چیف سیکرٹری سندھ کی زیر صدارت سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اہم اجلاس

سندھ کے تاریخی اور قدرتی مقامات کو جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا. چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ

کراچی، 7 جنوری ۔چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے نمایاں سیاحتی مقامات کی ترقی کے منصوبوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایم ڈی گرین ٹورزم، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ سید نجم احمد شاہ، سیکریٹری ثقافت خیر محمد کلوڑ اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد سندھ کے تاریخی اور قدرتی مقامات کو عالمی معیار کے سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنا اور مقامی و بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ان مقامات کو مزید پرکشش بنانا تھا۔چیف سیکریٹری نے اجلاس میں سندھ کی سیاحتی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، گورکھ ہل اسٹیشن اور عالمی شہرت یافتہ ثقافتی ورثے کے مقام موئن جو دڑو کی ترقی کے لیے تفصیلی منصوبوں پر غور کیا گیا۔ ان مقامات کو ان کی تاریخی، ثقافتی اور قدرتی اہمیت کے پیش نظر ترقی دی جائے گی تاکہ یہ سندھ کی متنوع اور منفرد سیاحتی شناخت کو اجاگر کریں ، کینجھر اور ہالیجی جھیلوں کو ماحولیاتی سیاحت کے مراکز کے طور پر ترقی دی جائے گی، جہاں واٹر اسپورٹس، گائیڈڈ ٹورز اور ماحولیاتی تحفظ پر مبنی سرگرمیوں کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ گورکھ ہل اسٹیشن پر سڑکوں کی بہتری، رہائش کی توسیع اور تفریحی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ یہ مقام سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بنایا جا سکے۔ موئن جو دڑو، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے، سندھ کے سیاحتی امکانات کا ایک نمایاں مرکز ہے۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کا منصوبہ ہے کہ یہاں جدید وزیٹر سینٹر، گائیڈڈ ٹورز اور عالمی آگاہی کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی، آثار قدیمہ کے نازک ڈھانچے کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ انہونے مزید کہا کہ سندھ کے سیاحتی امکانات ان مقامات سے بھی آگے ہیں۔ صوبے میں مکلی کا قبرستان، شاہ جہاں مسجد، رنی کوٹ، کوٹ ڈیجی قلعہ، تھر کا صحرا، نگرپارکر کا قدرتی حسن اور دریائے سندھ کا ڈیلٹا جیسے دیگر تاریخی اور قدرتی مقامات بھی سیاحت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے اجلاس کے دوران مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد سندھ کے سیاحتی مقامات کے بارے میں آگاہی اور دلچسپی پیدا کرنا ہے۔ ان منصوبوں کی ترقی سے نہ صرف سیاحوں کو راغب کیا جائے گا بلکہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سندھ کی ثقافتی اور قدرتی خوبصورتی کے بارے میں تعلیم بھی دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں سے سندھ کے تاریخی ورثے، ماحولیاتی تنوع اور ثقافتی شناخت کو اجاگر کیا جائے گا، جس سے سندھ کو عالمی سیاحت کے نقشے پر ایک منفرد مقام حاصل ہوگا۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کمیونٹی اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون پر بھی زور دیا تاکہ موٹر بائیک ریلی، صحرا سفاری ٹرین اور دیگر صحت مندانہ سرگرمیوں جیسے اقدامات کو منظم کیا جا سکے۔ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ سیاحت معیشت کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ ان منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے قریبی تعاون کریں اور قومی و بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر سندھ کی سیاحتی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کریں۔ چیف سیکرٹری نے پائیدار سیاحت کے اصولوں کو اپنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ صوبے کے قدرتی اور ثقافتی ورثے کا طویل مدتی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سندھ حکومت کا عزم ہے کہ وہ صوبے کو ایک عالمی معیار کی سیاحتی منزل میں تبدیل کرے، جہاں جدید سہولیات کے ساتھ ثقافتی اور ماحولیاتی سالمیت کو بھی برقرار رکھا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر ان منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے اور سندھ کو پاکستان کی سیاحت کی صنعت میں ایک نمایاں کردار دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔