
صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کی زیر صدارت صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ کا 287 واں اجلاس ہوا۔ ڈی جی ہیلتھ سروسز آفس میں منعقدہ اجلاس میں 59 ریگولر کیسز اور زیر التوا کیسز کا جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی وزیراعلی پنجاب کا ویژن ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔صوبہ بھر میں ادویات کی مصنوعی قلت کسی صورت نہیں برداشت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈرگ کنٹرول رجیم میں گڈز مینو فیکچرنگ پریکٹس (GMP) کے تحت تمام فارما انڈسٹریل یونٹس اپنی انسپکشن کرانے کے پابند ہیں۔جو انڈسٹریل یونٹس GMP کے تحت انسپکشن نہیں کروارہے ہیں انکے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جارہی یے۔خواجہ عمران نذیر نے واضح کیا کہ مارکیٹ میں ادویات کی ٹریک اینڈ ٹریسنگ سسٹم کا نیا رجیم متعارف کرایا گیا ہے۔مارکیٹوں اور ہسپتالوں میں معیاری ادویات کی دستیابی ساڑھے 12 کروڑ عوام کا بنیادی حق ہے۔خواجہ عمران نذیر نے ڈرگ کنٹرول ونگ کو ہدایت کی کہ مارکیٹ میں وافر مقدار میں ادویات کا سٹاک یقینی بنایا جائے۔ پنجاب بھر میں جان بچانے والی ادویات کی دستیابی کے لئے سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ادویات سپلائی کرنیوالی کمپنیوں کی میڈیسن انوینٹری سے سپلائی کا عمل مانیٹر کیا جائے گا۔ پی کیو سی بی کے اجلاس میں سپیشل سیکرٹری آپریشن عون عباس بخاری، ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر قلندر خان، ڈی جی ڈرگ کنٹرول محمد سہیل، چیف ڈرگ کنٹرولر اظہر جمال سلیمی، سیکرٹری بورڈ ڈکٹر منور حیات۔پروفیسرز ڈاکٹر محمود احمد، ڈاکٹر عمران اشرف، ڈاکٹر منیب اشرف اور ڈاکٹر ساجد بشیر بھی موجود تھے۔بعدازاں، صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر خواجہ عمران نذیر سے آئی آر ایم این سی ایچ آفس میں لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایل ایچ ایس کو پیش آمدہ مسائل، مطالبات سے آگاہ کیا گیا۔صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز، لیڈی ہیلتھ سپروائزرز ہیلتھ سسٹم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ خواجہ عمران نذیر کا کہنا ہے کہ ورٹیکل پروگرامز کی کامیابی اور مراکز صحت میں طبی سہولیات کی فراہمی میں انکا کردار اہم ہے۔انہوں نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایل ایچ ایس کے سروس سٹرکچر اور پروموشن کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیر صحت پنجاب نے کہا کہ 42000 ایل ایچ ڈبلیو اور ایل ایچ ایس کی اپگریڈیشن کے لئے انکی ٹریننگ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔لیڈی ہیلتھ سپروائزرز ساجدہ اور شہناز نے وفد کی قیادت کی۔اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر آئی آر ایم این سی ایچ ڈاکٹر خلیل سخانی، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر حمزہ بھی موجود تھے۔
===============
پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر رانا انوار الحق ، رانا لیاقت ، نادیہ جمشید ، سعید نامدار ، چوہدری محمد علی ، میاں ارشد ، اسلم گھمن ، ملک سجاد ، رانا الیاس ، محمد عباس ، طاہر اسلام ، مرزا طارق ، رانا خالد ، مصطفیٰ وٹو ، غفار اعوان ودیگر نے کہا ہے کہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کرنے کی بجائے حکومت پنجاب نے اساتذہ و ملازمین کی پنشن وگریجویٹی اور لیو انکیشمنٹ میں کمی کر کے ملازمین کا معاشی استحصال کیا ہے جس کی وجہ سے ملازمین کے گھروں میں صف ماتم برپا ہے ملازمین خون کے آنسو بہا رہے ہیں کہ ان سے بڑھاپے کا واحد سہارا پنشن و گریجویٹی اور لیو انکیشمنٹ چھینی جا رہی ہے اور رول 17-اے کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جو مرحوم ملازمین کے لواحقین کے لیے معاشی امید کی کرن تھی حکومت ملازمین کو معاشی مراعات دینے کی بجائے حاصل مراعات میں کمی کر کے انہیں زندہ درگور کرنے پر تلی ہوئی ہے لہذا وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ہے کہ پینشن و گریجویٹی ، لیو انکیشمنٹ میں کمی اور رول 17-اے جیسے ظالمانہ نوٹیفکیشنز واپس لئے جائیں وگرنہ آج 9 جنوری کو دن 11:30 بجے سول سیکرٹریٹ لاہور کے سامنے آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس پنجاب کے زیر اہتمام بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور اگر حکومت نے اپنی ملازمین کش پالیسیوں پر نظر ثانی نہ کی تو لاہور اور اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا جائے گا ۔























