گے؟

======================

نوجوان ملک کا مستقبل ،سہولیات فراہمی سے ملک ترقی کرسکتا ہے،وزیراطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑنے کہاکہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں انہیں بہتر سہولیات سے آراستہ کرکے ہی ملک ترقی کرسکتا ہے۔ لاہور میں یوتھ جنرل اسمبلی کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ سیاسی لیڈر شپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیوں کو ترتیب دیں۔ انہوں نے کہاکہ اخلاقیات کی پاسداری اور مثبت رویوں کی ترویج کی ضرورت ہے۔ عطااللہ تارڈ نے کہاکہ سانحہ اے پی ایس پشاورملکی تاریخ کاایک المناک واقعہ ہے، دہشتگرد عناصر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرناچاہتے ہیں۔ دہشتگرد عناصر بلوچستان میں ترقی کاعمل سبوتاژ کرناچاہتے ہیں۔دہشتگردی سے پاکستان نے بہت نقصان اٹھایاہے۔عوامی مسائل کے حل میں مقامی حکومتوں کے اہم کردار سے انکار ممکن نہیں ہے۔