
سندھ کے صوبائی سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ، ماضی میں نیب کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے حفیظ اللہ عباسی کو نیا سیکریٹری پاپولیشن سندھ تعینات کر دیا گیا ، نوٹیفکیشن جاری
چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی منظوری سے صوبائی سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ حافظ عبدالہادی بلو کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور انہیں محکمہ سروسز میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ان کی جگہ ماضی میں نیب کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے حفیظ اللہ عباسی کو سیگریٹری پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ تعینات کیا گیا ہے تعیناتی کا نوٹیفکیشن غلام عباس ملک سیکشن افسر ون کے دستخط سے جاری کر دیا گیا ہے حفیظ اللہ عباسی سیکرٹیریٹ گروپ گریڈ 20 کے افسر ہیں اور ماضی میں مختلف اہم سرکاری عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں ۔ دوسری طرف حافظ عبدالحادی بلو

کو عہدے سے ہٹانے کے بعد فوری طور پر کوئی دوسری ذمہ داری نہیں دی گئی اور انہیں محکمہ سروسز میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے
۔ حلقوں میں حفیظ اللہ عباسی کو 2016 میں نیب کے ہاتھوں گرفتاری کی وجہ سے جانا جاتا ہے جب ان پر اس ٹیوٹا سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ وکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے 1100 سے زیادہ غیر قانونی بھرتیوں کے الزام میں کیس بنا تھا تب نیب نے ایم ڈی حفیظ اللہ عباسی اور ڈائریکٹر فائنانس یوسف بلوچ کو گرفتار کیا تھا اور تفتیش کے لیے 14 روزہ ریمانڈ بھی عدالت سے حاصل کیا گیا تھا ۔ بعد ازاں حفیظ اللہ عباسی نیب سے واپس ا کر اہم عہدوں پر فائز ہو گئے تھے اور اب انہیں اچانک صوبائی سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ تعینات کر دیا گیا ہے اس سے پہلے وہ تعیناتی کے منتظر تھے اور ان کے پاس کوئی ذمہ داری نہیں تھی

NAB arrests former STEVTAs MD, director for over 1,100 illegal appointments
==========================

کِیا لکی موٹرز پاکستان میں نئی EV9 لانچ کرنے جا رہی ہے؟
لکی موٹر، جو پاکستان میں KIA ’کیا‘ گاڑیوں کی اسمبلی اور فروخت کا کام کرتی ہے، ملک میں نئی الیکٹرک ایس یو ویز متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔ کمپنی نے مختلف قیمتوں کی رینج میں الیکٹرک گاڑیاں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں ان کی فلیگ شپ ایس یو وی ای وی 9 (SUV EV9) بھی شامل ہے۔
کیا نئی گاڑیاں آئیں گی؟
لکی موٹر کے سی ای او محمد فیصل نے بتایا کہ EV9 کے علاوہ، کمپنی مستقبل میں EV3 (ایک چھوٹی اور کم قیمت الیکٹرک SUV) بھی لانے پر غور کر رہی ہے۔ اکتوبر 2024 میں متعارف کرائی گئی EV5 کو بھی صارفین سے اچھی پذیرائی ملی۔
لکی موٹر کے سی ای او محمد فیصل نے اعلان کیا کہ کمپنی کی پہلی الیکٹرک ایس یو وی کِیا ای وی 9 جلد ہی عوام کو دستیاب ہوگی۔ ہم مستقبل میں ایک چھوٹا الیکٹرک ماڈل ای وی 3 بھی جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ نئی الیکٹرک گاڑیاں مکمل طور پر اسمبل کی جائیں گی اور دوسری جگہوں سے درآمد کی جائیں گی۔
محمد فیصل نے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2024 میں KIA EV5 کی کامیاب لانچنگ کے بعد جو خریداوں کی نظر میں پہلے ہی آچکی تھی اب نئی لانچنگ پر بھی بہت پُر امید ہیں۔ ای وی 5 دو آپشنز میں آتا ہے: لانگ رینج کا ”ارتھ“ ماڈل، جو ایک چارج پر 620 کلومیٹر تک جا سکتا ہے جس کی قیمت 23 ملین روپے ہے، اور مختصر رینج کا ”ایئر“ ماڈل، جو 480 کلومیٹر تک جاتا ہے اور اس کی قیمت 18.5 ملین روپے ہے۔
ماہرین کے مطابق، ای وی 5 کی قیمت اور خصوصیات آڈی ای ٹرون (Audi e-tron) اور Hyundai IONIQ 5 سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ گاڑیاں زیادہ تر بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، اور اسلام آباد کے کاروباری افراد اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز نے خریدی ہیں، جو پہلے ہی SUVs کا استعمال کر رہے ہیں۔
EVs کی مانگ کیوں بڑھ رہی ہے؟
محمد فیصل کے مطابق، الیکٹرک گاڑیاں ماحول دوست ہونے کے ساتھ توانائی کی بچت بھی کرتی ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ انہیں اسٹیٹس سمبل کے طور پر خرید رہے ہیں کیونکہ یہ روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں مہنگی ہیں۔
چیلنجز؟
پاکستان میں EVs کی فروخت میں کئی رکاوٹیں ہیں، سب سے اہم یہ ہے کہ چارجنگ پوائنٹس کی کمی ہے دوسری وجہ گاڑیوں کی ری سیل ویلیو کم ہے۔ اسکے علاوہ بیٹریوں کی محدود عمر، جنہیں ہر پان سے سات سال بعد تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
تاہم حکومت نئی انرجی وہیکل (NEV) پالیسی 2025 کے تحت EVs کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ایک چینی کمپنی کے ساتھ 350 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے 3,500 چارجنگ اسٹیشنز بھی نصب کیے جائیں گے۔
حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک EVs کا حصہ کل گاڑیوں کی فروخت کا 30 فیصد ہو، لیکن محمد فیصل کا کہنا ہے کہ یہ ہدف ان کے مطابق 10 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
===========================
وفاقی حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر کو لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ مقرر کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جہاں سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ ’حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جگہ جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر کو نیا کمیشن سربراہ لگا دیا ہے، حکومت قانون سازی کے ذریعے لاپتہ افراد ٹربیونل بنانا چاہتی ہے‘، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’لاپتہ افراد ٹربیونل کے لیے تو قانون سازی کرنا پڑے گی‘، جس پر ایڈیںشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’قانون سازی کے لیے کابینہ کمیٹی کام کر رہی ہے‘۔
اس دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ’قانون تو پہلے سے موجود ہے، کسی کو لاپتہ کرنا جرم ہے، کسی نے جرم کیا ہے تو ٹرائل کریں، جرم نہیں کیا تو اس کو چھوڑدیں‘، جس پر ایڈیںشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’وفاقی حکومت ایک مرتبہ لاپتہ افراد ایشو کو سیٹ کرنا چاہتی ہے‘، جسٹس حسن اظہر رضوی نے پوچھا کہ ’اب تک کمیشن نے کتنے لاپتہ افراد کی ریکوریاں کیں؟ کیا بازیاب ہونے والے آکر بتاتے ہیں کہ وہ کہاں تھے؟‘۔
اس سوال پر رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے جواب دیا کہ ’بازیاب ہونے والے نہیں بتاتے وہ کہاں پر تھے‘، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’پارلیمنٹ کو قانون سازی کا نہیں کہہ سکتے، بس امید ہی کرسکتے ہیں کہ حکومت لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرے گی‘، بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔























