
عبدالغفور سروہی
سندھو دریا، جو سندھ کی زندگی کی رگ ہے، آج پھر ایک نئی سازش کا شکار نظر آ رہا ہے۔ حال ہی میں کراچی میں امریکہ میں مقیم سندھ کے افراد کی تنظیم “سانا” کی جانب سے “سندھوں دریا کی چھولیاں” کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں سندھ کے پانی سے متعلق موجودہ حالات پر غور کیا گیا۔ اس کانفرنس میں پیپلز پارٹی، قوم پرستوں، ادیبوں اور دانشوروں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ سندھ سے نئے نہری منصوبے مسترد کیے جائیں گے اور اس منصوبے کے خلاف بھرپور جدوجہد کا عزم ظاہر کیا گیا۔
پانی پر سندھ کے ساتھ تاریخی ناانصافی
سندھوں دریا پر قبضہ کرنے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس سازش کو “گرین انیشیٹو” کے نام سے نیا رنگ دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پنجاب میں چولستان کے ریگستان آباد کرنے کے لیے سندھ کے پانی کا رخ موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے سندھ کی زرعی، آبی، اور ماحولیاتی حالت تباہ ہو سکتی ہے۔
سندھ کے ساتھ پانی کے مسئلے پر تاریخی طور پر ناانصافیاں ہمیشہ سے ہوتی رہی ہیں:
1. 1859 میں بھی سندھ کے ساتھ یہی سلوک ہوا جب پنجاب میں باری دوآب نہر بنانے کے لیے سندھ کے پانی کو غیر قانونی طور پر منتقل کیا گیا۔
2. 1945 کے سندھ-پنجاب پانی معاہدے کے مطابق، سندھ کو 75% پانی ملنا تھا، لیکن 1947 کے بعد سندھ کا پانی زبردستی پنجاب کے قبضے میں آ گیا۔
3. 1960 میں انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت سندھوں دریا کے تین معاون دریا (ستلج، راوی، بیاس) بھارت کے حوالے کر دیے گئے، لیکن سندھ کو اس کا کوئی ازالہ نہیں ملا۔
4. 1991 کا پانی معاہدہ آج بھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا، اور پنجاب ہمیشہ زیادہ حصہ وصول کرتا ہے۔
5. کالا باغ ڈیم جیسے منصوبوں کے ذریعے سندھ کے پانی پر قبضے کی سازشیں جاری ہیں۔
چھ نئے نہریں – سندھ کے لیے موت کا سامان؟
اس وقت، نگران حکومت کے دوران “گرین انیشیٹو” کے نام سے ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت چھ نئے نہریں بنانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
کانفرنس میں رہنماؤں نے اس بات پر شدید خدشات کا اظہار کیا:
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ “150 سالوں سے منصوبہ بندی کے تحت سندھ کا پانی چھینا جا رہا ہے، اور نیا منصوبہ سندھ کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔”
نثار کھوڑو نے کہا کہ “1991 کے پانی معاہدے پر عمل نہیں ہو رہا، پنجاب حکومت کو اپنی مرضی سے پانی منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
ذوالفقار بھٹو جونیئر نے خبردار کیا کہ “نئے منصوبے سے 12 ملین ایکڑ زمین تباہ ہو جائے گی، گڈو سے نیچے پانی نہیں آئے گا، اور ماحولیاتی اثرات سنگین ہوں گے۔”
عوامی تحریک کے صدر وسندھ تھری نے کہا کہ “پانی کی چوری عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، یہ آبی دہشت گردی ہے۔”
سندھیانی تحریک کے صدر عمرہ سمون نے واضح کیا کہ “پیپلز پارٹی اقتدار کے لیے سندھوں دریا اور زمینیں بیچ رہی ہے، جو سندھ کی عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔”
سندھ کے زمین داروں، آبادگاروں اور عوام کو کیا کرنا چاہیے؟
اس کانفرنس کا سب سے اہم نکتہ 18 جنوری کو اسلام آباد میں پانی کے تحفظ کے لیے کانفرنس کا اعلان تھا، جہاں سندھ کے سیاستدان، قوم پرست، ادیب، اور کارکن اکٹھے ہوں گے تاکہ وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔
لیکن صرف کانفرنسوں تک محدود نہ رہنا چاہیے، سندھ کے عوام کو یہ اقدامات کرنا ضروری ہیں:
1. پانی کی ناانصافی کے خلاف ایک منظم اور مشترکہ جدوجہد شروع کرنا۔
2. پانی کی تقسیم کے لیے بین الاقوامی اداروں جیسے “انٹرنیشنل واٹر لاء انسٹی ٹیوٹ” اور “یونیسف” کو آگاہ کرنا۔
3. میڈیا کے ذریعے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا۔
4. پنجاب کے عوام سے بھی رابطہ کرنا تاکہ وہ بھی حکومت کی آبی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔
5. سندھ کے قانونی ماہرین کو جمع کر کے عالمی عدالتوں تک یہ مسئلہ لے جانا۔
سندھ کے لیے زندگی اور موت کا سوال
سندھ کی عوام کالا باغ ڈیم کے خلاف جو مزاحمت کی تھی، وہ تاریخ کی سب سے اہم کامیابی تھی۔ اب پھر سندھ کو ایک نئی آزمائش کا سامنا ہے۔ اگر سندھ کی عوام اب بھی خاموش رہتی ہے تو آئندہ سندھوں دریا کا پانی صرف کتابوں میں رہ جائے گا۔
سندھ کے زمین دار، ہاری، کاروباری، نوجوان، ادیب اور تمام عوام کو اب میدان میں آنا ہو گا۔ اگر ہم نے اپنے پانی کا تحفظ نہ کیا تو آنے والی نسلیں خشک دریا، بنجر زمینیں، اور نقل مکانی کرنے والی سندھ قوم کا المیہ دیکھیں گی۔
یہ صرف پانی کا مسئلہ نہیں ہے،
یہ سندھ کی بقا کا مسئلہ ہے!























