ایس ایس پی ٹھٹہ ڈاکٹر محمد عمران خان کی جانب سے انسداد پولیو مہم کے لیئے سخت فول پروف سیکیورٹی انتظامات،

ٹھٹہ(رپورٹ: علی گوہر قمبرانی)ایس ایس پی ٹھٹہ ڈاکٹر محمد عمران خان کی جانب سے انسداد پولیو مہم کے لیئے سخت فول پروف سیکیورٹی انتظامات، تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی حیدرآباد رینج طارق رزاق دہاریجو کی ہدایات پر ایس ایس پی ٹھٹہ ڈاکٹر محمد عمران خان کی جانب سے انسداد پولیو مہم کے لیئے سخت فول پروف سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ ایس ایس پی ٹھٹہ نے کہا کہ 3 فروری بروز پیر سے آج سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے دوران فول پروف حفاظتی انتظامات اور پولیس حصار میں پولیو ورکرز اپنے فرائض نبھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایس ایس پی ٹھٹہ نے تمام فیلڈ افسران و جوان اپنے اپنے علاقوں میں جاری کردہ سیکیورٹی پلان کے مطابق حفاظتی انتظامات سخت رکھیں گے اور تمام ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو پولیو ٹیمز کے ساتھ پولیس نفری کی تعیناتی، درپیش مسائل پر فوری ریسپانس، علاقے میں پیٹرولنگ، پکٹنگ اور سول ایڈمنسٹریشن کے ساتھ روابط کے جملہ اقدامات احسن طریقے سے سر انجام دینے کی ہدایات کی ایس ایس پی ٹھٹہ نے ہدایات جاری کیں کہ تمام

ایس ڈی پی اوز و ایس ایچ اوز نفری کو باقاعدہ بریفنگ دیں گے اور انسدادِ پولیو مہم کی آگاہی، پولیو ورکرز کی سیکیورٹی اور اس حساس ڈیوٹی کے بارے میں آگاہ کریں گے۔تمام فیلڈ افسران پولیو مہم پر مکمل اور خاص توجہ دیں گے اور زیادہ سے زیادہ نفری لگا کر کور کریں اور پولیو ورکرز کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے تاکہ سیکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔ تمام فیلڈ افسران دوران پولیو مہم قائم کیئے گئے کنٹرول روم کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ رابطے میں رہیں گے اور کسی بھی قسم کی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال کے پیش نظر اس کی اطلاع فوری طور پر کنٹرول پر نوٹ کرائیں گے۔ ایس ایس پی ٹھٹہ نے تمام افسران کو واضع کیا کہ پولیو مہم کے دوران کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا غفلت نا قابل قبول ہو گی۔ انسداد پولیو مہم ایک اہم قومی فریضہ ہے جس میں پولیس فورس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایس ایس پی ٹھٹہ نے مزید ہدایات جاری کہ دوران ڈیوٹی تمام پوائنٹس پر ٹیموں کی حفاظت کو یقینی بنائیں ہر قسم کی مشکوک سرگرمی اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں اور انسداد پولیو مہم کے اختتام تک ٹیموں کے ساتھ رہیں۔

کوئٹہ: بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکارکرنے والے 5 والدین کو گرفتار کرلیا گیا، اےسی نے پولیو ٹیم کے ہمراہ دورہ بھی کیا۔

تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں حالیہ انسداد پولیو مہم کے دوران اپنے 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے ڈراپس پلانے سے انکار کرنے والے متعدد والدین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

سندھ میں پولیو ویکسین پلوانے سے انکار کے 98 فی صد کیسز کراچی سے کیوں؟
انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں اےسی ماریہ شمعون نے 2 دن پہلے پولیو ٹیم کے ہمراہ سریاب کےعلاقوں کا دورہ بھی کیا۔

ضلعی انتطامیہ نے بتایا کہ انکاری والدین سے بات کرکے 15 بچوں کو پولیو کی ویکسین پلائی گئی، متعدد بار سمجھانے کے باوجود بھی انکار پر 5 والدین کو گرفتار کرلیا ہے۔

=========================

وزیراعظم نے رواں سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا
February 2, 2025

وزیراعظم شہبازشریف نے بچوں کو قطرے پلا کر رواں سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مہم میں کروڑوں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے ،پچھلے سال پاکستان میں پولیو کے 77کیسز سامنے آئے،رواں سال ایک کیس سامنے آ چکا ہے۔

محکمہ ریلویز کو پچھلے مالی سال 88 ارب روپے کی آمدن

ہمیں ہر قیمت پر پاکستان سے پولیو کا خاتمہ کرنا ہے ،افغانستان میں بھی باہمی سپورٹ سے پولیو کا خاتمہ ہو گا،انسداد پولیوکیلئے تعاون پر ڈبلیو ایچ او اور یونیسف سمیت تمام شراکت داروں کے مشکور ہیں۔

مشترکہ کوششوں کی بدولت ہی پولیو کا خاتمہ ممکن ہے،انسداد پولیو کیلئے بل گیٹس فاونڈیشن اور سعودی عرب کی حمایت پر شکرگزار ہیں،انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلا کر اس مرض سے محفوظ رکھیں۔

قبل ازیں وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیوعائشہ رضا فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی نگرانی میں پولیو کے خاتمے کیلئے کام کر رہےہیں۔

سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ:بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 2 روپے کمی متوقع

انسداد پولیو کیلئے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہےہیں ،بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کیلئے حکومت پرعزم ہے ۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرمختار بھرتھ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ سال مختلف حصوں سے پولیو کے کیسز سامنے آئے ،رواں سال پولیو کا ایک کیس سامنے آیا ہے۔

چیمپئنز ٹرافی 2025 کے فزیکل ٹکٹس کی فروخت کا کل سے آغاز

پولیو کیسز میں کمی حکومت کے پولیو فری پاکستان کے عزم کا عکاس ہے ،حکومت ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔
===============

ین ای او سی نے کہا کہ متاثرہ بچے میں21دسمبرکوپولیو کی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔ سال 2024میں کراچی ایسٹ سے2 پولیو کیس رپورٹ اور سندھ بھر سے 20 پولیو کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔

این ای او سی کے مطابق سال 2024 میں بلوچستان 27، کے پی 21 پولیو کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

خیال رہے گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیو کیخلاف جنگ میں افغانستان پاکستان سے آگے نکل گیا، جہاں کیسز میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں صرف افغانستان اور پاکستان میں پولیو کیسز سامنے آرہے ہیں، گزشتہ سال افغانستان میں صرف 25 اور پاکستان میں 68 کیسز رپورٹ ہوئے۔

پاکستان میں کیسز کے تشویشناک حد تک اضافے پر وزیراعظم شہبازشریف نے نوٹس لیا ہے، اور پولیو کے خاتمے کیلئے نئی ٹیم تشکیل دی ہے، تاکہ پولیو وائرس کی روک تھام کی جاسکے۔
===================

پاکستان میں گزشتہ 10 برسوں میں کتنے پولیو کیس رپورٹ ہوئے؟
پاکستان میں پہلی بار 21 فٹ لمبے ’مگرمچھوں‘ کی فارمنگ کا آغاز، ویڈیو دیکھیں

دولہے کی انوکھی حرکت پر دلہن والوں نے شادی منسوخ کر دی

غباروں کے درمیان ہزاروں فٹ بلندی پر چہل قدمی کا عالمی ریکارڈ، سسنی خیز ویڈیو

مرغا اور مرغی کی انوکھی شاہانہ شادی، دولہا دلہن کو پارلر سے تیار کرایا!
پولیو کیس
اسلام آباد: وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک میں 411 پولیو کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں چلائی گئی انسدادِ پولیو مہمات کے نتائج خاطر خواہ برآمد نہیں ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دس برسوں کے دوران نصف پولیو کیس خیبرپختونخوا سے سامنے آئے ہیں، کے پی سے 207، سندھ سے 92 پولیو کیس، بلوچستان سے 80، پنجاب سے 30، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے ایک ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا، جب کہ آزاد کشمیر سے کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

دس برسوں میں 50.4 فی صد پولیو کیس کے پی، 22.1 سندھ سے رپورٹ ہوئے، 19.7 فی صد پولیو کیس بلوچستان، 4۔7 فی صد پنجاب، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے 0.2 فی صد پولیو کیس رپورٹ ہوئے، دس برسوں میں اسلام آباد سے واحد پولیو کیس رواں برس سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 2015 میں 54، 2016 میں 20 پولیو کیس رپورٹ ہوئے تھے، 2017 میں 8، 2018 میں 12، 2019 میں 147، 2020 میں 84 پولیو کیس، 2021 میں ایک، 2022 کے دوران 20، اور 2023 کے دوران 6، جب کہ رواں سال 59 پولیو کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔

1994 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 400,000 پولیو ورکرز پولیو کے خاتمے کے ان اقدامات میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کو دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظام کی خدمات حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کو معلومات کے حصول اور تجزیے کا معیاری نیٹ ورک، جدید ترین لیبارٹریز، وبائی امراض کے بہترین ماہرین اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پبلک ہیلتھ کے نمایاں ماہرین کی خدمات بھی حاصل ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان سے تاحال اس کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا ہے۔
========================
خبرنامہ نمبر 768/2025
لورالائی 02 فروری۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا اور انسداد پولیو کے خلاف قومی عزم کو دہرایا۔ انہوں نے والدین اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ ضلع لورالائی سمیت پورے ملک کو پولیو سے مکمل محفوظ بنایا جا سکے، ضلع لورالائی میں 03 فروری کی قومی انسداد پولیو مہم (NIDs) کا باضابطہ افتتاح ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے ڈی سی آفس لورالائی میں کیا، اس موقع پر ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر لورالائی ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی،، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لورالائی ڈاکٹر عبدالحیلم اوتمانخیل، ڈبلیو ایچ او کے ڈیزیز سرویلینس آفیسر ڈاکٹر ایاز احمد سیاسی رہنما فرزند ایم پی اے افضل خان اوتمانخیل، ایم ایس ڈاکٹر فہیم، مذہبی شخصیت مولوی حیات،اے ڈی ایس ایم پی پی ایچ أئی عبدالسلام، سی سی او پی ایم ہاشم سی ایم اوز اور دیگر متعلقہ لوگ موجود تھے، پولیو مہم کے حوالے سے منعقدہ تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر میران بلوچ نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا اور انسداد پولیو کے خلاف قومی عزم کو بھی دہرایا۔ انہوں نے والدین اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ لورالائی سمیت پورے ملک کو پولیو سے مکمل محفوظ بنایا جا سکے_ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چاغی ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی نے کہا کہ اس مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو ویکسین پلائی جائے گی، اور اس مقصد کے لیے تربیت یافتہ ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں گی۔ انہوں نے والدین کو یقین دلایا کہ پولیو ویکسین مکمل طور پر محفوظ اور موثر ہے جو بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے انتہائی ضروری ہے_ ڈپٹی کمشنر لورالائی نے تمام متعلقہ اداروں اور فیلڈ ٹیموں پر زور دیا کہ وہ اس قومی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور محنت کریں تاکہ لورالائی کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔ انہوں نے علماء، سماجی رہنماؤں، اساتذہ، اور میڈیا کے نمائندوں سے بھی درخواست کی کہ وہ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور عوام میں شعور اجاگر کریں یاد رہے کہ انسداد پولیو مہم ملک بھر میں 3 فروری سے 7 فروری تک ہونے جارہی ہے، جس کے دوران لاکھوں بچوں کو موذی مرض سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی جائیگی_
=========================
ہینڈ آوٹ نمبر61

ننکانہ صاحب: ( )02 فروری 2025۔۔۔۔۔۔ضلع ننکانہ صاحب میں قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز آج سے ہوگا، پولیو مہم 7 فروری تک جاری رہے گی، مہم کے دوران ضلع ننکانہ میں 02 لاکھ 88 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسیئن کے قطرے پلانے کا ہدف ہے۔تفصیلات کے مطابق انسداد پولیو مہم اور ڈینگی کی روک تھام کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو کی زیر صدارت اجلاس ڈی سی کمیٹی روم میں اجلاس منعقد ہوا۔ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے محکمہ صحت و دیگر اداروں کو انسداد پولیو مہم موثر اور کامیاب بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی تک خطرہ برقرار ہے۔انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز انسداد پولیو مہم کی خودنگرانی کریں گے، پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے۔ڈی سی ننکانہ نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے مائیکرو پلانز کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔اسسٹنٹ کمشنرز ٹرانزٹ پوائنٹس پر ویکسیئن کے قطرے پلانے کیلئے خصوصی اقدامات کریں۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر محمد طلحہ شیروانی نے پولیو مہم کی تیاریوں بارے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیو ٹیموں کی ٹریننگ کے عمل کو مکمل کر لیا گیا ہے، انسداد پولیو مہم کیلئے 30 ٹرانزٹ، 72 فکسڈ، 1096 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، مجموعی طور پر 1198 ٹیمیں 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا قومی فریضہ سرانجام دیں گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے متعلقہ اداروں کے افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی مچھر کی افزائش کی روک تھام کے لیے لیے ہاٹ سپاٹ مقامات کی چیکنگ یقینی بنائی جائے، ڈینگی ٹیمیں ان ڈور، آوٹ ڈور مقامات کی چیکنگ کرکے مطلوبہ اہداف حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ مچھر کی افزائش کا باعث بننے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شہرینہ جونیجو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل رائے ذوالفقار علی، اسسٹنٹ کمشنرز، سی او ہیلتھ ڈاکٹر محمد طلحہ شیروانی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر کامران واجد متعلقہ محکموں کے حکام، پولیو کے خاتمے کیلئے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے۔
ننکانہ صاحب:یکم فروری 2025

ننکانہ صاحب میں قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز تین فروری سے ہوگا ، 7 فروری تک جاری رہے گی

مہم کے دوران ضلع میں 02 لاکھ 88 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسیئن کے قطرے پلانے کا ہدف

انسداد پولیو مہم اور ڈینگی کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو کی زیر صدارت اجلاس

ڈپٹی کمشنر کی محکمہ صحت و دیگر اداروں کو انسدادپولیو مہم موثر اور کامیاب بنانے کی ہدایت

ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی تک خطرہ برقرار ہے۔ڈپٹی کمشنر ننکانہ

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز انسداد پولیو مہم کی خودنگرانی کریں۔ڈی سی ننکانہ

پولیو کےخاتمے کی کوششوں میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے۔ڈی سی ننکانہ

ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے مائیکرو پلانز کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ڈی سی محمد تسلیم اختر راو

ٹرانزٹ پوائنٹس پر ویکسیئن کے قطرے پلانے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں، اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت

سی او ہیلتھ نے پولیو مہم کی تیاریوں بارے اجلاس کو بریفنگ دی

پولیو ٹیموں کی ٹریننگ کے عمل کو مکمل کر لیا گیا ہے۔بریفنگ

انسداد پولیو مہم کیلئے 30 ٹرانزٹ، 72 فکسڈ، 1096 ہزار موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں. بریفنگ

مجموعی طور پر 1198 ٹیمیں 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا قومی فریضہ سرانجام دیں گی

ڈینگی مچھر کی افزائش کی روک تھام کے لیے لیے ہاٹ سپاٹ مقامات کی چیکنگ یقینی بنائی جائے۔ڈی سی ننکانہ

ڈینگی ٹیمیں ان ڈور ، آوٹ ڈور مقامات کی چیکنگ کرکے مطلوبہ اہداف حاصل کریں۔ڈپٹی کمشنر ننکانہ

مچھر کی افزائش کا باعث بننے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔محمد تسلیم اختر راو

متعلقہ محکموں کے حکام ، پولیو کے خاتمے کیلئے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی