
گوادر ( بیورو رپورٹ ) آرسی ڈی کونسل کے زیراھتمام چار روزہ کتاب میلہ کا افتتاح کردیا گیا ۔ افتتاح سیف پاکستان کے سی ای او محمد تحسین نے باقاعدہ فیتہ کاٹ کر کیا ۔ افتتاحی تقریب کی صدارت آرسی ڈی کونسل گْوادر کے سرپرست اعلی خدابخش ھاشم نے کی جبکہ مہمان خصوصی سیف پاکستان کے سی ای او محمد تحسین تھے ۔ کتب میلے کے پہلے روز کتاب مختلف موضوعات پر سیشنز منعقد ھوے ۔ افتتاحی تقریب میں گوادر کے نوجوان گلوکاروں دیدگ اکبر اور یونس جی آر نے بلوچی زبان کے نامور شاعر عطا شاد کی لکھی گئی گیت گاکر حاضرین کو محظوظ کیا ۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ھوۓ مہمان خصوصی سیف پاکستان کے سی ای او محمد تحسین ۔ یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمان رانجھا ۔ سابق ایم پی اے میر حمل کلمتی ۔ آر سی ڈی کونسل کے سرپرست اعلی خدابخش ھاشم ۔ بلوچی زبان کے نامور ادیب و دانشور پروفیسر ڈاکٹر اے آر داد ۔ موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے والی سماجی کارکن نفیسہ رشید نے کہاکہ کتابوں سے دوستی مہذب اور ترقی پسند قوموں کی نشانی ہے ۔ کتاب ھمیں دنیا کے بڑے بڑے مفکروں ۔ ادیبوں ۔ دانشوروں ۔ شاعروں سے نزدیک کردیتا ہے ۔ کتابوں سے علم و آگہی پھیلتی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ مکران خصوصا گوادر پاکستان کے دیگر علاقوں سے کافی منفرد ہے ۔ گوادر کی مٹی بھت ہی ذرخیز ہے یہاں آپکو کتابیں بھی نظر آئینگی، کتاب پڑھنے والے بھی نظر آھینگے ۔ ادیب بھی نظر آھینگے اور شاعر بھی نظر آھینگے ۔ آرٹ اور کلچر کی محفلیں گوادر میں آپکو ھر وقت ملینگی ۔ گوادر آرٹ اور کلچر کےحوالے سے سی پیک سے پہلے بھی نمایاں تھا ور آج تک نمایاں ہے ۔ اس طرح کی خصوصیات گوادر اور مکران کے علاوہ پاکستان کے باقی کسی بھی علاقے میں آپکو نہیں ملینگی ۔ پورے بلوچستان میں سب سے زیادہ آرٹسٹ گوادر میں ہے ۔ گوادر کے آرٹسٹوں کے ساتھ ساتھ یہاں کی خواتین میں بھی قابلیت کے اعلی معیار پر ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ھم مثبت چیزوں کی تعریف نہیں کرتے ۔ گوادر کے لوگوں کو کتابوں سے بھت محبت ہے ۔ کتاب آپکی ایک ایسا ساتھی ہے جو آپکو بھت سی بیماریوں سے بچاتی ہے ۔ اس دفعہ اسٹالوں میں چند نئے اور بھترین کتابیں بھی رکھی ھوئی ہیں ۔ لوگ پڑھنے کے لیۓ کتاب خرید لیںنگے تو تب انکو کتابوں سے عشق ھوگا ۔ انھوں نے کہاکہ لوگ اپنی گھروں میں بھی کتابیں رکھ دیں اور کتابوں سے محبت کریں ۔ گوادر سمیت گوادر کے. دیگر علاقوں پسنی ۔ جیونی اور اورماڈہ کے لوگوں کی ھر وقت ڈیمانڈ یہی رہتی ہے کہ انکو لائبریری چاہیۓ ۔ لائبریریاں چھوٹی چیزیں نہیں ھوتی ہیں یہ آپکے علم و شعور میں آگائی پھیلادیتے ہیں ۔ لائبریریاں قوموں کی تقدیریں بدل دیتی ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ اپنی آنے والی نسلوں کو زندہ رکھنے کے لیۓ لائبریریاں ضروری ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پوری دنیا پریشان ہیں ۔ دنیا موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تبائی کی دہانے پر کھڑی ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک کی گندگیاں پھیلانے کے سبب آج ھم بھی موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہیں ۔ ھمیں سنجیدہ ھوکر موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سوچنا ھوگا اگر ھم نے لاپراوئی کی تو موسمیاتی تبدیلی ھمیں معاف نہیں کریگا ۔ افتتاحی تقریب میں نظامت کے فرائض آر سی ڈی کونسل کے صدر ناصر رحیم سھرابی نے سرانجام دیۓ بعد ازاں مہمانان نے کتابوں کے اسٹالوں کا ببھی معائنہ کیا جبکہ شام کے وقت خیرجان آرٹ اکیڈمی کی جانب سے تھیٹر شو ۔ گلزار گچکی کی کتاب زھیروک کی رونمائی ۔ شارٹ فلموں کی اسکریننگ سمیت موسمیاتی تبدیلی کے پسماندہ طبقات پر اثرات اور رہائشی ترجیحات ۔ بدلتا عالمی نظام اور بلوچستان اور عطاشاد کی زندگی پر مختلف مہمانان نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرلیا ۔
گوادر میں 9واں گوادر بک میلے کا شاندار آغاز
۔۔گوادر رورل کمیونٹی ڈیولپمنٹ کونسل گوادر(RCDC) گوادر کے زیرِ اہتمام 9واں گوادر کتاب میلہ کا آغاز آج سے ہو گیا، جو 16 فروری تک جاری رہے گا۔ افتتاحی تقریب میں پی پی اے ایف کے چیرمین محمد تحسین، ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمٰن، سابق صوبائی وزیر میر حمل کلمتی، خدا بخش ہاشم، وائس چانسلر پروفیسر عبدالرزاق ، آے آر داد اور نفیسہ رشید نے شرکت کی اور فیتہ کاٹ کر میلے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
اس موقع پر بلوچی زبان کے معروف شاعر عطا شاد کی یومِ پیدائش کی مناسبت سے ان کی شاعری پر مبنی ایک خصوصی گیت پیش کیا گیا۔
کتب میلے کے پہلے دن مختلف سرگرمیاں منعقد ہوئیں، جن میں خیرجان آرٹ اکیڈمی کامقامی مسائل پر تھیٹر بھی شامل تھا۔ علاوہ ازیں، “بدلتا عالمی نظام اور بلوچستان کے موضوع پر ڈاکٹر عمار علی جان نے تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسی طرح، موسمیاتی تبدیلی کے پسماندہ طبقات پر اثرات اور ریاستی ترجیحات کے حوالے سے محمد تحسین اور ڈاکٹر عمار نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عطاشاد کی شاعری پر منیر مومن اور اے آر داد نے گفتگو کی جس کی نظامت صبا گلزار نے کی۔گلزار گچکی کی کتاب زھیروک کی تقریب رونمائی ہوئی جس میں مصنف کے علاوہ معروف گلوکار نصیب مزار اور سازندہ استاد باقی نے بات کی۔ کتاب میلہ میں بلوچی زبان و ادب کے لیے شاندار خدمات اور ریسرچ کے ڈاکٹر فضل خالق کو لائف ٹائم ایوارڈ پیش کیا گیا جبکہ اے آر داد نے ان سے تفصیلی گفتگو کی۔
نویں گوادر بک میلے میں شہریوں، طلبہ، اساتذہ، اور خواتین کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ یہ کتب میلہ آئندہ تین روز تک جاری رہے گا، جہاں علم و ادب کے شائقین کے لیے مختلف فکری نشستوں اور کتب بینی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔























