کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کی پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے بچوں کے والدین سے ملاقات


انسداد پولیو قومی مقصد ہے اور اس سے بچوں کا مستقبل اور صحت وابستہ ہے والدین تعاون کریں کمشنر کراچی سید حسن نقوی
انسداد پولیو سات روزہ مہم 3 فروری سے شروع ہوگی۔ 27 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے جائزہ اجلاس

کراچی ( ) کراچی انتظامیہ نے انسداد پولیو کی کوششوں کو موثر بنانے کے لئے انکار کرنے والے والدین سے براہ راست رابطہ کی مہم شروع کی ہے۔ تاکہ اس با ت کو یقینی بنایا جا سکے کہ تاکہ انسداد پولیو کی کوششوں میں والدین کی مدد حاصل ہو اور کوئی بچہ پولیو کے قطرے سے محروم نہ رہے۔ اس سلسلہ میں۔ کراچی انتظامیہ نے ضلع شرقی کے انکار کرنے والے بچوں کے والدین کی فہرست تیارکر لی ہے اور ہفتہ کو ڈپٹی کمشنر شرقی کے دفتر میں کمشنر کراچی سید حسن نقوی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھونے ان سے ملاقات کی۔ ملاقا ت میں کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی نے انکار کرنے والے والدین سے کہا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ان کے بچوں کی زندگی اور صحت کو محفوظ کرنے کی حکومت کی اور عالمی اداروں کی کوششیں بار آور ہوں۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی رانا شوکت علی،چیئرمین سہراب گوٹھ ٹاون اور ڈی آئی جی پولیس شرقی ڈپٹی کمشنر شرقی ابرار جعفر دیگر افسران اور کمیونٹی کے نمائندہ افراد،ضلعی انتظامیہ ایمر جنسی آپریشن سینٹر حکومت سندھ اور پولیس کے سینئر افسران بھی مو جو د تھے۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے کہا کہ انسداد پولیو قومی مقصد ہے۔ اس سے بچوں کا مستقبل اور صحت وابستہ ہے افغانستان اور پاکستان کے علاوہ ساری دنیا سے پولیو وائرس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے پاکستان کو بھی پولیو سے پا ک کرنے کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔کمشنر نے اجلاس میں موجود کمیونٹی کے ان رہنماوں کا شکردیہ ادا کیا جو انسداد پولیو کی کوششوں میں انتظامیہ کی مدد کر رہے ہین قبل ازیں کمشنر ن کی زیر صدارت ضلع شرقی گجرو یونین کونسل میں منعقدہ ایک اجلاس میں 3 فروری سے کراچی میں شروع ہونے والی انسداد پو لیو مہم کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا اجلاس کو بتا یا گیا کہ 27 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ کمشنر نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ انکار کرنے بچوں کو پولیو کے قطر ے پلانے پر توجہ دیں یقینی بنائیں کہ سو فیصد ہدف حاصل ہو۔ ان کوششوں میں کمیونٹی کے نمائندہ افراد سے مدد لیں اور یقینی بنائیں کہ انکار کرنے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا سو فیصد ہدف حاصل ہو ۔