
آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس(آگیگا) پنجاب کی مجلس عاملہ کا اجلاس چیئرمین خالد جاوید سنگھیڑہ کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔اجلاس میں پروفیسر فائزہ رعنا، ضیاء اللہ نیازی، چوہری بشیر احمد وڑائچ، رانا انوار الحق، مختار گجر، ثمینہ ناز، ڈاکٹر طارق کلیم، کاشف شہزاد چوہدری، رانا لیاقت علی، ذوالقرنین ملک، رانا احمد حسین، محمد اقبال ندیم پھل، راجہ کامران عزیز، لیاقت بیگ، محمد افضل مغل، منیر سندھو، ڈاکٹر طارق بلوچ، حسن رشید، انجم جیمز پال ودیگر نے شرکت کی۔ شرکاء نے متفقہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ اور احتجاجی شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی ملازمین کش پالیسیوں اور بے حسی نے پنجاب بھر کے ملازمین کو احتجاج پر مجبور کر دیا ہے گزشتہ 6 ماہ سے اساتذہ و ملازمین پُرامن احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی ملازمین کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ دینے کی بجائے پنشن وگریجویٹی ، لیو انکیشمنٹ میں کمی ، رول 17-اے کو ختم اور فیملی پنشن میں غیر منطقی اصلاحات کر کے ملازمین کے معاشی حقوق پر شب خون مارا ہے جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں اس طرح کا ظالمانہ سلوک نہیں کیا جا رہا صرف پنجاب میں ملازمین کے معاشی حقوق پر ڈاکہ سمجھ سے بالاتر ہے لہٰذا پنجاب بھر کے 10 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین یہ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کریں گے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ہے کہ اولین فرصت میں آگیگا پنجاب کے(مطالبات)
1۔ پینشن، گریجویٹی اور لیو انکیشمنٹ کے نوٹیفکیشن واپس لیے جائیں۔
2۔ رول 17۔اے اور فیملی پینشن کے نئے نوٹیفکیشن منسوخ کیے جائیں۔
3۔ اداروں ( سکولوں، ہسپتالوں، کالجوں، دیگر وفاقی و صوبائی محکمہ جات) کی نجکاری نہ کی جائے۔ بہتر اصلاحات لا کر قومی اثاثوں کو بچایا جائے۔
4۔ تمام کنٹریکٹ ملازمین( SSE’s, AEO’s، ڈیلی ویجز، ایڈہاک، کنٹیجنٹ، TLA) کو مستقل کیا جائے اور برطرف ملازمین کو بحال کیا جائے۔
5۔ اپ گریڈیشن( نیشنل ہیلتھ پروگرام، صوبائی ملازمین بشمول اساتذہ اور وفاقی ملازمین کو صوبائی طرز پر) دی جائے۔
6۔ پے اینڈ سروس پروٹیکشن دی جائے
7۔ تنخواہوں میں تفریق ( ڈسپیریٹی) کا خاتمہ کرتے ہوئے محروم ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔
8۔ پے اینڈ پینشن کمیشن کی سفارشات کے مطابق ہائوس رینٹ، کنوینس و میڈیکل الائونس اور ہائرنگ میں کم از کم 2 سو فیصد اضافہ کیا جائے۔
9۔ حالیہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر ظالمانہ 100 فیصد ٹیکس اضافہ واپس لیا جائے اور اساتذہ و ریسرچرز کی حسب سابق ٹیکس ریبیٹ بحال کی جائے۔
10- ریٹائرمنٹ پر گروپ انشورنس میچورٹی کلیم اور بناولنٹ میں جمع شدہ رقم بمعہ منافع ادا کی جائے ۔ کو تسلیم کریں وگرنہ احتجاجی شیڈول کے مطابق ۔۔۔۔۔۔14، 15 جنوری کو پنجاب بھر میں سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال اور تعلیمی اداروں میں 11بجے تا 1 بجے تعلیمی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ دفاتر اور تعلیمی اداروں میں احتجاجی اجلاس اور باہر مظاہرےمنعقد ہوں گے ۔
2۔ 16 جنوری بروز جمعرات کو ضلعی صدر مقامات پر پرامن احتجاج کیا جائےگا۔
3۔ 22 جنوری کو لاہور میں ناصر باغ تا پنجاب اسمبلی مرکزی احتجاجی ریلی ہوگی۔ جس میں پنجاب بھر کے ملازمین شامل ہوں گے(آغاز ریلی 11 بجے)
4۔ 10 فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے احتجاج/ دھرنا دیا جائے گا۔























