
کراچی
مور خہ 13جنوری 2025
کراچی 13 جنوری ۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور کچھ نجی چینل و ایک اخبار شاہراہ بھٹو کے حوالے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس کا فیز ون مکمل نہیں ہوا ہے۔ یہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ ائیرپورٹ سے شاہ فیصل کالونی سے شاہراہ بھٹو کے ذریعے قیوم آباد اور کورنگی سے شاہراہ بھٹو کے ذریعے قیوم آباد آنے اور جانے والے تمام داخلی اور خارجی راستے مکمل طور پر کھلیں ہیں۔ ایک بند راستے کو جواز بنا کر جو تنقید کی جارہی ہے، دراصل وہ پوائنٹ قائد آباد اور ایم نائین کو لنک کرنے والا پوائنٹ ہے، جس سڑک پر ابھی کام جاری ہے اور یہ دوسرا اور تیسرا فیز ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے (شاہراہ بھٹو) کراچی کے عوام کے لئے ایک زبردست منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو روز قبل اس کے پہلے فیز کا افتتاح کردیا گیا ہے، جو قیوم آباد سے شاہ فیصل اور وہاں سے ایئرپورٹ کی جانب سفر کو آسان بنائے گا۔ جبکہ آئندہ دو ماہ میں مارچ تک اس شاہراہ بھٹو کو قائد آباد اور اس کے بعد اسی سال کے آخر میں اسے کاٹھور کے مقام پر ایم نائین سے منسلک کردیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ افسوس کہ ساتھ آج سوشل میڈیا اور ایک چینل اور اخبار نے اس حوالے سے خبر چلائی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ سڑک مکمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آج ایک بار پھر اس پوری سڑک کا خود جاکر معائنہ کیا ہے اور یہ سڑکوں شاہراہ فیصل سے شاہ فیصل ٹائون اور وہاں سے شاہراہ بھٹو سے قیوم آباد اور کورنگی سے شاہراہ بھٹو سے قیوم آباد تک آنے کے لئے کوئی سڑک بند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام داخلی اور خارجی راستے جو ائیرپورٹ سے قیوم آباد تک شاہراہ بھٹو کے ذریعے اور کورنگی سے قیوم آباد تمام کھلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ایک راستہ سوشل میڈیا پر دکھایا جارہا ہے وہ راستہ قائد آباد اور وہاں سے آگے ایم نائین کو جانے والا راستہ ہے، جو سڑک اس وقت تعمیر ہورہی ہے اور اس کو بند کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر اس کو کھول دیا جائے تو اس پر جو گاڑی جائے گی وہ قیوم آباد کی جانب نہیں جاسکتی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ دکھایا گیا کہ جس سڑک کا افتتاح کردیا گیا ہے، وہاں اب بھی کام جاری ہے۔ یہ بھی غلط ہے کیونکہ میں نے اس پوائنٹ پر خود وزٹ ابھی کیا ہے، وہاں سڑک کے کنارے جو ریلنگ لگائی گئی ہے، اس میں کچھ نٹس اور بولڈ درست فکس نہیں ہوئے تھے، اس کو درست کیا گیا تھا۔ باقی کوئی تعمیرات اس فیز میں نہیں ہورہی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس شاہراہ پر جو راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ انٹرنیشنل اور موٹر وے طرز پر کی گئی ہے اور اس پر پہلی بار سفر کرنے والوں کو شاید سمجھ نہیں آرہا ہے، جس پر میں نے متعلقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایات دی ہے کہ ان راستوں کی نشاندہی کے لئے واضح بورڈز نصب کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان دوستوں کو جن کو ہمارا یہ منصوبہ ہضم نہیں ہورہا ہے اور ان دوستوں کو جو سوشل میڈیا پر اس منصوبے کے خلاف پروپگنڈہ کررہے ہیں کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ آپ اگر اس منصوبے کی تعریف نہیں کرسکتے تو بے شک نہ کریں لیکن جھوٹی اور بے بنیاد ویڈیوز بنا کر اس شاہراہ کا فائدہ اٹھا کر سفر کرنے والے شہریوں کے لئے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔ ان کو کنفیوژن میں نہ ڈالیں۔ سعید غنی نے کہا کہ وہاں موٹر سائیکلیں اور ایک رکشہ بھی نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بار بار موٹر-سائیکل پر سفر کرنے والوں سے گزارش کی ہے کہ وہ اس شاہراہ پر موٹر-سائیکل پر سفر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ تیز رفتار شاہراہ اور موٹر وے طرز کی بنائی گئی ہے، جہاں چھوٹی گاڑیوں کی اسپیڈ کی حد 100 اور بڑی گاڑیوں کی 90 کلومیٹر مقرر ہے اور اس پر موٹر سائیکل پر سفر کسی حادثہ کا سبب بن سکتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہماری شہری کسی قسم کے حادثات کا شکار نہ ہوں اس لئے موٹر سائیکل سوار اس پر سفر سے اجتناب کریں۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس سڑک پر کوئی چیکنگ کرنے والا موجود نہیں ہے، تو میں نے پہلے بھی بتایا تھا اور ہر بتادیتا ہوں کہ اس سڑک پر خودکار کیمرے نصب کئے جارہے ہیں، جو اوور اسپیڈ اور دیگر خلاف ورزی کے مرتکب گاڑیوں کو ٹول پر پہنچتے ہی چالان دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دو دن میں اس پورے سسٹم کو آن اس لئے نہیں کررہے ہیں کہ لوگ کچھ آشنا ہوجائیں ورنہ آپ ہی میڈیا کے دوست اس پر واویلا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم موٹر سائیکلوں اور رکشہ کے خلاف سختی کریں گے، جس کا مقصد ان کی جانوں کا بچانا ہوگا اور کوئی مقصد نہیں ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس شاہراہ بھٹو پر 1122 کی ایمبولینس، پولیس موبائل اور نجی سیکورٹی بھی تعینات کی جارہی یے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ چونکہ اس شاہراہ پر مزید فیز پر کام جاری ہے، اس لئے آپ کو یہاں کام کرتی گاڑیاں ضرور نظر آئیں گی اور یہ کام دسمبر تک جاری رہے گا تو وہاں کام کرنے والی گاڑیاں چلتی رہیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ شاہراہ بھٹو ایک اچھا پروجیکٹ ہے اس کے بارے میں مثبت رویہ اختیار کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس شہر میں جو جماعتیں سیاست کرتی ہیں وہ ہم پر تنقید کر رہی ہیں، ہم ان کی جائز تنقید بھی سننے کو تیار ہیں لیکن صرف بغض میں اور اپنی سیاست چمکانے کے لئے اس منصوبے پر تنقید کرنا کسی صورت درست نہیں ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ زیادہ تر شہر میں حادثات ٹرک و ڈمپرز کی وجہ سے ہوتے ہیں اور اس میں زیادہ تر موٹر سائیکل سوار اس کی زد میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں موٹر سائیکل سواروں کے لئے ہیلمیٹ کے استعمال پر سختی کی تو اس شہر میں سیاست کرنے والی کچھ جماعتوں نے اس پر واویلا کیا اور اس کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہیلمیٹ کے استعمال سے موٹر سائیکل سوار کی زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عمل کیا جائے گا تو بہتر ہوگا اور ہم حادثات سے بچ سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ کراچی شہر میں کنٹینرز اور لوڈنگ گاڑیاں رات 11 بجے کے بعد ہی چلانے کی اجازت ہے، البتہ واٹر ٹینکرز اور کچھ ہمارے منصوبوں کے لئے سامان فراہم کرنے والی گاڑیاں دن کے اوقات میں چلتی ہیں اس حوالے سے بھی سختی کی جارہی ہے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 42۔۔۔























