
کراچی ( ) جامعہ کراچی کے ایڈوانس اسٹیڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ (ASRB)نے اپنے گزشتہ اجلاس میں معروف ادیب،کمپیئر اور نیوز کاسٹر علی حسن ساجد کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کردی، انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر شمس الدین سابق ڈین سوشل سائنسز جامعہ کراچی کے زیر نگرانی کراچی میں بلدیاتی نظام، ارتقاء اور اخبارات کا کردار کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی ہے،کراچی کے بلدیاتی نظام اور اس کے ارتقاء پر جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے والے یہ پہلے اسکالر ہیں، اس سے قبل اس موضوع پر کسی بھی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی نہیں کی گئی، علی حسن ساجد جامعہ کراچی سے ایم فل اور ایم اے صحافت کرچکے ہیں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ میڈیا مینجمنٹ کے سینئر ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں کراچی کی تاریخی عمارات، کراچی میں بلدیاتی انتخابات 1933 تا 2023، ٹاؤن انتظامیہ و ٹاؤن کونسل کے فرائض، یونین انتظامیہ و یونین کونسل کے

فرائض، سی بی سی،بڑھتے چلو اور بچوں کے لئے ایک درجن سے زائد کتابیں شامل ہیں، علی حسن ساجد نے اپنے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کراچی کی تاریخ، تہذیب و ثقافت اور بلدیاتی نظام کے حوالے سے اخبارات و رسائل کے لئے سینکڑوں مضامین تحریر کئے، انہوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ادب، تحقیق و تحریر اور براڈ کاسٹنگ کو اپنی ترجیحات میں ہمیشہ شامل رکھا، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے سامعین و ناظرین کے لئے بھی ان کا نام نیا نہیں ہے، 1989 ء سے پی ٹی وی سے بحیثیت نیوز کاسٹر منسلک ہیں جبکہ ریڈیو پاکستان کراچی میں ان کا شمار مقبول ترین کمپیئر میں ہوتا ہے، انہوں نے ریڈیو سے لاتعداد پروگرام پیش کئے، علی حسن ساجد کی خدمات کے حوالے سے مختلف اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈز اور انعامات بھی مل چکے ہیں، ان کا شمار پاکستان کے ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب اور براڈ کاسٹنگ کو ذریعہ اظہار بنایا اور مستقل مزاجی سے اس میدان میں سرگرم عمل رہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، میونسپل کمشنر کے ایم سی افضل زیدی نے انہیں کراچی میں بلدیاتی نظام کے موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے پر مبارکباد دی ہے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
======================
صوبائی محتسب سندھ کے تحت سرکاری محکموں کے خلاف مزید عوامی شکایات حل کردی گئیں
کراچی 08جنوری۔ صوبائی محتسب سندھ کے تحت سرکاری محکموں کے خلاف مزید عوامی شکایات حل کردی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق مانجھند ضلع جامشورو کے رہائشی طارق علی نے شکایت درج کروائی تھی کہ 2014 میں ضلع حکومت جامشورو کی جانب سے منظوری کے بعد سے رورل ہیلتھ سینٹر انڑپور کی عمارت تاحال نامکمل ہے جبکہ متعلقہ حکام بھی کوئی شنوائی نہیں کررہے ہیں۔ صوبائی محتسب سندھ دفتر کی جانب سے نوٹس کے بعد ایکس ای این بلڈنگز جامشورو اور ڈی ایچ او جامشورو نے آگاہ کیا کہ مذکورہ اسکیم فنڈز کی عدم موجودگی کے سبب تعطل کا شکار تھی تاہم جو بعدازاں مکمل کردی گئی ہے لہذا صوبائی محتسب کے احکامات پر تفتیشی افسر نے متعلقہ حکام کے ہمراہ مذکورہ عمارت کا دورہ اور معائنہ کیا اور صوبائی محتسب سندھ کو رپورٹ پیش کی کہ مذکورہ عمارت مکمل ہوچکی ہے اور میڈیکل آفسر پی پی ایچ آئی کی نگرانی میں وہاں مریضوں کو مفت ادویات، بچوں کی ویکسینیشن، گائنوکولوجی وارڈ، الٹرا ساؤنڈ اور مریضوں کو چوبیس گھنٹے ایمبولینس کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب اتحاد ٹاؤن کراچی کے رہائشی فہد احمد کے پی آر سی ڈومیسائل کے اجراء کا معاملہ بھی حل کردیا گیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے اپنی تعلیم اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی سے حاصل کی ہے جبکہ اسکے والدین اور خود شکایت کنندہ کا شناختی کارڈ بھی موجودہ رہائشی پتہ پر ہی موجود ہے تاہم ڈپٹی کمشنر کیماڑی آفس اسکا ڈومیسائل اور پی آر سی کے اجراء کی نفی کررہے ہیں۔ صوبائی محتسب سندھ نے درخواست گزار کی شکایت پر ڈی سی کیماڑی کو پہلے نوٹس بھیجا جس پر ڈی سی کیماڑی آفس سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس کے بعد ریمائنڈر اور سمن بھی جاری کیے گئے۔ اس کے باوجود ڈی سی کیماڑی کی عدم حاضری پر انکے خلاف قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔ بعدازاں ڈی سی کیماڑی کی جانب سے صوبائی محتسب سندھ کو ڈومیسائل و پی آر سی کے ہمراہ خط موصول ہوا کہ شکایت کنندہ کی سخت اسکروٹنی کے باعث ڈومیسائل و پی آر سی کے اجراء میں تاخیر ہوئی تھی جو اب جاری کردیا گیا ہے لہذا کیس کو نمٹا دیا جائے نیز آئندہ ہر طرح سے خیال رکھا جائے گا کہ سرکاری و عدالتی احکامات میں کسی قسم کی تاخیر نہ برتی جائے۔ شکایت کنندہ نے تحریری طور پر صوبائی محتسب سندھ کو ڈومیسائل و پی آر سی وصول کیے جانی کی تصدیق کی اور اظہار تشکر کیا۔ تعلقہ نیو ٹھہری ضلع خیرپور کے رہائشی نجیب اللہ نے صوبائی محتسب سندھ کو شکایت درج کروائی کہ انھوں نے ایک ایکڑ 12 سے زائد زرعی زمین خریدی تھی لیکن 2019 سے اب تک متعلقہ تپیدار کی جانب سے زمین کی انٹری نہیں کی جارہی ہے۔ لہذا صوبائی محتسب سندھ کی جانب سے مختیارکار ریونیو خیرپور کو کیس بھیجا گیا جنھوں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مذکورہ زمین کئی افراد کے نام ہے جس میں سے کچھ لوگوں نے اپنے اپنے حصے کی زمین فروخت کی ج کہ شکایت کنندہ خود بھی اپنی زمین فروخت کرچکا ہے۔ شکایت کنندہ نے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ صوبائی محتسب سندھ دفتر سے رابطہ کیا اور متعلقہ تپیدار کے خلاف کاروائی کی درخواست کی۔ بعدازاں متعدد سماعتوں کے بعد مذکورہ زمین کی کو سروے نمبر 12-1 /571 کے تحت ریونیو ریکارڈ میں ریکارڈ کرلیا گیا۔
ہینڈآؤٹ نمبر 26۔۔۔ ایس اے بی























