سندھ اسمبلی نے منگل کو پرائیوٹ ممبرز ڈے کے موقع پر صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے کمیشن کے قیام اور سندھ پبلک سروس کمیشن میں بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کے متعلق اپوزیشن کی قراردادیں مسترد کردیں جبکہ ایم کیو ایم کی خاتون رکن فوزیہ حمید کی آٹزم سینٹر اور آٹزم کے علاج کی تربیت کے لئے مرکز کے قیام سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی


سندھ اسمبلی کی مکمل خبر

کراچی (نامہ نگار خصوصی ) سندھ اسمبلی نے منگل کو پرائیوٹ ممبرز ڈے کے موقع پر صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے کمیشن کے قیام اور سندھ پبلک سروس کمیشن میں بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کے متعلق اپوزیشن کی قراردادیں مسترد کردیں جبکہ ایم کیو ایم کی خاتون رکن فوزیہ حمید کی آٹزم سینٹر اور آٹزم کے علاج کی تربیت کے لئے مرکز کے قیام سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ۔ایوان کی کارروائی کے دوران یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سندھ میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے متعلق پیپلز پارٹی کی رکن ہیر سوہو کی تحریک التوا پر آئندہ جمعہ کو دوگھنٹے تک بحث ہوگی ۔سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر سماجی بہبود طارق تالپور کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر قائد حزب اختلاف علی خورشیدی برہم ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ میں 16سال سے برسراقتدار ہے اس سے پہلے کیا یہاں بی جے پی کی حکومت تھی جو ترقیاتی کاموں میں تاخیر کی ذمہ داری اس پر ڈال دی جائے ؟ سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کو ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ایوان کی کارروائی کے دوران ایم کیو ایم کے رکن راشد خان نے
سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کے متعلق ایک قرارداد پیش کی جس کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امورضیاءالحسن لنجار نے کہا کہ اس موضوع پر بہت بات ہوچکی ہے بہت سی چیزیں عدالت کی ہدایات کے مطابق کی جارہی ہیں ۔اس لئے اس پر مزید بات نہیں کی جاسکتی ۔ایوان نے اس قرارداد کو مسترد کردیا۔
ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی عامر صدیقی نے صوبے کے تعلیمی معیار کے متعلق کمیشن کے قیام سے متعلق اپنی نجی قرارداد پیش کی ۔اس قرارداد کی بھی وزیر پارلیمانی امور نے مخالفت کی ان کا موقف تھا کہ سندھ ایجوکیشن پالیسی کمیشن پہلے ہی موجود ہے اس لئے مزید کمیشن کی کیا ضرورت ہے ؟ انہوں نے پیش کش کی کہ اگر چاہیں تو کمیشن میں معزز ممبر کو بٹھا دیتے ہیں۔ حکومت کی مخالفت کی وجہ سے یہ تحریک مسترد ہوگئی۔ سندھ اسمبلی میں ایم پی اے فوزیہ حمید نے آٹزم سینٹر اور آٹزم کے علاج کی تربیت کے لئے مرکز قائم کرنے کی قرارداد پیش کی جسے حکومتی اراکین اور اپوزیشن کی حمایت سے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرلی گیا۔وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل نے کہا کہ یہ بہت اہم ایشو ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس قرارداد سے ان بچوں اور خاندانوں کو خوشی ہوگی جنہیں اس بیماری کا سامنا ہے ۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ آٹزم کے شکار بچوں کو ہم ٹریننگز دیتے ہیں۔ ان بچوں کو ووکیشنل ٹریننگ بھی دی جا±سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہرضلع میںکلینکل سائیکولوجسٹ موجود نہیں ہیں ان کی کمی ہے جسے پورا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر عذرا نے کہا کہ اسپیکٹرم کی شناخت بہت ضروری ہوتی ہے ،ہر ضلعے میں آٹزم کے شکار بچوں کو لیے ری ہیبلیٹیشن سینٹر بنائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں سب سے بڑا آڑٹسٹک سینٹر سول ہسپتال کراچی کے برابر میں ہے۔ سندھ اسمبلی میں منگل کو محکمہ سماجی بہبود سے متعلق وقفہ سوالات تھا ۔اس موقع پر صوبائی وزیر سماجی بہبود طارق تالپورنے ارکان کی جانب سے دریافت کئے جانے والے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دیئے اور ایوان کو بتایا کہ ان کا محکمہ کس انداز میں این جی اوز کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے ، انہیں مالی امداد فراہم کرنے کا کیا طریقہ کار ہے اور جو این جی اوز غیر قانونی سرگرمیوں یا کرپشن میں ملوث ہوتی ہیں ان کے خلاف کس طرح تادیبی کارروائی کی جاتی ہے ۔صوبائی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ ان کا محکمہ سندھ میں سلائی اور کڑاہی کے کئی سینٹرز چلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی شہروں میںبیوٹیشن کے کورسز کرواتے ہیں۔ جس کی پہلے دو سو روپے فیس تھی وہ بھی اب ختم کردی ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن طحہ احمدنے وزیر موصوف سے کہا کہ وہ کوئی ایسے پانچ منصوبے بتا دیں جس پر حکومت سندھ فخر کر سکے۔ صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود طارق تالپور نے کہا کہ ہم کراچی میں اے این ایف سے مل کر اچھا کام کر رہے ہیں ،دیگر اضلاع میں بھی اچھا کام کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں محکمہ ٹرانسجینڈرز کے لئے بھی کام کرتا ہے ۔صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود نے بتایا کہ بھکاری، سینئر سٹیزن ہمارے ڈومین میں آتے ہیں ان کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رکن ڈاکٹر باسط نے شکوہ کیا کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے بعض دستاویزات مانگ رہے ہیں کیونکہ وہ محکمہ سماجی بہبود کی مجلس قائمہ کے چیئرمین لیکن انہیں یہ دستاویزات مہیا نہیں کی گئیںانہیں کہا کہ مجھے کام نہیں کرنے دیا جارہا ہے ایسی کمیٹی پر ٹھوکر مارتا ہوں۔صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود طارق تالپور نے کہا کہ یہ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ کبھی میرے پاس آئے؟ایوان میں بیٹھ کر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ ہمیشہ اپنی بجٹ تقریر میں مختلف محکموں کے لئے بڑی بڑی رقومات مختص کرنے کا اعلان کرتے ہیں لیکن یہ کسی سال بھی مکمل نہیں ہوتیں۔منسٹر صاحب نے کہا ہے کہ انہیں وزیر بنے ہوئے دس ماہ ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے کیا بی جے پی کی حکومت تھی؟ جو وزیر کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے ۔بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔