وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو سمجھنا چاہئے کہ کسی صوبے میں ان کی حکومت میں ہیں، جب حکومت میں ہوتے ہیں تو صوبے کے عوام کے ذمے دار ہیں۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو سمجھنا چاہئے کہ کسی صوبے میں ان کی حکومت میں ہیں، جب حکومت میں ہوتے ہیں تو صوبے کے عوام کے ذمے دار ہیں۔ کے پی کے مسائل پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ریڈ لائن منصوبہ سندھ حکومت کا پروجیکٹ ہے۔شرجیل انعام میمن نے اس کو بہتر کیا ہے۔ سیاسی جماعتیں مذاکرات کرتی ہیں، البتہ خدشہ ہے کہ عمران خان مذاکرات کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ کورنگی کازوے پر کام تیزی سے جاری ہے اور یہ دو سالہ منصوبہ انشاءاللہ اپنے مقررہ وقت سے ایک ماہ قبل ہی مکمل کرلیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز کورنگی کازوے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عباس علی کے ہمراہ کازوے پر جاری کام کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلٰی سندھ کے معاون خصوصی علی راشد، صدر پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ کورنگی جانی میمن، شیراز وحید، شرجیل رضوانی، احمد رضا و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے جاری کام کا جائزہ لیا اور ہدایات دی کہ اس منصوبے پر بلا کسی تاخیر سے کام کو مکمل کیا جائے۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ آج یہاں دورے پر افسران سے منصوبے سے متعلق بریفنگ لی ہے۔ آج سے اس کازوے پر گارڈرز رکھنا شروع کردئیے ہیں۔ کل 611 گارڈرز رکھے جائیں گے، جس میں سے 528 تیار کرلئے گئے ہیں اور باقی مانندہ تیاری کے مراحل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں 432 مقامات پر پائلنگ ہونا پے، جس میں سے 304 مقامات پر پائلنگ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے تحت یہ منصوبہ دو سال کی مدت کا ہے اور یہ دوسال سے پہلے ہی مکمل ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلی کو گذارش کی ہے کہ فنڈنگ تیزی سے جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی بہت ہی پرانا جام صادق پل ہے، اس کے ساتھ ہی نیا پل بنایا جارہا ہے، جو آئندہ 6 سے 8 ماہ میں مکمل ہوجائے گا، جس کے بعد پرانا جام صادق پل کو گرا کر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا اور ان دونوں پل کو ملا دیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ ملیر ایکسپریس وے کا نام “شہید بھٹو ایکسپریس وے” رکھا گیا ہے اور 11 جنوری کو پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اس کا افتتاح کریں گے۔ شہید بھٹو ایکسپریس وے کا فیز ٹو جو قائد آباد تک بننا ہے وہ مارچ میں مکمل کرلیا جائے گا جبکہ یہ پورا ایکسپریس وے اس سال کے آخر تک کم و بیش 38 سے 40 کلومیٹر طویل کو مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو ایکسپریس وے کو انٹر نیشنل طور پر آپریٹ کیا جائے گا اور یہاں موٹر سائیکل اور رکشے پر پابندی ہوگی جبکہ کوئی رفتار کی خلاف ورزی کرے گا تو اس پر ٹول ٹیکس پر ہی جرمانہ لگے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ شاہ فیصل کالونی کی سڑک کو ٹھیک کر رہے ہیں تاکہ ایئرپورٹ تک کے راستے کو آسان کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے کے پہلے فیز کے 9 کلومیٹر کا فاصلہ زیادہ سے زیادہ 8 منٹ کا شاہ فیصل کا ہوگا اور اس ایکسپریس وے کی بدولت ایئر پورٹ تک کا فاصلہ 20منٹ کا ہوجائے گا جبکہ اس کے دوسرے فیز کے قائد آباد تک مکمل ہونے سے بہت آسانی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو سمجھنا چاہئے کہ کس صوبے میں ان کی حکومت ہے، جب حکومت میں ہوتے ہیں تو صوبے کے عوام کے ذمے دار ہیں۔ لیکن افسوس کہ خیبرپختونخوا کے مسائل پر کسی کی توجہ نہیں ہے، کے پی میں امن امان کا مسئلہ ہے اور ان کے یہاں کے حکمران بانی کے حکم پر اسلام آباد پر چڑھائی کے لیئے تیار ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ سیاسی جماعتیں ہی مذاکرات کرتی ہیں لیکن میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ مجھے خدشہ ہے کہ عمران خان مذاکرات کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے بلکہ وہ مذاکرات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی شکایت پر کاروائی ہو اس کو تسلیم کرنا چاہئے۔ ریڈ لائن منصوبہ پر سوال پر سعید غنی نے کہا کہ یہ سندھ حکومت کا پروجیکٹ ہے، شرجیل انعام میمن نے اس کو بہتر کیا ہے۔ اس کو محکمہ ٹرانسپورٹ دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے باعث شہریوں کو ریڈ لائن سے تکلیف ہوتی ہے اس کے لئے معذرت خواہ ہیں۔ لیکن یہ منصوبہ مکمل ہوگا تو اس کے انتہائی مثبت اثرات بھی یہاں کی عوام کو نظر آئیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔ موجودہ وفاقی حکومت ہمارے ساتھ بیٹھتی ہے ہمارے تحفظات سنتی ہے۔ماضی میں نیازی حکومت میں ایسا رویہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت پروجیکٹس پر ہماری بات سنتی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ پچھلے پچیس سے تیس سالوں سے اس شہر کے ساتھ کیا ہوا، ایم کیو ایم نے اس شہر کے ساتھ کیا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب کراچی کے عوام نے ہمیں منتخب کیا ہے، ہم کراچی کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں ہمیں اس کے لئے کسی ایم کیو ایم کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کازوے بنانے کا اصل مقصد اس سڑک پر جو اس وقت ہے، جو بارشوں میں لیاری ندی کے پانی آنے سے بند ہوجاتی ہے، اس کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ کازوے ایک جنکشن ہوگا۔ یہ براہ راست ملیر ایکسپریس وے کے ساتھنسلک نہیں ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملیر ایک بہت بڑا ضلع ہے ہماری شان ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بہت بڑے لیڈر ہیں۔ ملیر ایکسپریس وے کو شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے ان کے نام سے منسوب ہونے سے ملیر کے لوگ خوش ہیں. ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ کورنگی میں ماضی میں بہت مسائل تھے۔ ہم نے سالانہ ترقیاتی اسکیموں میں یہاں کی بہت سی سڑکیں شامل کی ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے اور کورنگی کازوے کی تعمیر کے ساتھ تمام سڑکیں بھی بنیں گی، گوکہ جام صادق برج جو نیا بنایا جارہا ہے اس سے بی آر ٹی کا منصوبہ بھی منسلک ہے۔ ٹول ٹیکس میں اضافے کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں این ایچ اے جس کو موٹر وے کہتا ہے وہ موٹر وے نہیں ہیں۔ موٹر وے بنائیں تو ٹول دینے میں اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو ایکسپریس وے ایک موٹر وے طرز پر ہے یہاں کا ٹول ٹیکس 100 روپے رکھا گیا ہے، البتہ یہ یہاں کی کی عوام کے لئے متبادل راستہ بھی ہے اور اگر کوئی ٹول ٹیکس کے بغیر سفر کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے شارع فیصل و دیگر راستے ہیں۔

جاری کردہ : زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی 03333788079