
سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کا متنازعہ ویجلنس اینڈ سروے سیل محنت کشوں کی سیسی میں رجسٹریشن میں ناکامی پر بند کردیا گیا
سیسی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ مزدور فیڈریشنز
گورننگ باڈی سیسی کے فیصلہ کے بعد گذشتہ روز ویجلنس اینڈ سروے سیل کو مکمل طور بند کرنے کا باقاعدہ آرڈر جاری کردیا گیا ہے، یاد رہے کہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کی گورننگ باڈی سیسی نے 1991 میں ویجلنس اینڈ سروے ٹیم تشکیل دی تھی جو بعداذاں ویجلنس اینڈ سروے سیل بن گئی جس کی باقاعدہ اجازت کہیں موجود نہیں تھی، گذشتہ ماہ کمشنر سیسی میانداد راہجو کی آجروں کی مختلف ایسوسی ایشن کے ساتھ میٹنگ میں بھی ایمپلائر ایسوسی ایشن نے ویجیلنس اینڈ سروے سیل کے حوالے سے سوالات اٹھائے تھے اور اپنی شکایات سے آگاہ کیا تھا، یاد رہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے یہ سیل، محنت کشوں کی سیسی میں رجسٹریشن کرنے میں بھی ناکام رہا تھا اس حوالے اس کی کارکردگی صفر تھی، بدانتظامی کا یہ حال تھا کہ جہاں ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کی پوسٹ تھی وہاں بیک وقت چار ڈپٹی ڈائریکٹرز غیر قانونی طور پر کام کررہے تھے، ممبران گورننگ باڈی سیسی بھی اس حوالے سے گذشتہ 6 ماہ سے اس کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لے رہے تھے، اور اپنے تحفظات کا اظہار کررہے تھے
31 دسمبر کو گورننگ باڈی سیسی کے 170ویں اجلاس میں طویل بحث و مباحثہ کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ گورننگ باڈی سیسی اپنے 1991 کے فیصلہ کو واپس لے رہی ہے اور اس سیل کو بند کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کی افادیت نہیں رہی ہے، ساتھ ہی مختلف فیکٹریوں و کارخانوں کے سالانہ آڈٹ کے لیے جو فہرست منظور کئی گئی تھی وہ بھی منسوخ کردی گئی ہے اب یہ فرائض ماضی کی طرح سیسی کے لوکل ڈائریکٹوریٹ ادا کریں گئے۔
محنت کشوں کی مختلف فیڈریشنز کا کہنا ہے کہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی کو ری آرگنائزیشن اور خراب کارکردگی کے حامل ڈیپارٹمنٹ و افسران کے خلاف سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، ہم اس فیصلہ کو تحفظ یافتہ محنت کشوں اور ادارے کے لیے خوش آئند سمجھتے ہیں۔























