جیکب آباد سے بہت سی تازہ ترین اور اہم خبریں۔

جیکب آباد رپورٹ ایم ڈی عمرانی
جیکب آباد میں ڈکیتی و چوری کی 2 وارداتیں، شہری 15 تولہ زیورات اور 18 لاکھ نقدی سے محروم، پولیس شہر میں امن قائم کرنے میں ناکام، جماعت اسلامی نے 28 جنوری کو ایس ایس پی آفیس کے دھرنے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے سٹی تھانہ کی حدود شاہ غازی محلہ میں نامعلوم چور ہندو بیوپاری ونود کمار کے گھر میں داخل ہوکر 15 تولہ زیورات اور 8 لاکھ روپے نقدی لیکر فرار ہوگئے جبکہ سٹی تھانہ کی حدود قائم الدین گلی میں نامعلوم مسلح افراد نے دوکاندار امیت کمار کے دوکان میں داخل ہوکر اسلحہ کے زور پر 10 لاکھ نقدی اور 4 موبائل فونز چھین کر فرار ہوگئے، چوری و ڈکیتی کے واقعات کے بعد پولیس نے پہنچ کر جائے وقوعہ کا معائنہ کیا تاہم واقعات کے مقدمات درج نہیں ہوسکے تھے، ادھر جماعت اسلامی نے ضلع میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف 28 جنوری کو ایس ایس پی کی آفیس کے سامنے دھرنے کا اعلان کردیا ہے، جماعت اسلامی کے رہنما حاجی دیدار لاشاری نے کہا کہ ضلع جیکب آباد میں بدامنی عروج پر پہنچ چکی ہے لوگ اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ ہوچکے ہیں، بدامنی کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں تمام جماعتوں کی شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔

جیکب آباد ضلع میں بدامنی، ضلع کونسل کے اراکین نے اجلاس طلب کرنے کے لیے درخواست دیدی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد ضلع میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور گاؤں کریم بخش کھوسو میں بیوپاری غلام سرور کھوسو کے گھر سے سوا کروڑ کی ڈکیتی کے واقعہ کے خلاف ضلع کونسل کے اراکین حاجی افضل کھوسو اور ڈاکٹر عبدالخالق کھوسو نے ضلع کونسل کے چیئرمین کو اجلاس بلانے کے لیے درخواست جمع کرادی ہے، اراکین نے درخواست میں ضلع کے اندر بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ضلع جیکب آباد میں ڈکیتی، چوری، لوٹ مار اور اغوا کی وارداتیں معمول بن چکی ہے جس سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہے جبکہ پولیس امن و امان کو بحال کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے اس لیے ضلع کونسل کا اجلاس طلب کرکے امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی جوڑی جائے۔

جیکب آباد میں آل پارٹیز کی جانب سے دریائے سندھ سے کینال نکالنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں آل پارٹیز کمیٹی کی اپیل پر مختلف تنظیموں ترقی پسند پارٹی، جے یو آئی، ایس یو پی، بی این پی سمیت دیگر تنظیموں کی جانب سے دریائے سندھ سے کینال نکالنے کے خلاف مشترکہ احتجاجی جلوس محمد شعبان ابڑو، گلاب جان مینگل، فدا حسین لکھن، عید محمد ڈومکی کی قیادت میں نکالا گیا، مظاہرین نے جلوس نکال کر پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا اور نعریبازی کی، اس موقع پر مظاہرین نے کہا کہ دریائے سندھ سے کینال نکال کر سندھ کو بنجر بنانے کی سازش کی جارہی ہے سندھ کے عوام کسی صورت کینالوں کو قبول نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ وفاق کی پالیسیوں کی وجہ سے صوبوں کے درمیان نفرت پیدا ہورہی ہے جس سے وفاق کمزور ہوگا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلفور کینالوں کا منصوبہ ختم کرکے سندھ کے عوام میں پھیلی بے چینی کو دور کیا جائے۔

جیکب آباد کی مختلف تنظیموں کے اتحاد شہری اتحاد جیکب آباد کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا ہے کہ جیکب آباد میں غیر قانونی ٹول پلازہ کی تعمیر کے خلاف (آج) 25 جنوری کو 2 بجے دوپہر شہید اللہ بخش پارک جیکب آباد سے ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا جائے گا جس میں جے یو آئی، ترقی پسند پارٹی، پی پی شہید بھٹو، ایس یو پی، جماعت اسلامی، وحدت المسلمین، مسلم لیگ ن، عوامی تحریک، پی ٹی آئی، ٹریڈ یونین سمیت تمام تنظیموں کے کارکنان شرکت کریں گے اور ڈی سی آفیس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

جیکب آباد میں 7مختلف ناموں سے ٹف ٹائل کے نام پر 17کروڑ36لاکھ سے زائد خرچ،سالانہ ترقیاتی پروگرام،بلڈنگز او ر ہائی وے نے کام ایک ہی نام مختلف کے تحت سرکاری خزانے کو بہایا،منصوبوں میں کہیں بھی یہ وضاحت نہیں کہ کام کہاں کیاکیا جائے گا،بڑے پیمانے پر سرکاری فنڈس کی ہیرا پھیری کا انکشاف تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں مختلف ناموں سے ایک ہی کام پر تین اداروں نے 17کروڑ 36لاکھ 72ہزار 798خرچ دکھایا ہے جیکب آباد شہر کے گلی محلوں وارڈس اور دیہاتوں میں ٹف ٹائل ٹف پیور،کلورٹس کے7مختلف ناموں سے منصوبوں پر سرکاری خزانے کا صفایہ کیا گیا،سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ٹف ٹائل اور ٹف پیور کلورٹس کے پانچ منصوبوں پر پروجیکٹ ڈائریکٹر نے رواں مالی سال 13کروڑ90لاکھ 86ہزار،محکمہ بلڈنگز کے دو منصوبوں پرایکسئین نے 2کروڑ80لاکھ 21ہزار اور ہائی وے نے 65لاکھ 65ہزار خرچ کیا ہے ان ساتوں منصوبوں میں ٹف ٹائل تعمیر کے مخصوص مقام کا کہیں بھی ذکر نہیں جو کہ سنگین غلطی ہے اس بہانے بڑے پیمانے پر سرکاری فنڈس کی ہیراپھیری کرنے کا انکشاف ہواہے ایک ہی منصوبے کو تین اداروں کی جانب سے خرچ دکھانا قابل حیرت بھی ہے اور بڑدھوکا بھی اس ضمن میں محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کی مجرمانہ خاموشی کروڑوں روپے کے سرکاری فندس کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے ترقی و منصوبہ بندی کی طرف سے جیکب آباد ضلع میں کس افسر کو مقرر کیا گیا ہے یہ تک کسی کو نہیں پتہ،اس معاملے کو مخفی رکھا گیا ہے محکمہ ہائی وے اور بلڈنگز کی بیک وقت کئی ماہ سے چارج رکھنے والے ایکسین نصیر بھٹو سے موقف لینے کے لئے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن نمبر اٹینڈ نہ ہوا۔

جیکب آبادمیں محکمہ صحت کی عجب کرپشن کی غضب کہانی،پولیو کا پانچوا ں کیس جس یوسی سے رپورٹ ہوا اس رورل ہیلتھ سینٹر کا 19ویں گریڈ کا ڈپٹی میڈیکل سپریڈنٹ 2021سے غیر حاضر،میرپور آرایچ سی کا متعدد عملہ بھی ڈیوٹی سے غائب،ضلع کے 40سے زائد ڈاکٹرس ماہانہ 20لاکھ کے عیوض گھوسٹ ہونے کا انکشاف،برسوں سے ڈیوٹی سے غیر حاضر تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے محکمہ صحت میں عجب کرپشن کی غضب کہانی سامنے آئی ہے جیکب آبا دکی یونین کونسل میرپور میں پولیو کا پانچواں کیس رپورٹ ہوا اس یوسی کے رورل ہیلتھ سینٹر کا 19ویں گریڈ کا ڈپٹی میڈیکل سپریڈنٹ کے2021سے غیر حاضر ہے مذکورہ سینٹر کا دیگرعملہ بھی غیر حاضر بتایا جاتا ہے 31اکتوبر کو ڈی ایچ او جیکب آباد نے ڈپٹی میڈیکل سپریڈنٹ رورل ہیلتھ سینٹر میرپور کو جوائنگ کی تاریخ 29مارچ 2021سے ڈیوٹی سے مفرور ہونے کے متعلق وضاحت کے لئے 4نومبر کو طلب کیا تھالیکن اسکے باوجود بھی مذکورہ ڈاکٹر ڈیوٹی کے پابند نہ ہوئے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ایک لاکھ ماہوا رکے عیوض ڈیوٹی سے آزادہے،ضلع جیکب آباد میں ڈ ی ایچ او آفیس سمیت ضلع کے مختلف بی ایچ یوز اور آرایچ سیز میں مقرر 40سے زائد ڈاکٹرس کے ماہوار 20لاکھ کے عیوض گھوسٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے جو برسوں سے سرکاری ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں اور کراچی حیدر آباد سکھر میں پرائیوٹ نوکری کررہے ہیں جبکہ دوسو سے زائد پیرا میڈیکل اسٹاف گھوسٹ ہے گھوسٹ عملے سے ماہانہ وصولی کے لئے دو کلرکس مقرر کئے گئے ہیں،اس سلسلے میں ڈی ایچ او جیکب آباد ڈاکٹر سراج احمد سہتو نے رابطے پر بتایا کہ گھوسٹ عملے کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا،کچھ کی تنخواہ بند کی ہے کچھ کو رلیف کیا ہے میرپور برڑو کا تو 2021سے غیر حاضر ہے جس کی آپ نشاندہی کررہے ہیں یہاں تو آٹھ سالوں سے ڈاکٹروعملہ ڈیوٹی سے مفرور ہے کراچی آیا ہوں سیکریٹریٹ میں رپورٹ کی ہے