
پریس ریلیز
27 جنوری 2025
کراچی، حیدر آباد، نواب شاہ: پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے حقوق سندھ مارچ سے تیسرے دن مرکزی، صوبائی و مقامی قیادت نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری خزانے پر ڈاکہ ڈالنے والے پکے کے ڈاکو ہیں۔ عوام اب کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔ عوام کے حقوق غصب کرنے والے ہماری جدوجہد سے خوف زدہ ہیں۔ اگر سندھ میں مسائل نہ ہوتے تو ہم سڑکوں پر نہ نکلتے۔ حکومت صوبے میں امن و امان قائم نہیں کرسکتی تو گھر چلی جائے۔ سندھ دھرتی اور سندھو ندی کی حفاظت کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی صدر خالد مسعود سندھو، صوبائی صدر فیصل ندیم، مرکزی رہنما حافظ عبد الرؤف، شفیق الرحمان وڑائچ، سندھ کے جنرل سیکرٹری اکرم عادل، صوبائی رہنما حافظ انور، کراچی ڈویژن کے صدر احمد ندیم اعوان، حیدر آباد ڈویژن کے صدر عقیل احمد لغاری، شہید بے نظیر آباد ڈویژن کے صدر حافظ رضاء اللہ، ضلع سانگھڑ کے صدر اسید الرحمن، ٹنڈو آدم کے صدر راشد شیخ، مٹیاری کے صدر شفیع محمد، نیو سعید آباد کے صدر قمر الدین بلوچ، نواب شاہ کے صدر محمد اصغر عسکری و دیگر نے کیا۔ حقوق سندھ مارچ کے شرکا تیسرے دن حیدر آباد سے براستہ مٹیاری، ٹنڈو آدم، شہداد پور، ہالا، نیو سعید آباد اور سکرنڈ سے ہوتے ہوئے نواب شاہ پہنچے۔ تمام اضلاع میں مارچ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ حیدر آباد اور نواب شاہ میں بڑے جلسے بھی منعقد کیے گئے۔ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر خالد مسعود سندھو نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ نظریاتی جماعت ہے، ہم اپنے نظریے کے تحت جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم نے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ عوام کے درمیان موجود رہیں گے۔ عوام کے حقوق کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ سندھ کے صوبائی صدر فیصل ندیم نے کہا کہ سندھ میں مسئلہ نہیں مسائل ہیں۔ اگر سندھ میں مسائل نہ ہوتے تو ہم حکمران جماعت سے سوال نہ کرتے۔ چند اسپتالوں اور سڑکوں کے علاوہ حکمران جماعت کے پاس بیان کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ فیصل ندیم نے کہا کہ ہم اپنے لیے کچھ نہیں چاہتے ہم عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ حکمران جماعت عوام کو دھوکہ دینا بند کردیں۔ سندھ کا خزانہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگ بجلی کے بل نہیں دے سکتے۔ گھوسٹ ملازمین اور
کرپشن کے ذریعے تعلیم کا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ امن و امان قائم کرنے میں حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ سرکاری خزانے پر ڈاکہ ڈالنے والے پکے کے ڈاکو ہیں۔ پانی کی کمی کی وجہ سے سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہیں مل رہا۔ دریائے سندھ سے مزید نہریں نکال کر زراعی زمینوں کو بنجر بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ نائب صدر حافظ عبد الرؤف نے کہا کہ ہم انسانوں کی غلامی کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ ہم ایک اللہ کے سامنے جھکیں گے۔ ہم سندھ واسیوں کے حقوق کے لیے میدان میں آئے ہیں۔
ہم انسانوں کی غلامی کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ مرکزی رہنما شفیق الرحمان وڑائچ نے کہا کہ ہمیں اپنے حقوق جاننے ہوں گے۔ ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔ ہم عوام کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ سندھ کے جنرل سیکرٹری اکرم عادل نے کہا کہ کچے کے ڈاکوؤں نے سندھ میں پانچ ہزار سے زیادہ وارداتیں کی ہیں۔ پکے کے ڈاکو ستر سال سے ہم پر مسلط ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ جمہوری جدوجہد کے ذریعے عوام کو حقوق دلائے گی۔ صوبائی رہنما حافظ انور نے کہا کہ حکمرانوں نے سندھ کے عوام کو غلام سمجھ رکھا ہے۔ ہم عوام کو حکمرانوں کے غلام نہیں بننے دیں گے۔ عوام کے استحصال کے خلاف عزم لے کر نکلے ہیں۔ کراچی ڈویژن کے صدر ندیم اعوان نے کہا کہ سندھ کے لوگ بیدار ہوچکے ہیں۔ ہماری جدوجہد میں ہر علاقے سے آواز شامل ہو رہی ہے۔ ظلم کے خلاف خاموش رہنا بہت بڑا ظلم ہے۔ حیدر آباد ڈویژن کے صدر عقیل احمد لغاری نے کہا کہ پکے کے ڈاکو کچے کے ڈاکوؤں کی پشت پناہی بند کردیں۔ حیدر آباد کا انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔ سترہ سال سے اقتدار میں رہنے والی پارٹی نے حیدرآباد میں کیا ترقی کی؟ عوام کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ شہید بے نظیر آباد ڈویژن کے صدر حافظ رضاء اللہ نے کہا کہ عوام سے سوال کرتا ہوں کہ کیا ہمیں لائن میں میٹھا پانی مل رہا ہے؟ شہداد پور میں سرکاری زمینوں کو بیچا جا رہا ہے۔ اسکول کی زمین پر مارکیٹ بنائی جا رہی ہے۔ ضلع سانگھڑ کے صدر اسید الرحمن نے کہا کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں اور ہم عوام کے ساتھ ہیں۔ اپنے حقوق کے لیے باہر نکلے ہیں اور حق لے کر رہیں گے۔ ٹنڈو آدم کے صدر راشد شیخ نے کہا کہ ہم حکمرانوں کی غلامی قبول نہیں کرتے۔ ہم سے ووٹ لے کر اقتدار حاصل کرنے کے بعد حکمران ہمیں بھول جاتے ہیں۔ ہم عوام کی طاقت سے غلامی کا خاتمہ کریں گے۔























