
6-02-2025 (پریس ریلیز)
غزہ کے متعلق ٹرمپ کا بیان طاقت کے نشے میں پاگل شخص کا احمقانہ بیان ہے٭ رحمت خان وردگ
ٹرمپ کا غزہ کے متعلق بیان قابل مذمت اور دنیا کے امن کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش ہے٭ رحمت خان وردگ
سعودی عرب فور ی طور پر امریکہ میں سرمایہ کاری کو غزہ معاملے سے امریکی دستبرداری سے مشروط کرے٭ وردگ
مسلم امہ اس معاملے میں سعودی عرب کی جانب دیکھ رہی ہے کہ وہ غزہ پر غیرمسلم تسلط ختم کرائے٭
مظلوم فلسطینیوں کے دکھوں کا مداوا مسلم امہ نے باہمی یکجہتی سے کرنا ہوگا٭
رحمت خان وردگ‘ مرکزی صدر‘ تحریک استقلال
6-02-2025 کراچی( ) تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خان وردگ نے کہا ہے کہ غزہ کے متعلق ٹرمپ کا بیان قابل مذمت ہے اور دنیا کے امن کو پارہ پارہ کرنے کی گھناؤنی امریکی سازش کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے متعلق ٹرمپ کا بیان طاقت کے نشے میں پاگل پن کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ وہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کی کوشش کریں لیکن جب سے وہ اقتدار میں آئے ہیں ان کے اقدامات سے افراتفری پیدا ہوئی ہے۔ سابق امریکی صدر نے اپنی کوششوں سے غزہ میں جنگ بندی کرائی تھی لیکن ٹرمپ کے اعلانات دنیا بھر میں بدامنی کا سبب بنیں گے۔ مسلم امہ کسی قیمت پر غزہ کے علاقے سے فلسطینیوں کی دستبرداری کو قبول نہیں کرے گا۔ مظلوم فلسطینیوں کو دربدر کرنے کے امریکی ایجنڈے سے مسلم دنیا کی جانب سے شدید ردعمل آئے گا۔ انہوں نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ جب تک امریکہ غزہ کے متعلق اپنے تازہ عزائم سے دستبردار نہیں ہوجاتا اس وقت تک سعودی عرب امریکہ میں نہ صرف نئی سرمایہ کاری سے دستبرداری کا اعلان کرے بلکہ تمام مسلم حکمران امریکہ سے اپنی موجودہ سرمایہ کاری کو بھی سمیٹنے کا اعلان کریں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ اور فلسطین کے متعلق مسلم امہ سعودی عرب کی جانب دیکھ رہی ہے کہ وہ غزہ پر غیر مسلم تسلط ختم کرائے اور غزہ کی تعمیرنو میں اولین کردار ادا کرکے وہاں فلسطینیوں کی آبادکاری کو یقینی بنائے۔ اس سلسلے میں تمام مسلم ممالک ہنگامی اجلاس کرکے نہ صرف امریکہ اور اس کے حواریوں کو ٹھوس پیغام دیں بلکہ عملی طور پر بھی اس مذموم امریکی سازش کو ناکام بنانے کے لئے اقدامات کریں اور باہمی اتحاد کامظاہرہ ہونا چاہئے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کے دکھوں کا مداوا ہوسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرکے انہیں دربدر کرنے کے امریکی ایجنڈے کی کسی صورت تکمیل نہیں ہونی چاہئے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ ذمہ داری سعودی عرب سمیت دولت مند عرب ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ غزہ کے معاملے پر مسلم ممالک ذاتی مفادات کے حصول سے باہر آکر مسلم امہ کی حقیقی قیادت کریں بصورت دیگر امریکہ ایک ایک کرکے تمام مسلم ممالک کو اپنی ذاتی جاگیر بنالے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہود و نصارٰی پر اعتماد کرکے وہاں سرمایہ کاری کرنے سے ہی اغیار مضبوط ہوئے ہیں اور نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ اب امریکہ اعلانیہ طورپر غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرکے ذاتی جاگیر قرار دینے کااعلان کر رہا ہے۔ اسی لئے مسلم ممالک اپنی سرمایہ کاری کا رخ امریکہ و اسکے حواری ممالک کے بجائے مسلم امہ کومضبوط تر کرنے والے ممالک کی جانب موڑیں۔
جاری کردہ۔میڈیا سیل‘ تحریک استقلال























