وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ شہید ذوالفقارعلیبھٹوایکسپریس وے (شاہراہ بھٹو) کے متعلق سوشل میڈیا اور میڈیا پر غلط خبریں چلائی گئیں۔ شاہراہ بھٹو ایکاچھا منصوبہ ہے، لیکن کچھ لوگوں کو ایسے اچھے منصوبے پسند نہیں ہیں۔ لیکن وہ عوام کو گمراہ نہ کریں۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ شہید ذوالفقارعلیبھٹوایکسپریس وے (شاہراہ بھٹو) کے متعلق سوشل میڈیا اور میڈیا پر غلط خبریں چلائی گئیں۔ شاہراہ بھٹو ایکاچھا منصوبہ ہے، لیکن کچھ لوگوں کو ایسے اچھے منصوبے پسند نہیں ہیں۔ لیکن وہ عوام کو گمراہ نہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس میں انڈر رول 261 پر بیان دیتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ چند روز قبل جس انٹرچینج کا بلاول بھٹو نے افتتاح کیا وہ بلکل مکمل ہے، شہری سفر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز کچھ نجی چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا پر اس شاہراہ بھٹو کے حوالے سے غلط انفارمیشن چلائی گئی۔ سعید غنی نے کہا کہ کل میں نے ایک بار پھر پوری ایکسپریس وے کا دورہ کیا اور جن پوائنٹس کی سوشل میڈیا پر نشاندہی کی گئی تھی وہ گمراہ کن تھے اور اس کی ویڈیو بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جس شاہراہ بھٹو کا 11 جنوری کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے افتتاح کیا وہ اس کا فیز ون تھا اور یہ قیوم آباد سے شاہ فیصل کالونی تک کا ہے جبکہ قائد آباد کا دوسرا فیز مارچ اور تیسرا اور آخری فیز جو اس شاہراہ کو ایم نائین سے ملائے گا وہ دسمبر 2025 تک مکمل کیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ قیوم آباد سے شاہ فیصل کالونی، کورنگی انڈسٹریل ایریا سے قیوم آباد اور ائیرپورٹ تا قیوم آباد تک شاہراہ بھٹو کے تمام راستے کھلیں ہیں اور ان پر ٹریفک رواں دواں ہے اور گزشتہ رات تو یہاں گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد نے سفر کیا ہے۔ البتہ جس گمراہ کن ویڈیو کو سوشل اور کچھ نجی چینل پر دکھایا گیا ہے وہ ٹریک اس وقت بھی بند ہے اور مزید دو ماہ بند رہے گا کیونکہ وہ ٹریک فیز ٹو یعنی قائد آباد جانے والا ٹریک ہے، جس پر کام جاری ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اسمبلی کے فلور پر میں یہ بیان اس لئے ریکارڈ کروانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس شاہراہ کا عوام کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے لیکن افسوس کہ جن لوگوں کو ہمارے کام پسند نہیں یا جو پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے روڈ نیٹ ورک کے جو تحفہ کراچی کے عوام کو دئیے جارہے ہیں اس سے خوش نہیں ہیں تو وہ بے شک خوش نہ ہوں لیکن وہ اس طرح کی گمراہ کن اور غلط ویڈیوز سوشل اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر تصاویر چلا کر عوام کو گمراہ نہ کریں۔ سعید غنی نے کہا کہ مذکورہ رپورٹ میں ایک جنریٹر اور کچھ لوگوں کو کام۔کرتے دکھا کر یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی کہ کام مکمل نہیں ہوا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ جنریٹر اور لیبر اس سڑک سے متصل ایک لوہے کی لگائی گئی بیرئیر کو مزید مضبوط کرنے کے لئے تھی نہ کہ کوئی ادھورا کام مکمل کرنے ہے لیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے وزٹ میں دیکھا کپ کچھ موٹو سائیکلیں، رکشہ اور چنگ چی بھی اس پر چل رہے تھے، جو کہ یہاں پر پابندی ہے کیونکہ یہ اس شاہراہ کا معیار موٹروے کا ہے، اس پر رکشہ موٹر سائیکل پر پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چنگ چی اور موٹر سائیکل والے دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ شاہراہ بھٹو پر سفر نہ کریں، کیونکہ یہاں اسپیڈ 100 کلومیٹر کی چھوٹی اور 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی بڑی گاڑیوں کے لئے رکھی گئی ہے، اس تیز رفتار سڑک پر حادثات نہ ہوں اس کے لئے یہاں موٹر سائیکل، رکشہ و چنگ چی پر پابندی رکھی گئی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہاں کسی قسم کی ٹریفک قوانین کی پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ بھٹو پر کیمرے نصب کئے گئے ہیں، جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ٹول پہنچنے پر ہی چالان دے گا، جو اسے ٹول کے ساتھ ہی ادا کرنا پڑے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی میں ٹریفک کے دبائو کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو آسان سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے ایم۔کیو ایم کےمعزز ممبر ڈاکٹر باسط کی جانب سے وزیر سماجی بہبود کے لئے وقفہ سوالات کے دوران غیر پارلیمانی زبان کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معزز ممبر نے جو منسٹر کے بارے میں الفاظ استعمال کیے وہ نامناسب ہیں۔ کسی کی تضحیک کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اس ایوان میں جلسے کا ماحول نہ بنائیں۔