
کراچی(اسٹاف رپورٹر) کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے ایم ڈی واٹر کارپوریشن صلاح الدین کے خلاف تحقیقات اور ان کو ذمہ داری ادا کرنے سے روکنے کے احکامات پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن اور نا اہلی نے کے ایم سی اور سندھ حکومت کے ماتحت چلنے والے تمام محکموں کو تباہ و برباد کر دیا ہے، سندھ میں کرپشن کے سسٹم نے ناسور کی شکل اختیار کر لی ہے، کراچی کی میئر شپ پر ناجائز تسلط اور قبضہ کرنے والے مرتضیٰ وہاب واٹر کارپوریشن کے چیئر مین ہیں، کسی ادارے یا محکمے کی ایک افسر کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کے بجائے اداروں کے سربراہ اور کرپشن کے سسٹم کو چلانے اور اسے تحفظ دینے و سرپرستی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان سب کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر بلدیات سعید غنی اور قابض میئر مرتضی وہاب کے گرد ہر محکمہ میں بڑے پیمانہ پر کرپشن کے چرچے ہیں جس کے نتیجے میں کے ایم سی بدنامی کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے اور ایک ناکام ادارہ بن گئی ہے۔قابض میئر کے ماتحت واٹر بورڈ کے سی ای او کو تو کرپشن کے الزام میں معطل کردیا گیا ہے لیکن ان کے ماتحت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پر بھی بدترین کرپشن کے الزامات ہیں، اسی طرح کراچی میں اربوں روپے کے ترقیاتی کاموں میں کرپشن اور ناقص کاموں کے الزامات کی بھر مار ہے، کے ایم سی کا دفتر ہو، ڈی جی ٹیکنیکل سروس یا کلک، ہر جگہ اربوں روپے کی لوٹ مار کے الزامات ہیں،اس سلسلے میں مختلف اداروں اور افراد کی طرف سے عدالتوں میں کیے گئے مقدمات میں بھی بے قاعدگیاں اوربدعنوانیاں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں لیکن مقتدر طبقہ ہر چیز سے واقف ہو کر بھی کراچی کی تباہی پر خاموش ہے، انہوں نے کہا کہ گٹر میں گر کر بچوں کی اموات بھی کرپشن اور نا اہلی کی وجہ سے ہیں، اربوں روپے شہر میں خرچ کرنے کے دعوؤں کے باوجود اگر گٹروں پر ڈھکنے بھی نہ لگ سکیں تو ایف آئی آر متعلقہ اداروں کے سربراہ اور ذمہ داروں کے خلاف درج ہونی چاہیئے۔
=======================
اہل کراچی کےلیے بڑی خوشخبری، ٹریفک جام سے چھٹکارے میں بڑی پیش رفت
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ملیر ایکسپریس وے کے پہلے حصے کا افتتاح 11 جنوری کو کریں گے
کورنگی کاز وے سے شاہ فیصل تک کی ابتدائی 9.1 کلومیٹر کی پٹی افتتاح کےلیے تیار
ٹول پلازہ پر چھوٹی گاڑیوں سے 100 روپے اور بھاری گاڑیوں سے 200 روپے وصول کیے جائیں گے
شاہ فیصل انٹرچینج سے شاہ فیصل کالونی پل تک کا حصے نو پارکنگ زون قرار
ایکسپریس وے پر موٹرسائیکلوں اور رکشوں پر پابندی عائد
کراچی ( 7 جنوری )اہل کراچی کےلیے بڑی خوشخبری، نقل و حرکت میں بہتری اور ٹریفک جام سے بچنے کےلیے اہم پیش رفت ، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ منفرد ہائی اسپیڈ کوریڈور ملیر ایکسپریس وے کے پہلے حصے کا افتتاح 11 جنوری کو کریں گے۔
کورنگی کاز وے سے شاہ فیصل تک کی ابتدائی 9.1 کلومیٹر کی پٹی کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی بہتری میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس سے بہتر رابطہ اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
افتتاح کا فیصلہ نیو سندھ سیکریٹریٹ میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں منصوبے کی حتمی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر بلدیات سعید غنی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید اوڈھو، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ملیر ایکسپریس وے نیاز سومرو نے اجلاس میں شرکت کی۔
ملیر ایکسپریس وے سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت بننے والا سندھ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ یہ جدید سہولیات سے لیس تین رویہ دو طرفہ سڑک ہے۔ تقریباً 40 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے کورنگی کریک ایونیو (ڈی ایچ اے) کو ایم-9 موٹروے (سپر ہائی وے) کے قریب کاٹھوڑ کے مقام پر جوڑتا ہے۔ یہ مسافروں کے لیے ایک اہم رابطہ فراہم کرتا ہے اور سفر کا وقت نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔
جدید خصوصیات اور رابطہ
ایکسپریس وے میں کلیدی رہائشی اور تجارتی علاقوں تک آسان رسائی کے لیے خصوصی انٹرچینجز شامل کیے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ٹریفک کے تیز بہاؤ کے لیے ایک ریمپ شامل کیا گیا ہے، جس کے ساتھ کورنگی سے ایک کنیکٹنگ فلائی اوور بھی بنایا جائے گا، جو دو ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے۔
جام صادق انٹرچینج ، ای بی ایم اور شاہ فیصل انٹرچینجز کے روڈ بحالی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ قائدآباد انٹرچینج پر تجاوزات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور تعمیرات جاری ہیں۔
ٹول ٹیکس اور سیکیورٹی اقدامات
ٹول پلازہ ٹریفک کی روانی کو منظم کرے گا، جہاں کاروں اور جیپوں سے 100 روپے اور بھاری گاڑیوں سے 200 روپے وصول کیے جائیں گے۔ سیکیورٹی اقدامات میں ٹریفک پولیس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 ایمبولینسز کے گشت شامل ہوں گے ۔ وزیراعلیٰ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جام صادق، ای بی ایم اور شاہ فیصل انٹرچینجز سمیت اہم داخلی اور خارجی پوائنٹس پر ضلعی اور ٹریفک پولیس تعینات کرنے کی ہدایت دی۔
ٹریفک پولیس ایکسپریس وے کے دونوں اطراف مسلسل گاڑیوں کے ذریعے گشت کرے گی۔ ایکسپریس وے پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹریفک پولیس موجود ہوگی۔
ٹریفک قوانین اور پابندیاں
وزیراعلیٰ نے شاہ فیصل انٹرچینج سے شاہ فیصل کالونی پل تک کے حصے کو نو پارکنگ زون قرار دیا ہے۔ ایکسپریس وے پر صرف کمرشل گاڑیوں، کاروں، جیپوں اور بسوں کو اجازت ہوگی جبکہ موٹرسائیکلوں اور رکشوں پر پابندی عائد ہے۔
مستقبل کی تبدیلی
ملیر ایکسپریس وے کراچی کی نقل و حمل کے نظام کو یکسر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے، جو رہائشی علاقوں اور تجارتی مراکز تک تیز رسائی فراہم کرے گا۔ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد ٹریفک جام میں کمی اور شہر بھر میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے موثر ٹریفک انتظامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حکام کو ہدایت دی کہ جاری کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے آپریشنل چیلنجز فوری طور پر حل کریں۔
عبدالرشید چنا
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ
=========================
کراچی
7 جنوری 2025
حکومت سندھ نے سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات درج کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے اور ان کا غیر مجاز استعمال کرنے والوں کو نامزد کرکے ایف آئی آرز کٹوائی جائیں گی۔
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے کفایت شعاری کا ایک اہم اجلاس سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے دفتر میں ہوا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر برائے بلدیات، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ، پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ سعید غنی، صوبائی وزیر برائے جیل خانہ جات و ورکس اینڈ سروسز علی حسن زرداری اور چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ، سیکریٹری جی اے محمد نواز سوہو نے شرکت کی۔
کمیٹی اجلاس میں حکومت سندھ کی متروکہ گاڑیوں کی نیلامی کا بھی فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں معزز ممبران نے اپنی سفارشات پیش کیں، اخراجات میں کمی یقینی بنانے کی تجاویز دیں۔
اجلاس میں سرکاری گاڑیوں کے استعمال، پیٹرولیم، آئل اور لبریکنٹس کے اخراجات کو کنٹرول کرنے اور بے کار گاڑیوں کی نیلامی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی ممبران نے حکام کو ہدایات دیں کہ گاڑیوں کی الاٹمنٹ اور ریگولیٹ کرنے کے لیے واضح رہنما خطوط پر عملدرآمد یقینی بنائی جائے۔
اجلاس میں نیلامی کا عمل شفاف بنانے اور حاصل ہونے والے فنڈز ترجیحی منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
اجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال کے روک تھام اور پی او ایل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے کی ضرورت ہے، بے کار گاڑیوں کی نیلامی مکمل طور پر شفاف بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔























