2002 اور 2021 کے درمیان صوبہ سندھ میں پانی کی زیادہ ضرورت والی 3 فصلوں کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے:

2002 اور 2021 کے درمیان صوبہ سندھ میں پانی کی زیادہ ضرورت والی 3 فصلوں کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے:

1- چاول کی کاشت رقبہ میں 55 فیصد بڑھ گئی، 488,000 ہیکٹر سے 756,000 ہیکٹر تک؛
چاول 1,500 سے 3,000 لیٹر پانی فی کلو پیداوار کے لئے استعمال کرتا ہے

2- کپاس کی پیداوار 9.5 فیصد بڑھ گئی ہے، 542,000 ایکڑ سے 594,000 ایکڑ تک؛
روئی 10,000 سے 20,000 لیٹر پانی فی کلو گرام پیداوار کے لئے لیتی ہے

3- اور گنے کی پیداوار 14.3 فیصد بڑھ گئی ہے، 258,000 ایکڑ سے 295,000 ایکڑ تک۔
گنے کی فی کلو گرام پیداوار کے لیے 1,500 سے 2,500 لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔

صرف گزشتہ ایک دہائی کے دوران گنے اور چاول کی کاشت میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

صوبہ سندھ پاکستان کے کُل رقبے کا 18 فیصد ہے ۔

پاکستان کے قابل کاشت رقبے کا بھی 16 فیصد سندھ کے رقبے پر مشتمل ہے۔

صوبہ سندھ ملک کی زرعی معیشت میں 23 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے:-

سندھ چاول کی قومی پیداوار میں 41 فیصد، گنے کی 31 فیصد اور گندم میں 21 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔