
لاہور()ریڈیو کلینک میںڈاکٹر احمد گجر اور ڈاکٹر ابوبکر گرمانی کی شرکت میزبان اور پروڈیوسر مدثر قدیر تھے۔پروگرام کے پہلے حصے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد گجر کا کہنا تھا کہ میو ہسپتال میں آئندہ ماہ حکومت پنجاب کی اجازت کے بعد گردوں کے ٹرانسپلانٹ کا عمل شروع ہوجائے گا جس کے لیے تمام تر انتظامات کو چئیرمین گردہ ٹرانسپلانٹ پروفیسر فواد نصراللہ اور پروفیسر شمس السلام کی زیر نگرانی مکمل کیا جاچکا ہے۔آج بھی اگر میو ہسپتال کی ایمرجنسی میں رات کو 300مریض رپورٹ ہوتے ہیں تو اس میں سے 200سے زائد گردہ کی درد کے ساتھ آتے ہیں جن کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد آئوٹ ڈور رجوع کرنے کا کہا جاتا ہے تاکہ انکی بیماری کا مزید علاج کیا جاسکے ۔ڈاکٹر احمد گجر کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ،مریضوں ،حکومتی نمائندوں اور اپنے اساتذہ کے درمیان ایک ربط پیدا کررہی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کے علاج میں معاونت پیدا ہوتی نظر آتی ہے ہمارا سارا صحت کا نظام مریضوں کی فلاح و بہبود پر مشتمل ہے اور ہم اپنا کردار بخوبی ادا کررہے ہیں۔ پروگرام کےآخری حصے


میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ابوبکر گرمانی جو پلمانالوجسٹ ہیں انھوں نے بتایا کہ سانس کو زندگی میں اہم اہمیت حاصل ہے اور انسانی زندگی کا دارومدار اسی پر قائم ہے ۔جو لوگ کرونا کے دوران اس مرض کا شکار ہوئے ،سموگ ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ٹی بی پہلے صرف پھپھڑوں کی بیماری تھی مگر اب ہڈیوں کی ٹی بی ،آنتوں کی ٹی بی اور دیگر اعضائ میں بھی اس کا احتمال رہتا ہے ۔اس سے بچنے کی ادویات ایک ہی ہیں مگر ان میں مقدار کا تعین متعلقہ اعضا کے ڈاکٹرز ہی کرتے ہیں ۔موسم کے تبدیل ہوتے ہیں انسانی چیسٹ سب سے ذیادہ متاثر ہوتی ہے اس لیے موسموں کی شدت سے اپنے چھاتی اور دیگر اعضا کو بچائیں ان کا خیال رکھیں۔ اس بار حکومت کے بہترین اقدامات کی وجہ سے اسموگ سے متاثرہ مریضوں کی کمی نظر آئی ہے۔























