
ڈائمنڈ سٹی کی بجلی کاٹ دی ،ہزاروں مکین پریشان، کنڈوں کی وجہ سے منقطع کی، کے الیکٹرک
22 جنوری ، 2025
کراچی(اسٹاف رپورٹر)مائی لینڈ بلڈراینڈ ڈیویلپرز کے پراجیکٹ ڈائمنڈ سٹی اسکیم 33نزدگلشن معمار کی بجلی کاٹ دی گئی ۔ہزاروں مکین پریشانی میں مبتلا ہیں۔اہل علاقہ کا سوال ہے کہ جب ہم اسٹار کسٹمر ہیں تو ہمیں کیوں سزا دی جارہی ہے جبکہ بلڈر اگر ڈیفالٹر ہے تو ہمارا کیا قصور ہے۔کے الیکٹرک کا کہنا ہے سوسائٹی میں نان پیمنٹ اور کنڈوں کی وجہ سے بجلی کاٹی گئی ہے۔واضح رہے کہ ڈائمنڈ سٹی کے 90فیصد صارف کے الیکٹرک کے

اسٹار کسٹمر ہیں اسکے باوجود انہیں اندھرے میں ڈال دیاگیا۔یاد رہے کہ مائی لینڈ بلڈرز نے ڈائمنڈ سٹی کی اسٹریٹ لائٹس کی مد میں 32لاکھ سے زائد بل جمع نہیں کرایا ہے جبکہ اسٹریٹ لائٹس کا میٹر بھی نہیں ہے۔
============
لائنزایریا‘کنڈامافیاکا KEعملے پرحملہ ‘تشدد‘ملازمین زخمی
22 جنوری ، 2025
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایبی سینیا لائن (لائنز ایریا) میں غیر قانونی بجلی کنکشنز منقطع کرنے کے دوران کنڈہ مافیا کا کے الیکٹرک عملے پر حملہ اور تشدد، ملازمین زخمی ہو گئے۔ ترجمان کےالیکٹرک نے کہا کہ زخمی ملازمین کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی نجی اسپتال روانہ کیا گیا۔ حملہ آور عناصر کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج سمیت سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔کنڈا مافیا کیخلاف بھرپور ایکشن جاری رہے گا۔ مذکورہ علاقے کے نادہندگان پر بجلی کی مد میں واجب الادا رقم 27 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
=============
ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پردھوکادہی سے آگاہ کرتے رہے ہیں، نیب
22 جنوری ، 2025
اسلام آباد ( نمائندہ جنگ )نیب ایک قومی احتسابی ادارے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے وقتا فوقتا لوگوں کو ان عناصر کے بارے میں آگاہ کرتا رہا ہے جو لوگوں سے ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر دن رات پیسے بٹورنے میں مصروف ہیں۔ نیب اعلامیہ کے مطابق نیب کے پاس اس وقت بحریہ ٹاؤن اور دیگر افراد کے خلاف کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں۔ نیب کے پاس شواہد ہیں کہ کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری پشاور اور جام شورو سمیت کئی شہروں میں اراضی پر بھی قبضہ کیا گیاہے۔ نیب نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن اس وقت این سی اے کے مقدمے میں زیرتفتیش ہے ، حال ہی میں دبئی میں بھی لگژری اپارٹمنٹ کے حوالے سے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا گیاہے- لوگوں کو اس حوالے سے تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ مذکورہ پروجیکٹ کے اندر کسی قسم کی سرمایہ کاری سے اپنے آپ کو دور رکھیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو قانونی کارروائی ہو گی۔ حکومت پاکستان بھی فوری طور پر اس اہم معاملے پر دبئی کی حکومت سے رابطہ کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔























