
نیلوفر عباسی نے اپنی کتاب کے ذریعے بتایا کہ عورت کمزور نہیں ہوتی،صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ
اپنی تہذیب کو ہمیں آنے والی نسلوں میں منتقل کرنا چاہیے، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی
احمد شاہ نے آرٹس کونسل کو بین الاقوامی ادارہ بنادیا ہے، معروف نثر نگار نیلوفر عباسی
کراچی () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام معروف براڈ کاسٹر، ٹی وی فن کارہ اور نثر نگار نیلوفر عباسی کا ناولٹ ”زیب النساءانتظار میں ہے“ کی تقریب رونمائی حسینہ معین ہال میں کی گئی جس کی صدارت ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کی ۔ تقریب سے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، قاسم جلالی، ظہیر خان، اخلاق احمد، اقبال لطیف، سعدیہ راشد، عذرا رسول ، نیلوفر عباسی، مقصود یوسفی اور سہیل شمس نے اظہارِ خیال کیا۔ نظامت کے فرائض عنبریں حسیب عنبر نے انجام دیے، صدارتی خطبہ میں ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کہاکہ آج کی تقریب بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے یہ سب نیلوفر عباسی کی وجہ سے ہے، نیلوفر کا ادب سے کوئی تعلق نہیں تھا یہ سائنس کی طالب علم تھیں، قمر علی عباسی نے اس ہیرے کو تراشا، قمر عباسی بڑے تخلیق کار تھے، اپنی تہذیب کو ہمیں آنے والی نسلوں میں منتقل کرنا چاہیے، انہوں نے کہاکہ اس ناولٹ نے گزری فضاءکو ہمارے سامنے لاکھڑا کیا، موضوع کے حساب سے ”زیب النساءانتظار میں ہے“ بڑا ناول ہے، اس مشکل وقت سے بہت سے لوگ گزرے ہیں، اتنے شاندار ناولٹ پر میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ دنیا میں سماج سے جڑے لوگ ہمارے لیے قابل ستائش ہیں، بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شہر چھوڑ دیں مگر ان سے محبت کرنے والے جوق در جوق ملنے چلے آتے ہوں، عزت کو قائم رکھتے ہوئے شہرت کمانا آسان بات نہیں، نیلوفر عباسی نے اپنی کتاب کے ذریعے بتایا کہ عورت کمزور نہیں ہوتی، انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں بہت کام کیا، میں نیلوفر اور ان کے خاندان کابہت شکر گزار ہوں ، یہ ایک مثالی خاندان ہے، میرا ان کے شوہر سے قلبی تعلق تھا، ہم آپ کی محبت کے مقروض ہیں، سعدیہ راشد کی خدمات ہمارے لیے زندہ مثال ہے، نیلوفر عباسی ”زیب النساء انتظار میں ہے“ کی رونمائی پر مبارکباد کی مستحق ہیں۔قاسم جلالی نے کہاکہ انتظار بڑا خوف ناک لفظ ہے، زیب النساءکی مدد کے لیے بھی کوئی نہ آیا، نیلوفر نے جس طرح کتاب میں لکھا ہے اس کو پڑھ کر تمام مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح جانتے تھے اردو ہمارے رابطے کی زبان ہے، صوبائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے والوں کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ظہیر خان نے کہاکہ راجشاہی میں میرا پورا بچپن گزرا ہے، جب میں نے کتاب پڑھی تو ماضی میں چلا گیا، زبان کا تبادلہ پاکستان بننے کے بعد ہی شروع ہو چکا تھا، میں نے پاکستان کی خاطر دو سال جیل بھی کاٹی، نیلوفر عباسی نے اپنی کتاب میں بہت اچھی منظر کشی کی ہے۔معروف براڈ کاسٹر، ٹی وی فن کارہ اور نثر نگار نیلوفر عباسی نے کہاکہ کتاب انسان کی سب سے اچھی دوست ہوتی ہے، ناولٹ ”زیب النساء انتظار میں ہے“ میری چھوٹی سی کاوش ہے، آج اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا شریک ہونا باعث فخر ہے، اتنی شاندار تقریب کے انعقاد پر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا شکریہ ادا کرتی ہوں، احمد شاہ نے آرٹس کونسل کو بین الاقوامی ادارہ بنادیا ہے۔ اقبال لطیف نے کہاکہ کتاب لکھنا بہت فخر کی بات ہے میں نیلوفر عباسی کو اتنا شاندار ناولٹ منظر عام پر لانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اخلاق احمد نے کہاکہ بہت معصوم سی کہانی ہے، لکھنے والے کا کام تاریخ کے ساتھ اپنا رابطہ بحال رکھتا ہے جو ہمیں ان کے ناولٹ میں بخوبی نظر آتا ہے، پاکستان میں جو فکشن لکھا جاتا ہے اس کا زیادہ تر حصہ سنسر کی نظر ہوجاتا ہے۔ صحافی مقصود یوسفی نے کہاکہ نیلوفر علیم سے نیلوفر عباسی تک نام ہی کافی ہے، ان کا جو دور گذرا مثالی تھا اور آگے بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں گی، صدا کاری، اداکاری سے لیکر لکھنے تک کے سفر کا جواب نہیں، نیلوفر عباسی کا ناولٹ ”زیب النساءانتظار میں ہے“ بہت اچھا ہے۔ عذرا رسول نے کہاکہ نیلوفر کو پاکیزہ ڈائجسٹ میں لکھنے کا مشورہ قمر عباسی نے دیا، آج لوگ نیلوفر عباسی کو شوق سے پڑھنا چاہتے ہیں، نیلوفر عباسی خداداد صلاحیتیوں کی مالک ہیں ، ناولٹ ”زیب النساءانتظار میں ہے“ وقت کی ضرورت ہے، نئی نسل کو اسے ضرور پڑھنا چاہیے تاکہ ان کے علم میں اضافہ ہوسکے۔سعدیہ راشد نے کہاکہ اتنی اچھی کتاب لکھنے پر میں نیلوفر کو مبارکباد پیش کرتی ہوں، ان کے ناولٹ میں تاریخ چھپی ہے جو ہمیں ضرور پڑھنا چاہیے۔























