سندھ حکومت کے اچانک بڑے فیصلے و اقدام سے واٹر کارپوریشن میں کرپٹ مافیا پر بجلیاں گر گئیں ادھر کہا جارہا ہے کہ اس عمل سے کئی کرپٹ عناصر کے گرد قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے اور جلد بڑے پردہ نشین بے نقاب ہونگے


کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت نے ایم ڈی و چیف ایگزیکٹو واٹر کارپوریشن انجینیر سید صلاح الدین کو مزید فرائض منصبی اور آفس آنے سے فوری روک دیا جبکہ انکی جگہ فرائض منصبی عارضی طور پر چیف آپریٹنگ آفیسر کو تفویض کردیے گئے دوسری جانب اعلی حکام نے سب سوئل زیر زمین پانی سمیت دیگر سنگین الزامات کے تحت محکمہ اینٹی کرپشن کو 2 ہفتے میں متعلقہ افسران سے متعلق انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کردیں ادھر محکمہ واٹر کارپوریشن کے اہم اندرونی باوثوق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ حکومت کے اچانک بڑے فیصلے و اقدام سے واٹر کارپوریشن میں کرپٹ مافیا پر بجلیاں گر گئیں ادھر کہا جارہا ہے کہ اس عمل سے کئی کرپٹ عناصر کے گرد قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے اور جلد بڑے پردہ نشین بے نقاب ہونگے
===================

کراچی سب سوائل لائسنس کے اجراء اور پانی چوری کی تحقیقات کا حکم، ایم ڈی واٹر کارپوریشن کو کام کرنے سے روک دیا
06 جنوری ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی(اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں سب سوائل لائسنس کے اجرا اور اس کے نام پر پانی چوری کی تحقیقات کا حکم دے دیااتوار کو محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن کے جاری کردہ اعلامیےکے مطابق انکوائری کوشفاف اور غیرجانبدار رکھنے کے لئے سی ای او/ایم ڈی سید صلاح الدین احمد کو دفتر حاضر ہونے اور فرائض انجام دینے سے روک دیا گیا ہے تحقیقات مکمل ہونے اور فائنل فیصلے تک ان کی جگہ چیف آپریٹننگ آفیسراسد اللہ خان کوادارے کے امور کی دیکھ بھال کا چارج دیا گیا ہے سرکاری حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے انکوائری چیئرمین انکوائریزاینڈ اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ سندھ کریں گے اوردو ہفتے میں اپنی رپورٹ جمع کرائیں گے دریں اثنا یاد رہے کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل سی ای اوسید صلاح الدین احمد نےسب سوائل کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ 70 میں سے57لائسنس کو معطل کر کے کمیٹی میں نئے افراد کی تقرری کر دی گئی جبکہ جن کمپنیوں یا افراد کے لائسنس معطل کئے گئے تھے انہیں ادارے کے بورڈ کے پاس اپیل کا حق دے دیا گیاتاہم اس پر تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکاواضح رہے واٹر کارپوریشن کو زیر زمین پانی کے استعمال کےلئے لائسنس جاری کرنے اور لائسنس کے عوض فیس وصول کرنے کا اختیار ہےاصل بات تحقیقات میں سامنے آسکے گی کہ آیا ان کے اجرا یا اس کے استعمال میں کوئی بے قاعدگی ہوئی یا نہیں۔