بلوچستان میں سیلابی پانی کو ذخیرہ کرکے کارگر بنانے کا سات سالہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

اسلام آباد، 07 جنوری, وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت “ری چارج پاکستان ” منصوبے سے متعلق جائزہ اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا جس میں ویڈیو لنک کے ذریعے وفاقی و صوبائی حکام اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں “ری چارج پاکستان “منصوبے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا وزارت موسمیاتی تبدیلی، وفاقی فلڈ کمیشن، اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے اشتراک سے تیار کئے گئے اس سات سالہ منصوبے کے تحت بلوچستان میں کلائمیٹ فنڈ کے تحت چاکر لہری واٹرشیڈ سیلابی تحفظ کے 19 سبز انفراسٹرکچر کے تجویز کردہ اقدامات پر عمل درآمد، سیلاب سے بچاؤ ، چھوٹی اور بڑی آبی گزر گاہوں کے مقامات پر اضافی سیلابی پانی کو ذخیرہ کرکے اسے کارگر بنانے اور زمین کے پانی کو دوبارہ چارج کرنے کے لیے چارج بیسنز بنائے جائیں گے اس منصوبے کا مقصدموسمیاتی تبدیلی کے مطابق بلوچستان میں بہتر واٹر مینجمنٹ ہے وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ منصوبہ بلوچستان میں سیلابی تحفظ اور پانی کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری لائے گا اور زرعی شعبے میں ترقی کے زریعے صوبے کے عوام کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی کا حامل ثابت ہوگا وزیر اعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں کو اس منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے مربوط اقدامات کرنے کی ہدایت کی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان ایڈیشنل چیف منصوبہ بندی وترقیات حافظ عبدالباسط سمیت دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی

گورنر بلوچستان سے مولانا ہدایت الرحمن کی ملاقات

کوئٹہ 7 جنوری: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے آج گورنر ہاوس کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کے رکن مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے ملاقات کی. ملاقات میں بلوچستان کے عوام کو درپیش معاشی چیلنجز بشمول مہنگائی، بیروزگاری اور افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت سے متعلق عوامی مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا. گورنر بلوچستان نے وفد کو یقین دلایا کہ عوامی شکایات کو دور کرنے اور شہریوں کے وقار و عظمت کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے تمام متعلقہ حکام کو بہت جلد آگاہ کیا جائیگا۔ گورنر بلوچستان جعفرخان نے عدل و انصاف پر مبنی ایک ایسا معاشرہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جہاں تمام شہری عزت اور احترام کے ساتھ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر بالخصوص سرحدی تجارت کو موثر بنانے، بیروزگار نوجوانوں کیلئے روزگاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کی پاسداری کو یقینی بنانے سے نہ صرف احساس محرومی کا خاتمہ ہوگا بلکہ تمام شہریوں کے مجموعی معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے.

کوئٹہ 7 جنوری:۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ حکومت بلوچستان کا صوبےبھر بالخصوص پسماندہ اضلاع کے ہونہار اور مستحق طلباء وطالبات کیلئے اسکالرشپ ایک انقلابی پروگرام ہے. بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کی جانب سے تعلیم کے فروغ اور صوبے کے غریب اسٹوڈنٹس کو زیور تعلیم کے ذریعے بااختیار بنانے کی ایک روشن مثال ہے۔ ضروری ہے کہ جدیدتعلیم کو فروغ دینے اور بیف کی تعلیم دوست اسکیموں سے بھرپور استفادہ کریں. ہم بلوچستان کو ایسا روشن مستقبل دینگے جہاں تمام غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو اور ہر شہری عزت اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں حکومت بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی نئی تعلیمی اسکیموں اور ادارے کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے. بریفنگ بیف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ذکریا نورزئی دے رہے تھے. بریفنگ میں پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان ہاشم خان غلزئی، ایڈیشنل سیکرٹری فنانس یاسر حسین اور نجیب اللہ سرپراہ بھی موجود تھے. اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بیف کا مقصد صوبے کے غریب، یتیم اور سویلین شہیدوں کے بچوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ مستحق طلبائ کو ضرورت مگر میرٹ پر مبنی وظائف فراہم کرنے کے حوالے سے مقصد بہت واضح ہے۔ بیف اسکالرشپ محض مالی امداد نہیں ہیں بلکہ پڑھے لکھے بلوچستان کے روشن مستقبل کی امید کی کرن بھی ہیں. گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں اور آنے والے کل کو بہتر بنانے کی خاطر ان کی خوابیدہ تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا راز تعلیم ہی میں پنہاں ہے. تعلیم نئی نسل کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے، ترقی کے عمل کو مزید آگے بڑھانے اور ایک روشن مستقبل کی تعمیر کی کلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بلوچستان میں ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو، خواہ اس کے خاندانی پس منظر یا مالی حالات کچھ بھی ہوں۔ گورنر بلوچستان نے بیف کی پوری ٹیم کو خصوصی ہدایت کی وہ بیف اسکالرشپ کی فراہمی میں میرٹ اور شفافیت کی پاسداری کو یقینی بنائیں تاکہ حق حقدار تک پہنچ سکیں. اب بھی بلوچستان کے ہزاروں طلباء وطالبات بیف کے ذریعے دستیاب مواقعوں کے بارے میں ناخبر اور ناواقف ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ بیف اسکالرشپ اور تعلیمی اسکیموں کے سے متعلق عوامی بیداری کی بھرپور آگہی مہم چلائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر132/2025
کوئٹہ 7 جنوری:۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے آج گورنر ہاوس کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کے رکن مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے ملاقات کی. ملاقات میں بلوچستان کے عوام کو درپیش معاشی چیلنجز بشمول مہنگائی، بیروزگاری اور افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت سے متعلق عوامی مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا. گورنر بلوچستان نے وفد کو یقین دلایا کہ عوامی شکایات کو دور کرنے اور شہریوں کے وقار و عظمت کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے تمام متعلقہ حکام کو بہت جلد آگاہ کیا جائیگا۔ گورنر بلوچستان جعفرخان نے عدل و انصاف پر مبنی ایک ایسا معاشرہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جہاں تمام شہری عزت اور احترام کے ساتھ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر بالخصوص سرحدی تجارت کو موثر بنانے، بیروزگار نوجوانوں کیلئے روزگاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کی پاسداری کو یقینی بنانے سے نہ صرف احساس محرومی کا خاتمہ ہوگا بلکہ تمام شہریوں کے مجموعی معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر133/2025
اسلام آباد، 07 جنوری:۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے منگل کو یہاں سندس فاونڈیشن کے ڈائریکٹر ائروائس مارشل (ریٹائرڈ) آفتاب حسین نے ملاقات کی اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں سندس فاونڈیشن کی سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہ کیا ملاقات کے دوران بلوچستان میں سندس فاونڈیشن کی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع کرنے اور پسماندہ علاقوں میں تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا سمیت خون کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لئے سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سندس فاونڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس فاونڈیشن نے خون کی بیماریوں کے علاج میں قابل ذکر کام کیا ہے جس سے لاکھوں غریب افراد کو فائدہ ہوا ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں سندس فاونڈیشن کا مرکز قائم کرنے کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحت کے نظام کو بہتر بنایا جاررہا ہے اس مقصد کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنے جاررہے ہیں جس سے عام بلوچستانی کو اس کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات میسر آئیں گی وزیر اعلیٰ نے مفاد عامہ کے امور میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ملاقات کے دوران سندس فاونڈیشن کے ڈائریکٹر آفتاب حسین نے بلوچستان میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی سنجیدگی اور پختہ عزم کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ سندس فاونڈیشن بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں اپنی خدمات بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر134/2025
کوئٹہ 7جنوری ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبائی نارکوٹکس کنٹرول کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ شہاب علی شاہ، سیکرٹری ایکسائز ظفر علی بخاری، سیکرٹری سوشل ویلفیئر، سیکرٹری صحت، اینٹی نارکوٹکس فورس، پولیس، ایف سی، کسٹم کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ نارکوٹکس کنٹرول کمیٹی کا بنیادی مقصد منشیات سے متعلق مسائل کا حل تلاش کرنا اور معاشرے کو اس خطرناک لعنت سے بچانا ہے۔ منشیات کی روک تھام کے لیے عوام میں آگاہی پھیلانا، نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرنا اور تعلیمی پروگراموں کا انعقاد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سرحدوں پر سخت نگرانی کرے گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر اس انسان دشمن عمل کو روکنا ہوگا۔ کمیٹی منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے پروگرام بھی چلائے گی تاکہ وہ دوبارہ ایک باعزت شہری کی طرح معاشرے میں شامل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نارکوٹکس کنٹرول کمیٹی کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ منشیات کا استعمال نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کو تباہ کر سکتا ہے، منشیات کی وجہ سے جرائم، بیماریاں اور معاشی نقصانات بڑھتے ہیں، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات اٹھانا انتہائی ضروری ہے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ سول سوسائٹی، قبائلی عمائدین، علماء کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس ناسور کو معاشرے سے ختم کرنے میں حکومت کے ساتھ تعاون کرے، منشیات کے خلاف آواز اٹھائیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کر کے اس عفریت کے خاتمے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ صوبے کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ طلباء و طالبات کو اس لعنت سے تحفظ ہو۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں نے تفصیلی بریفنگ دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر135/2025
حب 7جنوری ۔ محتسب اعلی بلوچستان ایڈوکیٹ نذرمحمد بلوچ ریجنل ڈائریکٹرانوارالحق ملک اورڈائریکٹر انویسٹی گیشن نوالامین زہری کے ہمراہ ضلع حب دورے پر پہنچ گئےمحتسب اعلی بلوچستان نے ضلع حب آمد پر عوامی حلقوں کی شکایت ہر حب سٹی میں ٹریفک مسئلےکا نوٹس لیتے ہوئےمحتسب اعلی نےایس پی حب سے ٹریفک ایشو پر میٹنگ کاانعقادکیاایس پی حب محمد معروف عثمان نے محتسب اعلی ایڈوکیٹ نذرمحمدکو بریفنگ میں بتایا کہ صنعتی شہر حب میں ہیوی ٹریفک کی انٹریروکنے کیلئے ٹریفک پلان تیارکرلیا ہےمیونسپل کارپوریشن کے تعاون سے شہر میں ہیوی ٹریفک روک تھام کی کیلئے بیریئر لگارہے ہیں سٹی میں ہیوی ٹریفک انٹری کےاوقات کارمقررکردیے ہیں محتسب اعلی نے ایس پی حب محمد معروف عثمان کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹریفک پلان منیجمنٹ کے حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس کی کاوشیں لائق تحسین ہیں بعدازآں محتسب اعلی نے 50بیڈڈ سوشل سیکیورٹی ہسپتال میں جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا ایم ایس 50بیڈڈ سوشل سیکیورٹی ہسپتال ڈاکٹر شاہ بانو اورڈپٹی ڈائریکٹر لیاقت نے بریفنگ میں بتایا کہ سوشل سیکیورٹی ہسپتال میں ایمبولینس فنکشنل ادویات موجوداورہسپتال میں رنگ وروغن کا کام جاری ہےگزشتہ دنوں صوباءوزیرمیر علی حسن زیری نےسوشل سیکیورٹی حکام کودیے گئے احکامات پر عملدرآمد جاری یے کمشنر سوشل سیکیورٹی قادربخش پرکانی سوشل سیکورٹی ہسپتال آنےوالے محنت کشوں کے بنیادی مطالبے ہر پی سی آر لیب قیام کیلئے کوشاں ہیں ہسپتال میں دیگر تمام لیب ٹیسٹ ہوریے ہیں ایکسرے مشینری کی مرمت اورنئے مشینری فراہمی کیلئے کوششیں جاری ہیں محتسب اعلی بلوچستان ایڈوکیٹ نذرمحمد بلوچ نے کہا کہ ضلع حب کے انڈسٹریل زون میں ہزاروں محنت کش علاج معالجے کیلئے سوشل سیکیورٹی ہسپتال کا رخ کرتے ہیں محنت کشوں کو ایمرجنسی حالات میں کراچی ریفر کرنے کے بجائے یہاں بنیادی سہولیات فراہم ہونی چاہیے عوام کے ٹیکس اور سی ایس آر کا پیسہ سوشل سیکورٹی یسپتال پر خرچ ہوناچاہیے اس سلسلے میں محنت کشوں کے شکایات کی دادرسی کیلئے ادارہ محتسب محنت کلیدی کرداراداکریگی صوباءمحتسب نے دورے کے موقع پر لیڈاحکام سے بھی میٹنگ کی اورسی ایس آر پر عملدرآمد کے حوالے سے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن لیڈاعلی بخش بزنجو اورجی ایم گلزارگچکی سے بریفنگ لی محتسب اعلی نے سوشل سیکورٹی ہسپتال میں پانی کے ایشواوردیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا متعلقہ حکام کو احکامات جاری کئے*
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر136/2025
لاہور07 جنوری۔ :بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز(ایف پی سی سی آئی) کے چیئرمین پالیسی ایڈوائزری بورڈ میاں زاہد حسین کے ہمراہ پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب سے ملاقات کی، اس موقع پر بلال کاکڑ نے انہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کواسلام آباد میں 27اور 28جنوری کو FPCCI کے تعاون سے ہونیوالی بلوچستان بزنس سمٹ میں شرکت کی دعوت دی، مریم اورنگزیب نے دعوت قبول کرتے ہوئے حکومت پنجاب کی جانب سے بھرپورتعاون کا یقین دلایا، انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہمارے دلوں میں رہتا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت ہے کہ بلوچستان کے عوام اور حکومت کو ہر طرح سے سپورٹ کیا جائے اورہماری حکومت بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کی جانیوالی کاوشوں میں اپنی جانب سے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے حکومت پنجاب کی جانب سے بلوچستان میں جھینگے،کیکڑے اور مچھلی کی فارمنگ سمیت بلیو اکانومی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا بھی اظہار کیا۔ بلال خان کاکڑ نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ہمارا بڑا بھائی ہے اور ہم نے مل کر پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرنا ہے، ہم بلوچستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے بے شمار اقدامات کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان کی ترقی کا راستہ بلوچستان سے ہو کر جاتا ہے، یہ صوبہ خطے میں ایک تجارتی گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، بلوچستان کی ترقی میں پنجاب کے تعاون اور سپورٹ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس موقع پر میاں زاہد حسین نے بتایا کہ FPCCI ڈسٹرکٹ اور سیکٹورل ایکانومی پر ریسرچ کر رہی ہے۔ مریم اورنگزیب نے اس پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت پنجاب اس سلسلے میں ایف پی سی سی ائی سے مکمل تعاون کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Lahore, January 7: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment (BBoIT), Bilal Khan Kakar, along with Chairman of the Policy Advisory Board of the Federation of Pakistan Chambers of Commerce and Industries (FPCCI), Mian Zahid Hussain, met with Punjab’s Senior Provincial Minister Maryam Aurangzeb. During the meeting, Bilal Kakar extended an invitation to her and Punjab Chief Minister Maryam Nawaz Sharif to attend the Balochistan Business Summit scheduled to be held in Islamabad on January 27 and 28.Maryam Aurangzeb graciously accepted the invitation and assured full cooperation from the Punjab government. She stated that “Balochistan resides in our hearts, and Chief Minister Maryam Nawaz has directed us to fully support the people and government of Balochistan in every possible way. Our government will take all necessary steps to contribute to the efforts being made to promote investment in Balochistan.”She also expressed the Punjab government’s interest in investing in shrimp, crab, and fish farming as part of the blue economy sector in Balochistan.Bilal Khan Kakar thanked her for her support, stating, “Punjab is our elder brother, and together, we must work for the development and prosperity of Pakistan. We are taking numerous steps to promote investment and business activities in Balochistan because Pakistan’s development is intrinsically linked to Balochistan. This province serves as a trade gateway for the region, and we greatly value Punjab’s cooperation and support in the development of Balochistan.”On this occasion, Mian Zahid Hussain said that
FPCCI is doing research on district and sectoral economy. Maryam Aurangzeb expressed deep interest in this and said that Punjab government will fully cooperate with FPCCI in this regard.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر137/2025
گوادر، 6 جنوری۔: ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) شفقت انور شاہوانی کی سربراہی میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد گوادر میں جاری رہائشی منصوبوں اور ہاو¿سنگ اسکیمز کی ترقیاتی پیشرفت کا جائزہ لینا تھا۔ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے ترقیاتی کاموں کی سست روی پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے تمام منصوبہ مالکان کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر تعمیراتی سرگرمیاں شروع کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ الاٹیز اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کی جائے۔ شفقت انور شاہوانی نے
کہا، “جی ڈی اے گوادر میں سرمایہ کاری کے لیے ضامن کے طور پر کام کر رہا ہے، اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال اور برقرار رہے۔” انہوں نے 2025 کو “گوادر کا سال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال گوادر کے تین اہم منصوبے، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ، اور اسپیشل اکنامک ڈسٹرکٹ پر کام کا آغاز متوقع ہے، جو علاقے کی ترقی کو ایک نئی جہت دیں گے۔ اجلاس میں سابق سینیٹر کہدہ بابر نے بھی شرکت کی اور گوادر کی ترقی کے لیے حکومتی سطح پر سرمایہ کاروں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ بلڈرز نے اجلاس کے دوران ترقیاتی کاموں میں درپیش مشکلات بیان کیں، جن کے فوری حل کے لیے ڈائریکٹر جنرل نے متعلقہ معاملات جی ڈی اے کے دائرہ اختیار میں آنے والے مسائل کو حل کرنے اور دیگر مسائل کو حکومتی فورمز پر اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں آباد کے کوآرڈینیٹر برائے گوادر ریجن، افنان قریشی، کرنل (ریٹائرڈ) مقبول آفریدی، اور جی ڈی اے کے ڈائریکٹر ٹاو¿ن پلاننگ شاہد علی سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ بلڈرز نے سماجی ذمہ داریوں کے تحت گوادر میں لائبریری کے قیام کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کی۔ اجلاس نہ صرف گوادر میں ترقیاتی کاموں کے فروغ کے لیے بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھنے اور گوادر کی مجموعی ترقی کو تیز کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر138/2025
جعفرآباد7جنوری ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد اظہر شہزاد کی زیر صدارت آج ایک ریونیو افسران و اہلکاران کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ اللہ یار فہد شبیر چیمہ، تحصیلداران، پٹواریوں قانون گوز سمیت دیگر افسران نے شرکت کی ، اجلاس میں ریونیو ریکارڈ ،گورنمنٹ کے بقایاجات، آبیانہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی، کے حوالے سے تفصیل کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کو آگاہی فراہم کی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ پٹواری قانون گوز و دیگر عملہ ڈپٹی کمشنر آفس میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان اہلکاران کے توسط سے تمام سرکاری امور چلائے جاتے ہیں اس لئے آپ کو چاہیے کہ آپ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ہرگز نہ کریں ڈپٹی کمشنر نے تمام ریونیو کے متعلقہ آفیسران و اہلکاروں کو سختی سے ہدایات دیں کہ وہ گورنمنٹ کے بقاجات کی وصولی کو ہر صورت یقینی بنائیں دیئے گئے اہداف کو ہر ممکن پورا کریں سستی کا مظاہرہ ہرگز ناقابل برداشت عمل ہے اس لیے اپنے کام بروقت مکمل کریں جو ذمہ داری حکومت کی جانب سے عائد کی گئی ہے ان پر من وعن سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں دفتری امور کے معاملات کو بہتر بنانے کیلئے اپنی کاوشیں بروئے کار لائیں جو ذمہ داریاں آپ پر عائد ہیں ان کو ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیں کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی مزید کہا کہ جمعہ بندیاں کمپیوٹرز ھو رہی ہیں مگر کچھ حلقوں کی جمعہ بندیاں کمپیوٹر سسٹم میں شامل نہیں ہیں ان کو بروقت مکمل کرکے دیں تاکہ ضلع بھر کی زمین کا ودیگر ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ھو جائے اسی دوران انہوں نے کمپیوٹر انچارج کو سختی سے تنبیہ کی کہ وہ تمام فرد و دیگر ریونیو ریکارڈ کو درست معنوں میں رکھیں اور جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں غیر ذمہ دارانہ فعل کو برداشت نہیں کیا جائے گا ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ تمام زمین کے انتقالات و دیگر ریکارڈ درست و مکمل ھونا چاہیے تاکہ عوام کو زمین کے ریکارڈ و فرد کے حصول کے حوالے سے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ہم سب کا بنیادی مقصد ھونا چاہیے عوام کو سہولیات فراہم کرنا اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہے نہ کہ ان کے لیے مشکلات اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے حصے کا کام نہایت ایمانداری حب الوطنی کے ساتھ سرانجام دیں غفلت برتنے والے افسران و اہلکاران کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر139/2025
کوئٹہ 7 جنوری ۔ : ایسوسی ایشن آف انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ بلوچستان (AID) اور نیشنل انڈونمنٹ فار ڈیموکریسی (NED) کے زیر اہتمام صوبائی محکموں کے پبلک انفارمیشن آفیسرز اور پبلک اکاونٹیبلٹی فورم کے حکام کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کی عملداری اور اس ایکٹ کے بارے میں معلومات اور اس کے قانونی تقاضوں کے حوالے سے ایک روزی ٹرینگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈ بلوچستان کے چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر عادل جہانگیر ، سینئر سیاستدان اور نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر اسحاق بلوچ ، ایڈ بلوچستان کے ایم اینڈ ای اسپیشلسٹ میر بہرام لہڑی ، سینئر صحافی اور ایڈ بلوچستان کے ماسٹر ٹرینر میر بہرام بلوچ ، رائٹ ٹو انفارمیشن کے قوانین سے متعلق ایکسپرٹ ایڈوکیٹ عبدالجبار خان، اور ماسٹر ٹرینر عبدالباری سمیت مقررین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں حق معلومات ( رائٹ ٹو انفارمیشن) کے قانون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہ کہ یہ قانون عوام کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے جو شفافیت، جوابدہی، اور عوامی شرکت کو یقینی بناتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان رائٹ ٹو
انفارمیشن ایکٹ 2021 نے شہریوں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ حکومتی اداروں سے معلومات حاصل کر سکیں، جو بدعنوانی کے خاتمے اور بہتر حکمرانی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون نہ صرف جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے بلکہ عوامی وسائل کے منصفانہ استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کو بھی یقینی بناتا ہے۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آر ٹی آئی کے مو¿ثر نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو اس قانون کے بارے میں مکمل آگاہی دی جائے، اور اداروں کی صلاحیت کو بڑھایا جائے تاکہ وہ بروقت اور درست معلومات فراہم کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان اور متعلقہ ادارے رائٹ ٹو انفارمیشن کے قانون کو مزید فعال بنانے کے لیے اقدامات کریں، جس کے لیے عوامی آگاہی مہمات چلائیں، اور انفارمیشن کمیشن کو مکمل طور پر فعال کریں تاکہ شہریوں کے مسائل فوری طور پر حل ہو سکیں۔ مقررین نے کہا کہ عوامی شرکت اور شفافیت کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ حقِ معلومات کا استعمال ہمیں اس راستے پر گامزن کرے گا جہاں بلوچستان کے شہری اپنی حکومت پر مکمل اعتماد کر سکیں اور ایک روشن مستقبل کی جانب بڑھ سکیں۔ تقریب کے اختتام پر شرکائ میں اسناد بھی تقسیم کیے گئے۔س۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿