
عمران خان صاحب کئی مقدمات میں سزا پا چکے ہوئے ایک اور مقدمہ جو ہے عمران خان صاحب کا وہ آخری سٹیج اور یہ معاملہ بڑا سنگیر کیونکہ اس معاملے میں عمران خان صاحب کو سزا ہوتی ہے تو بڑی پترناک قسم کی سزا عمران خان صاحب کو ہو سکتی ہے ساری زندگی جیل سے باہر نہ آ سکے محمد آدھ سمرو عمران خان صاحب کے آرمی چیف کو خط پر خط لکھے جانے اور بیان پر بیان جاری کرنے کی وجوہات سامنے آگئی ہے پتا چل گیا ہوا ہے کہ خان صاحب جو ہے ان کو بھی پتا چل گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے جائے گا امران خان صاحب کئی مقدمات میں سزا پا چکے ہوئے
ایک اور مقدمہ جو ہے امران خان صاحب کا وہ آخری سٹیج پر ہے لہذا امران خان صاحب نے سارے گھوڑے دورانا شروع کر دیئے ہوئے دیل معافی تلافی اور یہ معاملہ بڑا سنگیل ہے کیونکہ اس معاملے میں عمران خان صاحب کو سزا ہوتی ہے تو بڑی خطرناک قسم کی سزا عمران خان صاحب کو ہو سکتی ہے اور وہ شاید ساری زندگی جیل سے باہر نہ آ سکے تو اس لیے عمران خان صاحب جو ہے وہ مسلسل تلملہ رہے ہیں خط لکھ رہے ہیں اب انہوں نے کہا ہے کہ ہم تحریک چلائیں گے اور عید کے بعد تحریک چلائیں گے ایک نیا بیان عمران خان صاحب کا سامنے آگیا ہے اور یہ بیان آرمی چیف کو لکھے گئے خطوں کے تناظر میں اگر اس کو دیکھیں گے
اور پھر عدالتوں پر آپ نظر دوڑائیں گے تو پھر بات سمجھنے آنا شروع ہو جائے گی کہ ہو کیا رہا ہے اور خان صاحب اتنے پریشان کیوں ہے پہلے میں وہ جو عمران خان صاحب کا خط ہے جو خط کہہ رہا ہوں بیان ہے نا تازہ اس کو میں ذرا تفصیل کے ساتھ میں اس کے نقاط آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور پھر میں آپ کو بتاؤں گا کہ عمران خان صاحب یا پہلی بار یہ اس طرح کر رہے ہیں یا پہلے بھی ایسا کر دی رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور معاملہ ایک اور مدہ خبر پختون خواہ کی حکومت نے دو وفود تیار کر لی ہے فیصلہ کر لیا ہے کہ افغانستان کے یا طالبان حکومت کے
(01:54) ساتھ مذاکرات کے لیے وہ وفود جائیں گے ایک طرف اقوام متحدہ کی رپورٹ یون رپورٹ ہے کہ یہ طالبان جو ہے وہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں ی کہ جی طالبان جو ہے وہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال کر رہے ہیں یعنی یہ نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی کو انہوں نے پناہ دی ہے نہیں وہ آلہ کار کے طور پر پاکستان کے خلاف پاکستان کے ریاست کے خلاف پاکستان کی فورسز کے خلاف پاکستان کی جمہوریت کے خلاف پاکستان کی آئین کے خلاف پاکستان کی امن و امان کے خلاف اس کو استعمال کر رہے ہیں پیسے دیتے دنیا جو ان کو
(02:24) پیسے دیتی ہے افغان حکومت کو یا پھر پاکستان سے جو اسمغل ہو کے پیسہ جاتا ہے یا پاکستان کیونکہ بورڈر پر اسمغل ہوتی نہیں ہے نا تو وہ ڈالر جو ہے واپس ٹی ٹی پی کو جاتے ہیں ان میں سے ایک بڑا حصہ ٹی ٹی پی پاکستان کی فورسز کے اوپر فوج کے اوپر حملے کرتی ہے کل بھی جو ہے وہ وزیرستان میں اور ایس پایل خان میں کچھ آپریشنز ہوئے کاروائیاں ہوئی جہاں میرا خیال ہے پندرہ کے قریب خوارج مار گرائے گئے بلوچستان میں بھی اس طرح کی کچھ واقعات کاروائیاں اور دہشت گردوں کی وارداتیں ہو رہی ہیں بلکہ کمارے لیفٹیننٹ شہید کر دیئے گئے تھے وہاں پر تو یہ سارا جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے عالمی ادارہ یہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کی حکومت یعنی افغان
(03:09) حکومت تو خیر کوئی نہیں ہے لیکن وہاں کے جو آہ کابستانوان ہیں وہ بسیاری پاکستان میں غیر یقینی آہ امن و امان کی صورتحال دشتگردی آہ کے لیے پیدا کر رہے استعمال کر رہے ٹی ٹی پی کو تو ہمارے جو بریسٹر صحیح صاحب ہیں کے پی کے حکومت کے ترچمان پہنے بھی جب جنرل فیض عمید چائے کی پیالی لہرا کر بتا رہے تھے کہ سارا کچھ آپا کہتا ہے جو کچھ ہوا ہے تو اس وقت بھی اور اس کے بعد بھی یہ مذاکرات کے لیے جہاز بھر کے یہاں سے جاتے رہے بریسٹر صاحب ظاہر ریاست کی پالیسی ہوگی حکومت کی پالیسی ہوگی اور ابھی بھی کہیں نہ کہیں کسی نہ
(03:47) کسی چکل میں بریستر صحیح جو کہہ رہے ہیں اس کو یہ نہیں ہے کہ صرف وہ علیمین گنڈا پر کی پالیسی ہے لیکن اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں کچھ اور سپورٹ بھی ان کو حاصل ہوگی تو وہ یہ بتا رہے ہیں کہ جی دو وفوت ہم نے بنائے اور ٹی وار سیکر دیئے ایک تو ہوگا کہ اپنا ماحول سازگار بنانے کے لیے اور وہ وفد ہوگا سفارتکاری کے حوالے سے اور دوسرا وفد جو ہوگا مختلف اسٹیک ہولڈرز اس میں وہ الگ الگ سے وفود جو ہے وہ افغانستان جائیں گے اور وہاں جا کر مذاکرات کریں گے اب ہونا تو یہ چاہیے کہ افغانستان سے جس طرح کی ریپورٹس آ رہی ہیں جس طرح ہم اپنا
(04:22) بلکہ پاکستان کی سٹیٹ کا جو کلیم ہے الزام ہے وہ یہ ہے کہ اہ ٹی ٹی پی وہاں پر پلا دی ہوئی ہے افغان طالبان اس کے ساتھ پھر ایک صوبہ اگر حلق سے مذاکرات کریں عام حالات ہوتے ہیں نارمل حالات ہوتے ہیں جس طرح چین ہے چین ہمارا دوست ملک ہے تو چین میں اہ کسی بھی صوبے کا وزیر عالی جا کر وفاقی وزارت خارجہ کے تعاون سے ان کے ساتھ ظاہر ہے وہ کوارڈینیشن سے وہ جا کر اپنے لیے اپنے صوبے کے لیے آہ انویسمنٹ بھی لاتے ہیں پروجیکٹس بھی لاتے ہیں وہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن ایک ملک جو آپ کے ساتھ آہ دشونی کر رہا ہے دشت کردی پھیلا رہا ہے
(04:58) آپ کے ملک میں اس کے ساتھ ایک صوبہ الگ سے جا کر مذاکرات کریں یہ ذرا بات قابل فہم نہیں ہے آہ عجیب و غریب اب نارمل سی چیز معلوم ہوتی ہے اچھا جی اب عمران خان صاحب جو ہیں انہوں نے آہ ایک طویل بیان جاری کیا کل اس کے کچھ جو میجر حصہ تھا وہ تو میں نے آپ کو بتا دیا تھا آہ کل رات کی بیلاغ میں کہ وہ رمضان کے بعد انہیں کام تحریک چلائیں گے اب یہ تحریک کیوں چلا رہے ہیں یہ ذرا بات یہ اقدام جانا بعد میں کھلا ہے کہ کیا ہو رہا ہے یہ جو راز ہے یہ بعد میں پایا میں نے دیر لگ دی مجھے پانے میں لیکن بہرحال کچھ کچھ چیزیں سمجھ نہیں آتی جو اور
(05:39) خاص طور پر جب آپ سفر میں ہو تو پھر آپ کی توجہ ایک طرف نہیں ہوتی ابھی میں کراچی میں بیٹھا ہوں بلکہ کراچی سے یاد آیا یہاں پر موسم ایسا ہے کہ رات کو ائر کنڈیشن چلا کر سونا پاڑ رہا ہے جس دوست کے پاس میں ہوں ان کے انہوں نے یہ کمرے کا ائر کنڈیشن چلا دیا میں کہہ رہا ہوں یہ کیوں چلا ہے انہوں نے کہا ہے کہ یہاں پر آپ لاہور سے آئیں کراچی کا موسم اور ایب نارمل ہے اور ٹھیک نہیں موسم تو آپ کو پریشانی ہوگی تو اسی چل گیا یہ اللہ کی اسی میں سونے کی عادت نہیں ہے لیکن بہرحال بزا آیا پھر یعنی پرسکون ایک ہوتا ہے نا تنگ ہو بندہ کیا سربیوں میں ایسی
(06:10) یا یہ ابھی فروری چل رہا ہے فروری میں ائر کنڈکشن کا چلنا بہرحال تو سفر میں پھر چیزیں اس طرح آپ کے نہیں رہتی فوکس میں یا آپ اس طرح توجہ نہیں دے سکتے تو بعد میں جب میں نے آج صبح عمران خان صاحب کا ڈیٹیل سے تو ان کی سٹیٹمنٹ پڑھی ہے اور پھر میں نے ذرا نظر دوڑا یہ ماضی پر اور پھر عمران خان صاحب کا جو وہ پورا ٹائم لائن دیکھے ٹوئٹر ہنڈل کی یا پھر تحریکوں کی ٹائم لائن دیکھے پھر آپ کو بات سمجھ آ جاتی ہے کہ اوہ ہو ہو ہو اوہ نہیں کیا جا رہا ہے اوہ نہیں یہ بابا ہے گالا تو بات یہ پھر پتا چ جاتی ہے کہ اوہوہوہوہوہوہوہوہوھ مارنا اور پھر جو پورا کا پورا بیان صرف ایک
(07:08) معاملے پر ہونا اور پھر دوبارہ ایک تحریک کی طرف جانا تو یہ بتا رہا ہے کہ عمران خان صاحب کو بتا دیا گیا ہے کہ بھائی اب آپ کے آپ کو ایک اور سزا سنائی جا سکتی ہے آپ کے خلاف ثبوت ہے یا عمران خان صاحب نے عدالت میں سمجھ لیا ہوگا فیل کر لیا ہوگا کہ نہیں میرے پاس ڈیفینس نہیں ہے اب میں آپ کو بتاتا ہوں ذرا بیان کے موٹے موٹے نکات آغاز وہ یہاں سے کرتے ہیں عمران خان صاحب ٹویٹر پر جو ان کا مقلا کے اور میڈیا کے ساتھ گفتگو کے نام پر جو شائع کیا گیا بیان ہے رمضان کے بعد تمام اپوزیشن نماتوں کے ساتھ مل کر لاہم تیہ کریں گے اور ملکی
(07:43) احتجاج تحریک احتجاجی تحریک چلائیں گے اپنی مذاکراتی کمیٹی کو رابطوں میں تیزی لانے کے لیے ہدایت کر دی ہے قانون کی حکمرانی کے لیے ہر شعبے جو مقلعہ طلبہ قسان ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہماری اس تحریک کا حساب ہے قانون کی حکمرانی کے لیے آئین جمہوریت کی بحالی حقیقی آزادی کی لحوالی تحریکوں کی یہاں چند جملے ہیں اس کے بعد آتے ہیں عمران خان صاحب جو میں میں میں میں کرتے رہتے تھے نا تو وہ یہاں پر آگئے ہیں وہ کیا ہے جی سن لیجئے وہ کہتے ہیں کسی بھی جج کا فرض ہے کہ جب تک دونوں اطراف کا موقف نہ سن لے
(08:20) کوئی فیصلہ یا ریمارکس نہ دے یہ عمران خان صاحب جسس مصررت لالی صاحبہ کو ہدایت کر رہے ہیں نصیت کر رہے ہیں قانون سکھا رہے ہیں یہ قانون کیا کہتا ہے عدالت کیا کہتی ہے یہ عمران خان صاحب جنہوں نے ذاتی عدالت لگا رکھی ہوئی ہے جو کہتے ہیں فلان کرمٹ ہے اس کا موقف سنے بغیر جو کہتے ہیں فلان کو پھنسی لگا دو فلان کو میں نے پھینٹا لگانا ہے فلان کو میں نے موچھوں سے پکڑ کے رانہ سنالہ کو گرفتار کرنا ہے خود جیلوں میں ڈالنا ہے نواز شریف کو رہا نہیں ہونے دینا حاصل زدہری کو دوائی نہیں دینی جیل میں ان کے میں ائر کنڈیشن نکل ماؤں گا
(08:55) وہ جج کو سمجھا رہے ہیں کہ جی آپ نے کس طرح عدالت لگانی ہے جسٹس مصرت سلالی صاحبہ کو اور وہ عمران خان صاحب جو چھبیسویں آئینی ترمیم کو سنے بغیر اس کے خلاف جو پیٹیشنز ہیں جو کہ سپریم کورٹ اور سپریم کورٹ کا آئینی بینچ یا کوئی بھی پاکستان کا ادارہ اس کو نہ سن سکتا ہے ایک کمنٹ آپ کر سکتے ہیں ایک رائے دے سکتے ہیں ہونی چاہیے نہیں ہونی چاہیے لیکن کیونکہ پارلیمنٹ نے ایک قانون بنا دیا ایک آئین بنا دیا کیونکہ پارلیمنٹ نے ایک قانون بنا دیا ایک آئین بنا دیا تو وہ کوئی اور اس کے ساتھ چھڑخانی نہیں کر سکتا لیکن وہ جج جو اس کو سنے بغیر
(09:29) کہتے ہیں کہ جس کو موطل کر دیں اس پر حمل درامت روک دیں عمران خان کہتے ہیں میں ان ججوں کے ساتھ کھڑا ہوں اور جب اپنی باری آئی ہے تو خان صاحب کیا کہہ رہے ہیں کہ جو دونوں اطراف کا موقف سنے بغیر جج بماغس نہ دیں یہ دعا جاری کر رہے ہیں اور پھر کیونکہ جسٹس مصف سنیں بغیر جج ریمارکس نہ دے یہ ادائی جاری کرنے اور پھر کیونکہ جسٹس مصرط تلالی صاحبہ نے فوجی عدالتوں کے معاملے پر جو انٹرا کوٹ اپیلز ہیں ان کی سماعت ہو رہی تھی اس سماعت کے دوران انہیں ریمارکس دیئے تھے اور ریمارکس انہوں نے یہ دیئے تھے جب وہ سلمان حکم راجہ صاحب کہہ رہے تھے
(10:02) انسانی حقوق انسانی حقوق تو انہوں نے کہا کہ اب آپ کو انسانی حقوق کیا آدھا رہے ہیں نومئی کو تو آپ نے حرد پار کر دی تھی اور کیا نومئی کو ایسا نہیں ہوا تھا عمران خان صاحب نے عدالت میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں جب ان کو بلایا گیا جہاں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جی مجھے سپریم کورٹ نے میری گرختاری کو اغوا قرار دیا تھا غیر قانونی قرار دیا تھا وہ یہ کہہ رہے ہیں نا تو اسی سپریم کورٹ نے عمران خان کو کہا تھا کہ جو کچھ ہوا ہے آپ کے لوگوں نے جو کچھ کیا ہے کورکمنٹ راؤس میں گز گئے گورن اپنا جی ایچ کیو میں گز گئے کورکمنٹ راؤس دلا دیا غلط ہوا ہے آپ مزہ مت کریں عمران خان
(10:36) نے کیا کہا تھا عمران خان نے کہا تھا کہ یہ میری گرفتاری کا ردعمل ہے مجھے دوبارہ گرفتار کیا جائے گا اس سے زیادہ سخت ردعمل آئے گا یہی بات انہوں نے ریپیل کی اس اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے جنہوں نے ان کو تاریخ کی سب سے عجیب و غریب انوکھی زمانت دی ہر مقدمے میں جو درج ہے اس میں بھی جو درج ہو سکتا ہے اس میں بھی جو سوچا جا سکتا ہے اس میں بھی زمانت کوئی گرفتار نہیں کرے گا یہ ہمارا لادلہ ہے یہ فیصلے پڑے ہوئے ہیں تو وہ عمران خان صاحب جو ہے وہ جسس مسرط حلالی صاحبہ کو یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ نومی
(11:12) کو حد پار ہو گئی تھی آپ نہ کہیں ہمیں سنیں تو آپ کو سنا ہی جا رہا تھا اور ریمارکس تو ججز دیتے ہیں اب عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ نہیں ریمارکس پر فیصلوں ریمارکس کی وجہ سے فیصلوں پر اثر پڑتا ہے دیگر فیصلوں پر بھی اثر پڑتا ہے مطلب ساری زندگی عمران خان صاحب کی جھوٹے بہتان لگانا جھوٹے الزام لگانا اس پر ان کی گزر گئی اب جب اپنی باری آ رہی ہے تو وہ کہہ رہے کہ یہ اس طرح جیج صاحبان کو اپنا ریمارکس نہیں دینے چاہیے جیج صاحبان نے مافیا لکھا سیسیلین مافیا لکھا عمران خان صاحب کو ہیرو دکھانے کے لئے نواز شریف کو
(11:50) اور اس کو عمران خان صاحب بیجتے رہے تب تو نہیں کہا تھا کہ آپ نے سنا نہیں دوسرے فریق کو یہاں تو آپ کو سنا جا رہا ہے آپ کو سنا گیا سپریم کورٹ میں آپ کو سننے سننے کی وجہ سے ہی فوجی عدالتیں کا لدم قرار دی گئی تھی نا اب دوبارہ آپ کو سنا جا رہا ہے آپ کے وکیلوں کو سنا جا رہا ہے آپ کا مقدمہ آپ نو مہی کا جو ہے وہ آپ آہ انٹریٹریزم کوٹ میں آپ کا مقدمہ چل رہا ہے وہاں کتنے کا آپ کے پاس ڈیفینس ہے آپ کو پتا ہوگا یہ جو بہاتر ہے عمران خان صاحب کی کہ یہ جیج صاحبہ کا رماض جو ہے وہ نہیں دینے چاہیے پھر رماض تو ہوتے ہیں
(12:25) دریاجہان میں ہوتے ہیں اچھا جی باقی ان کا وہی خان صاحب کی کہ جی یہ جیج صاحبہ کا رماض تو ہے وہ نہیں دینے چاہیے پھر رماض تو ہوتے ہیں دریاجہان میں ہوتے ہیں اچھا جی باقی ان کا وہی کہ جی سی سی ٹی وی فوٹیجز غائب فالس فلگ آپریشن تھا مجھے جس طرح سے گرفتار کیا گیا میرے ہاتھ ڈالا گیا میرے اوپر تو ان کو پتا تھا کہ جی میرے لوگ جذباتی ہیں جذباتی ردعمل دیں گے پھر لوگ نکلے پھر ان میں اپنے لوگ شامل کر کے جو ہے وہ انہوں نے توڑ پھوڑ کروائی جلاو گھراو کروایا سی سی ڈیو فوٹیج کے در ہے اس کے بعد ہمارے انسانی حقوق غصب کر دیے گئے پھر چھبیس نومبر پر آ جاتے
(12:51) ہیں اور کہتے ہیں چھبیس نومبر پر کو بھی ہمارے لوگوں پر گونیاں چلائی گئی ہماری خواتین کو گسیٹا گیا مطلب لمبی وہ جو عمران خان صاحب کا ایک موقف ہے اس میں کچھ چیزیں ٹھیک بھی ہیں کچھ چیزیں غلط بھی ہیں اور یہ کہ ہر ادارے پر ناجیدہ قوتوں کا قبضہ ہے کہ کرنل جو ہے وہ جیل چلا رہا ہے اور میری ملاقاتیں نہیں ہونے دیتا میرے بیٹوں سے میری بات چیت نہیں ہونے دے رہا عدالتی حکمات کے خلاف فردیاں کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ وغیرہ اب آپ کو بعد سمجھ آگئی ہوگی کہ شروع کا جو پیرا گراف ہے تمام پولٹیکل پارٹیز کو ملانے کے ملا کر تحریک چلا گیا اس کا جواب میں
(13:25) آپ کو دیںتا ہوں اچھا اس کے بعد باقی سارا عمران خان اپنی ذات کی متعلق پار رہا ہے اب اس کی میں آپ کو جواب دیتا ہوں کہ ساری پلٹیکل پارٹیز ایک چھے جماعتی اتحاد بنا ہوا ہے محمود غانت چگزی صاحب نے دو روز پہلے تین روز پہلے کہا کہ یہ اس طرح نہیں ہے آپ یا تو سسٹم کا حصہ ہے یا حصہ نہیں ہے آپ اس سسٹم کو تسلیم کرتے ہیں تو آپ بیٹھے ہوئے آپ نے اس سسٹم کے خلاف تحریک چلانی ہے تو قومی سمجھ سے ایوانوں سے باہر آئیں یعنی کے پی کی حکومت بھی چھوڑیں اور نکلیں باہر آئیں کیونکہ محمود خانہ چگزی صاحب یہ چیز بھانت چکے ہیں
(13:57) سمجھ چکے ہیں کہ امہان خان تو اپنی ذات کے لئے ان سب کو استعمال کر رہے ہیں تو پھر سارے آئیں نا پھر باہر نکلیں یا پی ٹی آئی کی جو جتنی لیڈرشپ ہے وہ کوئی اپوزیشن لیڈر ہے کوئی وزیر اعلیٰ ہے کوئی فلان کمیٹی میں ہے کمیٹیوں میں بیٹھ کے وہ انجوائے کر رہے ہیں اور ہمیں کہہ رہے ہیں کہ جب تحریک چلائے اس لیے محمود خان چکتی صاحب نے خود بھی کمیٹیوں سے استفادہ دیا اور پی ٹی آئی کے حرکام کو بھی کہا کہ آپ بھی تمام جو پارلیمانی کمیٹی ہیں ان سے باہر آ جائیں باہر آئے تو پھر تحریک چلائیں لیکن یہ لوگ یہ کرنے کو تیار نہیں اب امران خان صاحب کہتے ہیں کہ میں نے مذاکراتی کمیٹی ہیں ان سے باہر آ جائیں باہر آئیں تو پھر تحریک چلائیں لیکن یہ لوگ یہ کرنے کو تیار نہیں ہیں
(14:26) اب امران خان صاحب کہتے ہیں کہ میں نے مذاکراتی کمیٹی کو کہا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کریں آپ مجھے بتائیں کہ کب سے یہ سلسلہ چل رہا ہے مسلسل یہی بات کہ ہم نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کیا ہے تمام اپوزیشن جماعتوں سے اور اپوزیشن جماعتیں کیا کہہ رہی ہیں نہیں ان کے ساتھ آ رہی ہیں کیونکہ کوئی نیشنل ایجنڈا نہیں ہے اب بھی دو جملے لکھے ایک پیراگراف لکھا عمران خان صاحب نے کہ ہم تحریک چلائیں گے اور انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے اور قانون کی حکمرانی کے لیے میچے جتنا عمران خان صاحب نے رونا رویا اپنی
(14:55) ذات کا رویا ہے اب میں آتا ہوں اس پوائنٹ پر جہاں سے میں نے آغاز کیا تھا اس بلوگ کا کیوں اب عمران خان صاحب جو ہے وہ تین خط لکھ چکے پھر اب ان کو مسلسل نومی پر تھوڑا مار رہے ہیں نومی فالسلنگ آپریشن یہ ہو گیا ہو گیا اب نومی کے جو معاملات بیانات جو ہیں گواہوں کے تقریبا مکمل ہو چکے ہوئے ہیں معاملہ اب آخری سٹیش پر ہے انٹیٹیلزم بھول عمران خان صاحب کا ڈیفینس عمران خان صاحب کے پاس نہیں ہے ثبوت بڑے تگڑے اور پکے ثبوت ہے ہو سکتا ہے سرکاری گواہوں کے علاوہ جو حکومت کے جو جو پولیس اور وہ گواہان ہیں ان کے علاوہ ہو سکتا ہے کہ کوئی اور گواہ بھی تگڑا گواہ سامنے آ جائے
(15:37) تو خان صاحب جو ہے ان کو اس چیز کا اندازہ ہے کیونکہ آپ اپنے کیے کے خود سب سے بڑے جج ہوتے ہیں کہ آپ نے ٹھیک کیا ہے آپ نے غلط کیا ہے آپ نے جو کیا ہے وہ قانون کی پکڑ میں آتا ہے یا نہیں آتا تو جب آپ کو اندازہ ہو کہ آپ کی قانون کی گرفت میں آپ آ سکتے ہیں آپ کو سزا ہو سکتی ہے تو پھر آپ تلو لاتے ہیں آپ کو زیادہ بہتر پتا ہوتا ہے جج سے بھی زیادہ وکیل سے بھی زیادہ بہتر پتا ہوتا ہے تو لہٰذا خان صاحب جو ہے ان کو اندازہ ہے کہ نومئی کے لیے انہوں نے پہلے کیا کیا منصوبہ سازی کی تھی کیا کیا سازش کی تھی اس لیے وہ اب
(16:13) مسلسل جیسے جیسے نومئی کا کیس آخری سٹیٹ کی طرف بڑھ رہا ہے ویسے ویسے عمران خان صاحب نومئی کے اوپر زیادہ جس کو وہ نیریٹیو بیلڈنگ کہتے ہیں جس کو میں پروپیگنڈ آتا ہوں وہ زیادہ کر رہے ہیں آرمی چیف کو جو خطوط لکھے نومئی کی کیونکہ ان کو پتا ہے کہ جو ن وہ نیریٹیو بیلڈنگ کہتے ہیں جس کو میں پروپیگنڈا کہتا ہوں بہت زیادہ کر رہے ہیں آرمی چیف کو جو خطوط لکھے نومئی کی کیونکہ ان کو پتا ہے کہ جو نومئی کا معاملہ ہے براہ راست اس کا تعلق فوج سے ہے نہ نواز شریف سے ہے نہ عاصف زرداری سے ہے نہ جمہوریت سے کسی سے نہیں ہے فوج کے گارے کے اوپر انہوں نے حملہ کیا تھا
(16:38) اور عمران خان نے کہا بار بار کہا کہ جو مجھے گرفتار فوج نے کیا تھا تو ہمارے لوگ ادھر نہ جاتے تو اور کدھر جاتے لیکن جب نظر آ رہا ہے کہ معافی نہیں ملنے جا رہی جب نظر آ رہا ہے شاید کہ سپریم کورٹ کا آئینی بینچ شاید کوئی اور فیصلہ کرے تو پھر مسلسل ترلاپ ہو رہا فوج آرمی چیف کو خط لکھتی ہے جواب نہیں ہے انہوں نے کہا میں پڑھنا ہی نہیں چاہتا جائیں میں نے وزیراعظم کو دے دیا تو اب وہ نو مئی کے متعلق ان کی جو اب اسٹیٹمنٹ ہے اسی یہ ہے تاکہ لوگوں کو میں بتاؤں کہ جی سی سی ٹی وی فوٹیجز غائب ہیں فالس فلیگ آپریشن تھا وہی جو ان کا ایک طریقہ ہوتا ہے ماضی میں انہوں نے کیا کیا آپ کو یاد ہوگ توشہ خانہ کی سزا ہونے لگی تھی اس میں عمران خان صاحب نے اسی طرح مسلسل توشہ خانہ پر گفتگو سارا کچھ کرتے رہتے تھے
(17:29) یہ تب غازات بھی تھے تو ویلوگ کرتے تھے روزانہ دوسرا جب عمران خان صاحب کو توشہ خانہ کے بعد القادر میں سزا ہونے لگی اس وقت بھی عمران خان صاحب اب یہ ٹائم لائن آپ دیکھ لیں عمران خان صاحب کی ٹوٹر پر مسلسل القادر القادر القادر زمین جی میں نے کیا تھا مجھے سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھانے کے جرم میں مجھے سزا دی جا رہی ہے یہ پروپیگنڈا کی ہے اب اس کا ذکر ہی نہیں ہے القادر کا جس میں سزا ہو گئی بالکل ذکر نہیں ہے اب نومئی مسلسل نومئی پر ہتھوڑے بار ہے تو یہ جو مسلسل آرمی کی وہ خط لکھ رہے تھے تو یہ کیوں لکھ رہے تھے اس کی وجہ سامنے آگئی
(18:09) ہے وجہ یہ تھی کہ جناب مجھے معافی کرو معافی معافی دے دیں کیونکہ معافی ادھر سے ملنی ہے کہیں اور سے نہیں ملنی اور ایک اور چیز کہ جب جب کوئی مقدمہ عمران خان صاحب کا منطقی انجام کی طرف یا آخری سٹیج کی طرف بڑھا انہوں نے تحریک جلائی نومئی اپنا القاضب سے پہلے یہ جو آہ اگست سے لے کے نومبر تک جو کچھ عمران خان صاحب کرتے رہے چھبیس نومبر آپ کے سامنے ہے اس کے بعد پھر سبل نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا جو نہیں چلی تو یہ ریکارڈ ہے عمران خان صاحب اور اسی اسی طرز پر چلتے ہوئے اب عمران خان صاحب کو لگتا ہے کہ شاید روزوں میں یا روزوں کے بعد ان کو سزا ہو جائے گی نو مئی کی فیصلہ آ جائے گا
(18:48) اس لیے پھر وہ اب ایک نئی تحریک کی باتیں کر رہے ہیں اب تک کے لئے تنہیں اللہ حافظ























