
کراچی(اسٹاف رپورٹر) مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ میں نے بانی متحدہ کے اقدام کھل کر مخالفت کی، مجھے مہاجر نظریئے سے دستبردار کرنے کی کوشش کی گئی، پیپلز پارٹی کراچی کے بچوں کے مستقبل کو تباہ کررہی ہے، مہاجروں کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی۔ وہ اتوار کو سندھ اربن گریحویٹ فورم کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ آفاق احمد نے کہا کہ ہمیں باہر کہیں پروگرام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ شادی ہالز میں بھی ہم مشکل سے سندھ اربن گریجویٹ فورم کے تعاون سے پروگرام کرتے ہیں۔ جب یہاں کے بینکوئٹ والوں کو پتہ چلا آفاق احمد یہاں مدعو ہیں تو پولیس والوں نے پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے کہا کہ قومیت کی شناخت ہر ایک کو ہضم نہیں ہوتی۔ جب متحدہ بنانے کی بات کی تو میں نے مخالفت کی۔ مجھے مہاجر نظریئے سے دستبردار کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں نے بانی متحدہ کے اقدام کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ میں ساڑھے 8 سال جیل میں بھی رہا۔ اس قسم کی نشست سے میں اتنی آواز میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ اب فون کسی کا بجا تو میں فون توڑ دونگا۔ اس قوم کی ایسی کی تیسی ہوئی ہے۔ آفاق احمد نے کہا کہ میری کسی بات کو سپورٹ کرنا ہو تو ہاتھ اٹھانا نعرے بازی نہیں کرنا وقت ضائع نہیں کرنا۔ آفاق احمد نے کہا کہ جب سے جیل سے باہر آیا سیاست کرنے نہیں دی گئی۔ الیکشن میں مجھے مہاجر نظریئے سے پیچھے کرنے کی کوشش کی گئی۔ مجھے یہ بھی کہا آپ آجائیں متحدہ سنبھالیں۔ ہم کیوں مصلحت کا شکار ہیں، آخر ہم اپنے آپ کو احساس کمتری میں کیوں مبتلا کریں۔ آفاق احمد نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ کے نتائج پیپلز پارٹی بناتی ہے، انٹرمیڈیٹ کے چیئرمین کو تعینات کرتے ہوئے بولا جاتا ہے کراچی کے بچوں کو فیل کرنا ہے۔ ایم ڈی کیٹ کے نتائج 2 بار کورٹ میں غلط ثابت ہوئے۔ ایم ڈی کیٹ کے پرچے لیک کرنے والوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس شہر کے لاکھوں بچے اپنا مستقبل برباد کر چکے ہیں۔ دسویں جماعت میں اچھے نمبر سے پاس کرنے والے بچوں کو فیل کیا گیا۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا وقت گزر گیا۔کاپی تک بچوں کو نہیں دکھائی جا رہی ہے۔آفاق احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمارے بچوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔ ان لوگوں کو شکست کے باوجود ایجنسیوں نے آپ پر مسلط کیا اسی لیے کیا۔ مہاجر سیاست کو دفن کرنے کے لیے کوئی حربہ کامیاب نہیں ہوا۔آفاق احمد نے کہا کہ مجھے گھر سے اٹھا کر لے گئے اور کہا آپ کو لینے آئے ہیں۔ میں جینز میں تھا مجھے کہا کپڑے رکھ لو۔ پوری رات ذہنی اذیت دی دھمکیاں دیں کہا مہاجر لفظ نہیں چلے گا۔ آفاق احمد نے کہا کہ میں ساڑھے 8 سال جیل میں رہا لیکن اپنے نظریئے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ آفاق احمد نے کہا کہ جو لفظ تمہیں ہضم نہیں ہوتا تم نفرت کرتے ہو، اس لفظ کے نعرے سرکاری سرپرستی میں گورنر ہاؤس میں کیوں لگے۔ ایجنسیاں سازش کر کے لوگوں کو بیوقوف بناتی ہیں۔ایجنسیوں نے جو کچھ کرنا تھا کیا سوشل میڈیا نے یہ سب دیکھانا بند ہوگیا۔ اس قوم کے ساتھ کھلواڑ بند ہونا چاہئے۔
Load/Hide Comments























