کراچی: پاکستان میں سفر و سیاحت کی سب سے بڑی سالانہ بین الاقوامی نمائش “پاکستان ٹریول مارٹ” کا افتتاح گزشتہ روز ایکسپو سینٹر میں ہوا۔ اس نمائش کا انعقاد پاکستان ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن اور ٹڈاپ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

مورخہ: یکم فروری 2025

کراچی: پاکستان میں سفر و سیاحت کی سب سے بڑی سالانہ بین الاقوامی نمائش “پاکستان ٹریول مارٹ” کا افتتاح گزشتہ روز ایکسپو سینٹر میں ہوا۔ اس نمائش کا انعقاد پاکستان ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن اور ٹڈاپ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

تاریخی ورثے کی بحالی سے متعلقہ ایک پینل ڈسکشن میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کامران لاشاری نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ ورثے کی حفاظت، عمارتوں کی اصلی ساخت کو محفوظ کرنا بہت ضروری ہے مگر آپ کے اقدامات کے نتائج تب تک کارآمد ثابت نہیں ہوں گے جب تک لوگ ان مقامات کا رخ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آدھے سے زیادہ لاہور قلعہ اب تک لوگوں نے دیکھا تک نہیں ہے، انہیں معلوم ہی نہیں کہ لاہور قلعہ میں شاہی باورچی خانہ، برٹش بنکرز اور زیر زمین تعمیرات بھی ہیں جو کہ سیکڑوں سالوں سے بند پڑی ہیں۔

کامران لاشاری کا کہنا تھا کہ لاہور قلعہ ہمیشہ غروب آفتاب پر بند ہوجایا کرتا تھا، کسی کو کبھی شام میں قلعہ کو کھلا رکھنے کا خیال ہی نہ آیا، آج آپ وہاں جائیں، سارا علاقہ، قلعہ روشنیوں سے جگمگاتا ہے، آپ وہاں سے بادشاہی مسجد، حضوری باغ کا بھی نظارہ دیکھ سکتے ہیں۔ اب وہاں رات میں سیر تفریح ہورہی ہے، ہم ڈھائی گھنٹے کے ٹور کے فی شخص دو ہزار روپے وصول کرتے ہیں اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ پاکستان کا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا سیاحتی ٹور ہے۔

آزاد جموں کشمیر کی ایڈیشنل چیف سیکرٹری مدحت شہزاد بھی پینل ارکان میں شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مظفرآباد کے لال قلعے سے تاریخی ورثے کے تحفظ کا منصوبہ شروع کیا، اس وقت لاہور والڈ سٹی اتھارٹی کے متعلق معلوم ہوا اور اب اتھارٹی کے ساتھ مل کر ہم آزاد کشمیر کے پہلے ورثہ تحفظ منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر 41 فیصد افراد تاریخی مقامات کی سیاحت کرتے ہیں، یہ تاریخی ورثہ ہمارے ماضی اور حال کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔

مدحت شہزاد نے بتایا کہ قائداعظم یونیورسٹی، ہزارہ یونیورسٹی اور آزاد کشمیر یونیورسٹی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے ہمیں مختلف تاریخی مقامات کی نشاندہی کرکے دی جن میں مندر اور گرجاگھر بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ مظفرآباد میں مختلف مندروں کے تحفظ کیلئے 5 پی سی ون منصوبے تیار ہیں، مقامی آبادی کو ثقافتی مقامات کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ان مقامات پر قبضہ کرلیتی ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری آزاد کشمیر نے تجویز دی کے ہر صوبے کے محکمہ سیاحت کیلئے ورثہ فنڈ ہونا چاہیے جسے تاریخی مقامات کے تحفظ کیلئے استعمال کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی مقامات کی اہمیت اجاگر کرنے اور دنیا کے ہر حصے کے لوگوں کی ان تک رسائی کیلئے ڈیجیٹل ٹورز بھی شروع کیے جانے چاہئیں۔