
پاکستان میں موجود صومالیہ کے سفیرشیخ نور محمد حسن نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کا دورہ کیااور وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیرسے ملاقات کی۔اس دوران انہوں نے یو ای ٹی میں زیر تعلیم صومالیہ کے طلباء سے ملاقات کی اور انکو درپیش چیلنجزکو سنا۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان اور صومالیہ کے مابین مضبوط، نتیجہ خیز اور بلاتعطل دوطرفہ تعلقات دونوں ممالک میں تدریسی روابط کو ترویج دینے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے یو ای ٹی میں انٹرنیشنل طلباء کو فراہم کی جانے والی ہاسٹل اور دیگر تمام سہولیات کو سراہا۔صومالی سفیر نے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر کو یقین دہانی کرائی کہ دو طرفہ تدریسی اداروں کے مابین تعلقات قائم کروانے میں سفارت خانہ معاون ثابت ہو گا تاکہ انجینئرنگ کی تعلیم اورایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوا جاسکے۔انکا کہنا تھا ک صومالیہ میں انجینئرنگ کے شعبہ میں بہت صلاحیت موجود ہے جس سے پاکستانی اداروں کو فائدہ اٹھانا چاہیئے اس حوالے سے سفارت خانہ ذاتی دلچسپی لے رہا ہے۔ ڈاکٹر شاہدمنیرنے بتایا کہ یوای ٹی بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے اسی وجہ سے یہاں مختلف ممالک سے طلبہ زیر تعلیم ہیں اور انکو بہترین تعلیم و تربیت دینے کی غرض سے ملکی اور غیر ملکی اداروں سے روابط قائم رکھے ہوئے ہیں تاکہ تکنیکی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آپس میں اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے کے ساتھ ساتھ مشترکہ مفادات کے شعبہ جات میں باہم تحقیق کو فروغ دینے کیلئے معاہد ہ کی گنجائش موجود ہے جس سے یقینی طور پر دو طرفہ تعلقات کو واضح مقصدیت حاصل ہو سکے گی۔آخر میں وائس چانسلر نے سفیرکو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔
===================
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) لاہور کے ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کا 210 واں اجلاس جمعرات کے روز وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسن وحید راٹھور کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پوسٹ گریجویٹ تحقیقی مقالہ جات میں سامنے آنے والی املا اور گرائمر سمیت چھوٹی غلطیوں کی بروقت درستگی نہ کرنے پر جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
بورڈ کے مطابق جرمانے کا مقصد پوسٹ گریجویٹ تحقیق میں لاپرواہی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے تاکہ تحقیقی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے جرمانوں کا تعین ماہرین کی ایک کمیٹی کرے گی، جو تحقیق کی نوعیت اور غلطیوں کی شدت اور دہرائی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دے گی۔
اجلاس میں ڈاکٹر راحت سرفراز کو ماربڈ اناٹومی اینڈ ہسٹوپیتھالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کی منظوری دی گئی، جبکہ پی ایچ ڈی کی دو، ایم فل کی سات، ایم ایس کی 30 اور ایم ڈی کی 18 تھیسز رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ علاوہ ازیں، مختلف شعبوں کے 52 ابتدائی تحقیقی خاکہ جات (ریسرچ سائینوپسس) پر بھی غور کیا گیا۔
جن طلبہ کی تھیسز رپورٹس کا جائزہ لیا گیا اُن میں او شین سجاد پی ایچ ڈی (ہمیومن جنیٹکس اینڈ مالیکیولر بیالوجی)، صلاح الدین ایم فل (فورنسک سائنسز)، فصحت العین ایم فل (میڈیکل لیبارٹری سائنسز – امیونالوجی)، ڈاکٹر انعام زیدی ایم فل (مائیکرو بایالوجی)، ڈاکٹر سحرش اعجاز ایم فل (فارماکولوجی)، ڈاکٹر آمنہ خانم ایم ایچ پی ای، ثوبیہ اقبال ایم ایس (نرسنگ)، نوشین صدیق ایم ایس (نرسنگ)، شاہدہ پروین ایم ایس (نرسنگ)، عقیلہ سرور ایم ایس (نرسنگ)، نازیہ پروین ایم ایس (نرسنگ)، ڈاکٹر سوما بٹ ایم ایس (اینستھیزیا)، ڈاکٹر خدیجہ غفور ایم ایس (اینستھیزیا)، ڈاکٹر کنول شاہین ایم ایس (کارڈیک سرجری)، ڈاکٹر محمد حسنین رضا ایم ایس (کارڈیک سرجری)، ڈاکٹر حافظ محمد عمر فاروق ایم ایس (ای این ٹی)، ڈاکٹر عمار اصغر ایم ایس (جنرل سرجری)، ڈاکٹر شکیل احمد ایم ایس (جنرل سرجری)، ڈاکٹر حمنہ عطاء ایم ایس (آب سٹریکس اینڈ گائنی)، ڈاکٹر حافظہ علینہ الیاس ایم ایس (آب سٹریکس اینڈ گائنی)، ڈاکٹر علی حسن اقبال ایم ایس (آپتھلمالوجی)، ڈاکٹر محمد رمضان اعجاز رانا ایم ایس (پیڈیاٹرک سرجری)، ڈاکٹر حمیرا رشید ایم ایس (پیڈیاٹرک سرجری)، ڈاکٹر حافظ محمد عاطف ایم ایس (یورولوجی)، ڈاکٹرشعیب جاوید ایم ایس (یورولوجی)، ڈاکٹر فائزہ خالد ایم ڈی (انٹرنل میڈیسن)، ڈاکٹر محمد آصف ایم ڈی (نیفرالوجی)، ڈاکٹر محمد رضا قریشی ایم ڈی (نیورولوجی)، ڈاکٹر شزا آفتاب ایم ڈی (پیڈیاٹرکس)، ڈاکٹر اویس طالب ایم ڈی (پیڈیاٹرکس)، ڈاکٹر تہمینہ ناز ایم ڈی (ریڈیالوجی)، ڈاکٹر محمد کلیم ایم ڈی (ریڈیالوجی)، ڈاکٹر محبوب احمد ایم ڈی (ریڈیالوجی)، ڈاکٹر راحت سرفراز کو پی ایچ ڈی (موربڈ ایناٹومی اور ہسٹوپیتھالوجی)،شمائلہ حبیب پی ایچ ڈی (ہمیومن جنیٹکس اینڈ مالیکیولر بیالوجی)، ڈاکٹر ماریہ نور ملک ایم ایچ پی ای، ڈاکٹر صائمہ عزیز ایم فل (فارماکولوجی)، مظہر اقبال ایم فل (فورنسک سائنسز)، ڈاکٹر ثنا رشید ایم فل (فزیالوجی)، ڈاکٹر مہوش مشتاق ایم ایس (اینستھیزیا)، ڈاکٹر تسبیح الرحمن ایم ایس (کارڈیک سرجری)، ڈاکٹر محمد کامران خان ایم ایس (کارڈیک سرجری)، ڈاکٹر انتصار اشرف ایم ایس (ای این ٹی)، ڈاکٹر حافظ صہیب فراز ایم ایس (ای این ٹی)، ثمرین منظور ایم ایس (نرسنگ)، ڈاکٹر مہوش اقبال ایم ایس (آب سٹریکس اینڈ گائنی)، ڈاکٹر شفقت عباس رضا خان ایم ایس (آرتھوپیڈکس)، ڈاکٹر سدرہ ہاشم ایم ایس (آب سٹریکس اینڈ گائنی)، ڈاکٹر محمد مامون یونس ایم ایس (آرتھوپیڈکس)، ڈاکٹر مظہر حسین ایم ایس (یورولوجی)، ڈاکٹر مہوش رشید ایم ڈی (ڈرماٹولوجی)، ڈاکٹر محمد عمران قریشی ایم ڈی (گیسٹرو اینٹیرولوجی)، ڈاکٹر مریم طیب ایم ڈی (نیفرالوجی)، ڈاکٹر جمال اشرف ایم ڈی (پیڈیاٹرکس)، ڈاکٹر ثناء اللہ ایم ڈی (پیڈیاٹرکس)، ڈاکٹر حزب اللہ ایم ڈی (پیڈیاٹرک میڈیسن)، ڈاکٹر قرۃ العین سرور ایم ڈی (پیڈیاٹرک میڈیسن)، ڈاکٹر محمد عمر ایم ڈی (پیڈیاٹرک میڈیسن)، ڈاکٹر صبابابر ایم ڈی (ریڈیالوجی) اور ڈاکٹر فاطمہ چٹھہ ایم ڈی (ریڈیالوجی)شامل تھے۔























